سچ اور جھوٹ کا ملاکھڑا کب تک؟

سچ اور جھوٹ کا ملاکھڑا کب تک؟
سچ اور جھوٹ کا ملاکھڑا کب تک؟

  



بحث یہ نہیں کہ وزیر مملکت شہریار آفریدی اور اینٹی نارکوٹکس فورس والے سچ بول رہے ہیں یا رانا ثناء اللہ؟ اصل نکتہ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں سچ کبھی سامنے آتا ہی نہیں۔یہ آج کا مسئلہ تو ہے نہیں،اس میں تو72 سالہ تاریخ کی کہانیاں موجود ہیں۔آج کا دور تو سی سی ٹی وی کیمروں اور موبائل فوٹیج کا دور ہے،مگر سچ پھر بھی کہیں اوجھل ہو جاتا ہے۔پی آئی سی حملے کو پوری قوم نے براہِ راست دیکھا، سب کے چہرے بھی نظر آتے رہے،مگر اب کہا جا رہا ہے کہ بیشتر پکڑے جانے والوں کی شناخت نہیں ہو سکی، سو انہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔ خیر یہ بھی کوئی تنا بڑا مسئلہ نہیں۔ماڈل ٹاؤن میں جو قتل و غارت گری ہوئی، جس طرح خواتین کے منہ پر بندوقیں رکھ کر گولیاں ماری گئیں، لاشے گرے اور صاف دیکھا گیا کہ گولی کون چلا رہا ہے،قتل کون ہو رہا ہے؟ مگر جب حقیقت جاننے کی نوبت آئی تو سب کچھ دھندلا گیا۔ نہ تو کسی نے ذمہ داری قبول کی اور نہ ہی کسی پر ڈالی گئی۔ایک سامنے کا سچ پردے کے پیچھے چھپ گیا۔ سو یہ کوئی نئی بات تو نہیں کہ رانا ثناء اللہ سے 15 کلو ہیروئن برآمدگی کا کیس اُلجھ گیا ہے۔ رانا ثناء اللہ قرآن اُٹھا کر اپنی بے گناہی کا ثبوت دے رہے ہیں اور وزیر مملکت شہریار آفریدی قسمیں کھا کر کیس کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسے میں سچ کون سامنے لائے گا اور کیسے سامنے آئے گا؟

ابھی ایک روز پہلے ہی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی برسی منائی گئی، بارہ سال ہو گئے دن دیہاڑے ہونے والے اس قتل کا راز سامنے نہیں آیا۔ کیمرے اُس وقت بھی لگے ہوئے تھے اور منظر اُس وقت بھی ہزاروں آنکھیں دیکھ رہی تھیں،مگر جو دھندلاہٹ طاری ہوئی،وہ آج تک ختم نہیں ہوئی۔نعرے آج بھی وہی لگتے ہیں ……”بی بی ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں“…… المیہ یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اُن کے صدقے پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی، مگر اپنے پانچ سالہ دور میں اس قتل کا سراغ نہ لگا سکی۔یہاں پولیس اندھے قتل کا سراغ تو بآسانی لگا لیتی ہے،لیکن سامنے ہونے والے اس قتل کا سچ آج تک سامنے نہیں آیا۔ ہر طرف سچ کا قحط پڑا ہے۔ جیسے بھوسے کے ڈھیر سے سوئی نہیں ملتی، اُسی طرح یہاں سچ بھی گم ہو جاتا ہے۔مَیں سوچتا ہوں کہ 72 سال میں ہم نے سچ چھپانے کی کوششیں نہ کی ہوتیں،تو آج ہم اس حال میں نہ ہوتے۔ملک کا پہلا وزیراعظم قتل ہوا تو قاتل کو موقع پر ہی مار دیا گیا، لہٰذا کہانی کھلنی تھی، نہ کھلی۔

