دیتے رہو…… آتا رہے گا

دیتے رہو…… آتا رہے گا
دیتے رہو…… آتا رہے گا

  



یہ میرے بچپن کی بات ہے،جب میری عمر دس سال تھی، ایک روز جب مَیں مسجد سے نماز کی ادائیگی کے بعد باہر نکلا توقریب ہی کھڑی ایک بوڑھی عورت نے مجھے آواز دی اور کہا کہ بیٹا اِدھر آؤ۔ اس خاتون کی گود میں ایک بچہ کسی وجہ سے رو رہا تھا۔ اس خاتون نے مجھ سے کہا کہ بیٹا تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے آ رہے ہو، ایک بار درود شریف پڑھ کر اس بچے پر پھونک مار دو۔ اس خاتون کی بات سن کر مَیں کچھ لمحے کے لئے خاموش ہوا اور جواب میں کہا کہ اس بچے کو میرے پھونک مارنے سے کیا ہوگا؟ جس پر خاتون نے میری طرف انتہائی محبت اور شفقت سے دیکھا اور جواب دیا کہ اس بچے کو اللہ کے حکم سے تندرستی مل جائے گی۔ باقی نمازی بھی آئیں گے اور درود پاک پڑھ کر اس بچے پر دم کر دیں گے تو ان شاء اللہ یہ بچہ درود پاک کی برکت سے صحت یاب ہوجائے گا۔

یہ واقعہ میرے ذہن میں اس وقت سے اس طرح محفوظ ہوگیا ہے، جیسے نیک انسان کی نیک یاد رہ جاتی ہے۔ درود پاک کی اتنی فضلیت ہے کہ بیماروں کو شفا مل جاتی ہے۔ آج کل گلی محلوں میں ڈاکٹر صاحبان کے کلینکوں کے باہر لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں، لوگ گود میں بچوں کو لئے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ مجھے اب بھی یاد ہے ہمارے بچپن میں یہ قطاریں مساجد کے باہر لگی ہوتی تھیں۔ مغرب کی نماز کے بعد مرد و خواتین اپنے اپنے بیمار بچوں کو گود میں لئے نمازیوں کے انتظار میں کھڑے رہتے تھے۔ نمازی مسجد سے نماز کی ادائیگی کے بعد باہر نکلتے اور درود پاک پڑھ کر پھونک مار دیتے تھے۔ اس سارے عمل سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے بچے شفا یاب ہوجاتے تھے۔ اس حوالے سے جب بھی سوچتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کے پاک کلام کی برکت دیکھنے کو ملتی ہے۔ مَیں کبھی بھی کسی چائلڈسپیشلسٹ کے پاس نہیں گیا تھا، مائیں گھر میں استعمال ہونے والی اشیاء کے ٹوٹکے اور مسجد سے دم کروا کر ہمیں صحت یاب کروا لیتی تھیں، انٹی بائیوٹک ادویات استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی، جو بچوں کے لیے نقصان دہ بھی ہوتی ہیں۔

