ہٹلر مودی بھائی بھائی: پاک فوج زندہ باد

ہٹلر مودی بھائی بھائی: پاک فوج زندہ باد
ہٹلر مودی بھائی بھائی: پاک فوج زندہ باد

  



ہندوستان میں مسلم کشی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔تقسیم ہند سے پہلے تنگ نظر ہندو بر طانوی حکمرانوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف مورچہ زن ہوچکا تھا۔ آل انڈیا نیشنل کا نگریس کی تخلیق اور اس پر ہندوؤں کے غلبے نے مسلمانوں کے حوالے سے معاملات میں بگاڑ پیدا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ سرسید احمد خان نے مسلمانوں کو اس سے دور رہنے کی تلقین کی تھی۔شدھی اور سنگھٹن کی تحاریک بھی مسلمانوں کے خلاف ہی تھیں۔ پھر آ ر ایس ایس کی بنیاد ہی ہندوریاست کا احیا ء اور مسلم دشمنی پر رکھی گئی تھی۔دور ِ جدید میں یہ تمام منفی و تخریبی جذ بات بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمرانی کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔ مودی نے بھارتی وزارت عظمیٰ کا چارج سنبھالنے سے پہلے گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور پر جو مسلم کش پالیسیاں اختیار کیں اور مسلمانوں پر عملاً عرصہ حیات تنگ کر کے اور منظم قتل عام کر کے اپنے آپ کو ہندوتوا کا پرچار ک اور سیوک ثابت کر دیا، حتیٰ کہ ہندوؤں کی اکثریت نے اسے آئینی وزیراعظم بنا دیا۔ جہاں تک بھارتی آئین کا تعلق ہے تو وہ مکمل طور پر سیکولر، یعنی لادین ہے اور شہریوں میں مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کی تفریق کی اجازت نہیں دیتا،لیکن مودی سرکار نے دوسری مرتبہ اقتدار میں آکر 5اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر کی بھارتی آ ئینی پوزیشن کوبیک جنبش قلم ختم کیا، 9لاکھ سے زائد فوجیوں کی نگرانی میں کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کیا اور اسے بھاتی یونین میں شامل کرکے 80لاکھ کشمیری مسلمانوں پر عرصہئ حیات تنگ کر دیا۔

اس وقت سے پورے کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔ تعلیمی ادارے، کا روباری مراکز، پبلک سروس کے دیگر ادارے، ریاستی و نجی شعبے کی فعالیت،مکمل طور پر مفلوج کردی گئی ہے۔ ٹیلی کمیونیکیشن بشمول انٹر نیٹ و ٹیلی فون سروسز معطل ہیں، ضروریات زندگی کی نقل و حمل بھی بند ہے۔ بیرونی دنیا تو دور کی بات ہے، مودی سرکار اپنے شہریوں کو بھی کشمیر میں جاری صورت حال کے بارے میں بتانے سے گریزاں ہے۔ ابھی یہ معاملات جاری تھے کہ 11 دسمبر 2019ء کو مودی سرکار نے سٹیزن امینڈ منٹ ایکٹ 2019ء پارلیمنٹ میں پیش کرکے دنیا کو حیران کر دیا۔یہ سٹیزن ایکٹ 1955ء میں ترمیم کے ذریعے نافذکیا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہجرت کرنے والے ہندو، سکھ، بدھ، جین،پارسی اور عیسائی مذہب رکھنے والوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی،جو اقلیتی افراد 31دسمبر 2014ء تک بھارت میں داخل ہو چکے ہیں، وہ بھارتی شہریت کے حقدار ہوں گے۔