آپ ذرا غور کریں، صرف ایک نمازی کے پھونک مارنے سے بچے کیسے ٹھیک ہوجاتے تھے؟ گھروں میں خیر و برکت کیسے تھی؟ اس کی صرف ایک ہی بڑی وجہ تھی، گھر کے تمام افراد ایک دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے اور اپنے کھانے میں سے کچھ حصہ غریبوں میں تقسیم کرتے تھے یا کبھی اپنے پڑوس میں بھی کھانا بھجوا دیتے تھے،یہ وہ دور تھا جب گھر چھوٹے اور دل کشادہ تھے۔ تھوڑے میں بھی اچھی خاصی گزر بسر ہو جاتی تھی، تب ایک فرد کمانے والا اور پوری فیملی کھانے والی ہوتی تھی۔ گھروں میں مہمان آتے تو دل باغ باغ ہوجاتا اور بچے ان کی آمد پر خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ مہمانوں کو گھر کی رحمت تصور کیا جاتا تھا، گھروں میں سکون اور اطمینان تھا، لوگ سچے اور دل کے صاف ہوتے تھے، بڑوں کا احترام کیا جاتا تھا۔ جمعرات آتی تو کوئی ریوڑیاں بانٹ رہا ہوتا تو کوئی جلیبیاں تقسیم کررہا ہوتا تو کوئی میٹھے چاول بانٹنے میں مصروف ہوتا۔ لوگ ناپ تول میں بھی کوئی گڑ بڑ نہیں کرتے تھے، سبزی والا بھی بڑا فراخ دل ہوتا تھا، سبزی کے ساتھ پودینہ، دھنیہ یا سبز مرچیں ”تحفے“ کے طور پر دے دیتا تھا۔ قصاب اپنے ناپ تول میں اتنا ایماندار تھا کہ آدھا کلو گوشت سارے گھر والے کھا لیتے تھے، کریانے کی دکان پر دکاندار تولتے وقت چاول، دال، آٹا وغیرہ کچھ اضافی ڈال دیتا تھا، کبھی کم نہیں تولتا تھا۔ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں سالن اتنا دیتے تھے کہ دو سے تین لوگ پیٹ بھر کر کھا لیتے تھے۔ آج کل سب کچھ کمرشل ہوگیاہے، لوگ مادہ پرست ہوگئے ہیں، اگر کسی سے ایک کلو سودا خریدو تو 800گرام دیتا ہے۔500 گرام کے بجائے 400 گرام تولتا ہے، دکان دار وزن پورا تولتے ہی نہیں۔ ہر دکاندار کے الگ الگ ریٹ ہیں اور انہیں کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ہے۔

مصنوعی مہنگائی اور بے ایمانی نے جہاں لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے، وہاں ہمارا معاشرہ بھی تباہ ہوتا جا رہا ہے۔ معاشرے میں بے ایمانی اور کم تولنے کا عنصر غالب آگیا ہے، جس کی وجہ سے برکت کم ہوتی جا رہی ہے۔ معاشرے میں مادہ پرستی بڑھتی جارہی ہے۔ ہم اگر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی گزاریں اور ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تو ہماری زندگی کے معاملات میں خیرو برکت آجائے۔ ہمیں چاہیے جہاں پانی نہیں، وہاں پانی کا بندوبست کردیں۔ آپ کسی کے لیے کپڑوں کا بندوبست کرتے ہیں اور سردیوں میں کسی کے لیے لحاف کا بندوبست کرتے ہیں تو آپ کے گھر کی عزت کی چادر محفوظ رہے گی۔اللہ تعالیٰ کبھی آپ کے تن کے کپڑے کم نہیں ہونے دے گا۔ آپ علم کی روشنی بانٹیں، آپ کے علم میں اضافہ ہوگا۔صدقہ و خیرات کرکے تنگ دست لوگوں کی مدد کریں، اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی تنگی نہیں آنے دے گا۔ صدقہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کا نام ہے۔ جنتا آپ خرچ کرو گے، اس سے کئی گنا بڑھ کر آپ کو واپس ملے گا۔ غرض جو چیز بھی تقسیم کریں گے، وہ بڑھتی رہے گی۔ یاد رکھیں جس کنویں سے لوگ پانی نکالتے رہتے ہیں، اس میں پانی آتا رہتا ہے۔ جہاں لوگ پانی نکالنا چھوڑ دیتے ہیں، اس کنویں کا پانی سوکھ جاتا ہے۔ پانی میں بدبو پیدا ہوجاتی ہے…… جو لوگ مال کی تجوریاں بھر بھر کر رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں تقسیم نہیں کرتے، وہ مال یونہی رہ جاتا ہے، حتیٰ کہ صاحب مال دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ وہ سب مال وارثوں میں تقسیم ہوجاتا ہے جو بعد میں ہاتھ اٹھا کر دعا بھی نہیں مانگتے۔ بندے نے اللہ کی راہ میں جو مال خرچ کیا ہوتا ہے، اپنا اور اپنی اولاد کا صدقہ دیا ہوتا ہے، وہی ساتھ جاتا ہے، جو دنیا اور آخرت میں اس کی نجات کا باعث بنتا ہے۔ آپ تقسیم کرتے رہیں، آپ کا مال بڑھتا رہے گا۔ دنیا میں بھی کئی گنا اور آخرت میں بھی کئی گنا، یہ میرے خدا تعالیٰ کا اپنی بندوں کے ساتھ وعدہ ہے۔

مزید : رائے /کالم