اس ایکٹ کے تحت ان اقلیتوں کو شہریت حاصل کرنے کے قواعد میں اور بھی نرمی کردی گئی ہے، انٹیلی جنس بیورو آف انڈیا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس ایکٹ کی منظوری سے 31 ہزار 3 سو 13مہاجروں کو فوری ریلیف ملے گا، جن میں 447،25ہندو، 5807، سکھ، 55 عیسائی، 2بدھ اور 2پارسی شامل ہیں، گویا یہ بل مذہبی تفریق اور منافرت پر مبنی ہے، اس لئے یہ بھارتی آئین کی روح کے خلاف ہے، لیکن مودی سرکار کہتی ہے کہ چونکہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان مسلم ممالک ہیں، جہاں اسلام غالب مذہب ہے، اس لئے یہاں مسلمانوں کے خلاف تو کارروائیاں نہیں ہوں گی، جبکہ دیگر اقلیتوں کو تحفظ دینے کے لئے یہ بل /ایکٹ منظور کیا گیا ہے۔ ایوان ِ بالا میں اس ایکٹ کے حق میں 125،جبکہ اس کی مخالفت میں 105 ووٹ پڑے۔ گویا ہندوستان کی ساری پارلیمنٹ اسے آئینی تصور کرتی ہے۔ اس بل کے پاس ہوتے ہی اس کے خلاف مختلف ریاستوں میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔ان مظاہروں میں صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ دیگر اقلیتیں بھی شامل ہیں۔ حکومت کی طرف سے ان مظاہرین پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں،سینکڑوں زخمی ہیں،لیکن مودی سرکارمن مانیوں پر تلی بیٹھی ہے۔

مذہبی منافرت کی بنیاد پر شہریوں کے درمیان تفریق کرنا کسی طور بھی درست نہیں ہے۔ دورِ جدید کی تاریخ میں ایڈولف ہٹلر نے نسلی و مذہبی بنیادوں پر اپنی پارٹی قائم کی اور جرمن قوم کو منظم کیا۔ یہودیوں کے خلاف مذہبی و نسلی منافرت کا پر چار کیا، جرمنوں کو اکٹھا کیا، جرمن قوم کے احیاء اور یہودیوں کے خاتمے کی بات کرکے اقتدار حاصل کیا۔ بالکل ایسے ہی، جیسے نریندرا مودی کی آر ایس ایس، ہند و توا، یعنی ہندو ازم کے احیاء اور مسلمانوں کی نسل کشی کے نعرے پر اقتدار میں آئی ہے۔ جب ہٹلر اقتدار میں آیا تو اس نے یہودیوں کی منظم نسل کشی کی ابتداء کی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہودیوں کو گیس چیمبروں میں لے جاکر ہلاک کیا جاتا تھا۔ اجتماعی اموات کے ذریعے یہودی نسل کے خاتمے کی کا وشیں کی گئیں۔ ایک انداز ے کے مطابق ہٹلر کی اس یہودی نسل کش تحریک میں 60لاکھ یہودی مارے گئے۔دنیا نے ہٹلر کا راستہ نہیں روکا، وہ اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے میں مصروف رہا،حتیٰ کہ اس نے پوری دنیا کو دوسری جنگ ِ عظیم کی بھٹی میں جھونک دیا۔ اس جنگ میں ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں، کروڑوں انسان ہلاک اور مجروح ہوئے، پوری ایک نسل برباد ہوگئی۔ نریند را مودی بھی ایسا ہی کر رہا ہے۔ ہندوستان میں بسنے والے 200ملین سے زائد مسلمانوں کی زندگیاں شدید خوف و ہراس میں گھِر چکی ہیں، دیگر اقلیتیں بھی خوف کا شکار ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے 80لاکھ سے زائد مسلمانوں پر عملاًعرصہئ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ ان کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے منصوبے پر عمل شروع ہو چکا ہے، ایسے ہی ہو رہا ہے، جیسے اسرائیلیوں نے فلسطین میں رہنے والے عرب مسلمانوں کو ان کی سر زمین میں اقلیت بنادیا ہے۔ یہ عمل اب کشمیرمیں مسلمانوں کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے۔ دنیا بھارتی مسلمانوں، اقلیتوں اور کشمیری مسلمانوں کی آواز پر دھیان نہیں دے رہی ہے۔

بھارت ایک بہت بڑی جمہوری ریاست ہے،اس کا ایک سیکولر آئین ہے، سستی لیبر ہے، بہت بڑی مارکیٹ ہے، اس کی کثیر آبادی پڑھی لکھی ہے، دورِ جدید کے نفع بخش فنون سے آراستہ ہے، دنیا کی بڑی بڑی کا ر پوریشنیں یہاں کا روبار کرتی ہیں،یہاں اپنی اشیاء بیچتی ہیں۔ ہندو سرکار کی ڈپلومیسی اور سیاست کے باعث اقوام عالم میں ہندوستان کی وقعت ہے، جبکہ ہم چونکہ مسلمان ہیں اور ہم پر دہشت گردی کا الزام بھی ہے، ہماری سیاست و سفارت بھی کمزور ہے،جس کے باعث ہماری آواز زیادہ موثر نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار مسلمانوں کے خلاف ہے۔ مذہبی بنیادوں پر ان کی نسل کشی کے لئے بڑی مستعدی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ آر ایس ایس دنیا کی سب سے بڑی پر ائیو یٹ ملیشیا ہے،جو بی جے پی کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف آگے بڑھ رہی ہے، کشمیر یوں کے خلاف مسلح کا رر وائیاں عام ہیں۔ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی سرگرمیوں کو سرکاری پشت پناہی بھی حاصل ہوگئی ہے اور وہ کھل کر نسل کشی کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم، وزیر خارجہ با ر ہا دنیا کو متنبہ کر چکے ہیں کہ مودی سرکار لائن آف کنٹرول پر سرگرمیاں بڑھارہی ہے۔ ملٹری ہارڈ وئیر کی ترسیل ان کے جارحانہ عزائم کی نشاندہی کر رہی ہے۔

بھارت پاکستان کے خلاف کچھ کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس آر نے بھی ایسی باتوں کی نشاندہی کی ہے۔ وزارت خارجہ، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو کئی خط لکھ چکی ہے کہ بھارت کو اس کے جارحانہ اقدامات سے باز رکھنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں، لیکن کو ئی مثبت جواب نہیں ملا۔ ہمارے سا لارِ اعلیٰ جنرل قمر باجوہ بتا چکے ہیں کہ بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔اس وقت ایسی ہی صورت بنتی جا رہی ہے، جیسی دوسری جنگ ِ عظیم سے پہلے ہٹلر کے جرمنی کی تھی۔ہٹلر کی نازی پارٹی، یہودیوں کی نسل کشی کے لئے مستعد تھی، انہیں ختم کرنے کے منصوبے روبہ عمل تھے،ان سے شہری حقوق چھینے جا رہے تھے،دنیا آنکھیں و کان بند کئے ہوئے تھی، جس کے باعث ہٹلر کو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے شہ ملتی گئی، حتیٰ کہ وہ دنیا کو جنگ عظیم کی طرف لے گیا۔اس وقت بھی ایسی ہی صورت حال ہے۔ دوایٹمی ریاستیں مد مقابل ہیں۔ پاکستان گو چھوٹا ملک ہے،لیکن پورے قد کاٹھ کے ساتھ فاشسٹ مودی سرکار کے عزائم کے مقابل کھڑا ہے۔ ہماری مسلح افواج اپنے معیار اور دفاعی صلاحیت میں کسی طور بھی ہندو افواج سے کم نہیں ہیں۔ ہماری حکومت با ر ہا اقوام عالم کو متنبہہ کر چکی ہے کہ بھارتی سرکار جارحانہ عزائم رکھتی ہے اور ہم اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کھڑے ہیں۔ صورت حال کشیدگی کی طرف بڑھتی چلی جا رہی ہے، ٹکراؤ کی طرف جا رہی ہے ……دو ایٹمی ممالک کا ٹکراؤ۔ اللہ خیر کرے۔

مزید : رائے /کالم