ملک دو لخت ہوا، کمیشن بنا اُس نے جو رپورٹ دی، نجانے اُس میں کتنا سچ اور کتنا جھوٹ تھا، مگر اُسے دبا دیا گیا۔سچ کو چھپانے والی قوم کا درجہ ہمیں کس نے دیا،کس نے یہ فیصلے کئے کہ قوم سے سچ کو چھپانا ہے،کون اس جھوٹی تاریخ کو آگے بڑھاتا رہا؟ملک میں جتنے بھی مارشل لاء لگے اُن کے بارے میں کتنا سچ سامنے آیا ہے،ہر طرف ابہام ہے،اپنے اپنے دلائل ہیں …… ناکام کون ہوئے سیاست دان یا جارحیت کی جرنیلوں نے، کوئی یہ سچ سامنے نہیں لا سکا۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک مارشل لاء کے نتیجے میں تختہ ئ دار پر لٹکا دیئے گئے۔ بظاہر وہ قتل کے مقدمے میں پھانسی چڑھے،مگر بعدازاں خود ججوں نے اسے جوڈیشل مرڈر قرار دیا،جو اُس وقت کے آمر کی خواہش پر کیا گیا،لیکن تاریخ کے اس باب کو ابھی تک درست نہیں کیا جا سکا،بالکل اُسی طرح جیسے آج تک ملک ٹوٹنے کے اسباب اور ذمہ داروں کا تعین نہیں ہو سکا۔ہم اپنی نئی نسلوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ایک مشرقی پاکستان بھی تھا، جو ہم سے علیحدہ ہو گیا،لیکن یہ نہیں بتا پاتے کہ کیسے علیحدہ ہوا، کس نے اس میں کیا کردار کیا؟ یہ سچ بتانے کی نوبت شاید کبھی نہیں آئے گی، کیونکہ ہم نے سچ کو دبانے کی قسم کھا رکھی ہے۔

کسی ستم ظریف نے کیا طنزیہ بات کی ہے…… ”یہ وہ ملک ہے،جہاں بڑے واقعات کے سچ تو خیر کیا سامنے آنے ہیں، یہاں تو ملک کا چیف جسٹس ایک قیدی کے کمرے سے خود شراب کی بوتل برآمد کرتا ہے،جو بعد میں شہد کی بوتل بن جاتی ہے اور ایک چیف جسٹس بھی یہ سچ سامنے لانے پر قادر نہیں ہوتا کہ وہ شراب تھی یا شہد“؟ جہاں حالات اس قدر دِگر گوں ہوں،وہاں اینٹی نارکوٹکس والے 15کلو ہیروئن ثابت کر دیتے ہیں،یہ نسخہ اتنا آسان ہوتا تو ہر جگہ کامیاب رہتا، مگر اسے ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں تسلیم نہیں کیا۔سچ یہاں بھی اُلجھ گیا ہے اور اُس کا سامنے آنا کسی معجزے سے کم نہیں ہو گا۔ سونے پہ سہاگہ ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ ہے، جو رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت پر جاری کیا گیا اور جس میں باقاعدہ اس بات کو درج کر دیا گیا ہے کہ پاکستان میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لئے جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنا ایک روایت رہی ہے اور درخواست گزار کے وکلاء کا بھی یہی استدلال ہے کہ مقدمہ سیاسی انتقام کے طور پر بنایا گیا۔گویا اب اس بات کو سند مل گئی ہے کہ پاکستان میں سیاست اس حد تک چلی جاتی ہے کہ سنگین نوعیت کے مقدمات بھی بنا دیئے جاتے ہیں، اب اس میں شک کتنا ہے، اس پر گرد پڑی رہے گی۔

البتہ یہ بات سچ بن گئی ہے کہ پاکستان میں جھوٹے مقدمے بھی قائم کئے جاتے ہیں، تاہم یہ ادھورا سچ ہے،ایسے ادھورے سچ ہماری تاریخ میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سچ کو چھپانا بھی انتشار سے بچنے کا ایک راستہ ہے،اِس لئے ہماری تاریخ میں سچ چھپانے کے جتنے بھی واقعات نظر آتے ہیں انہیں اسی نظر سے دیکھنا چاہئے، تاویل تو بہت اچھی ہے،مگر کیا اسے ایک دستور مان لینا چاہئے، کیا یہ طے ہو جاناچاہئے کہ بڑے سے بڑا سانحہ بھی ہو جائے تو اس کا سچ سامنے نہیں لانا؟ بعض واقعات تومان لیا کہ ریاستی رازوں کے زمرے میں آتے ہیں،جنہیں طشت ازبام کرنے میں مصلحتیں آڑے آ سکتی ہیں،مگر سانحہ بلدیہ ٹاؤن، سانحہ ماڈل ٹاؤن، سانحہ ساہیوال اور اس نوعیت کے دیگر واقعات، جنہوں نے ہماری جڑیں ہلا دیں، کیا چھپائے جانے چاہئیں، کیا اُن کا سچ سامنے نہیں آنا چاہئے، کیا اُن کے ذمہ داروں کو سزا نہیں ملنی چاہئے، کیا کرپشن اور لوٹ مار کی جن داستانوں میں قوم کو اُلجھا دیا گیا،

اُن کی حقیقت سامنے نہیں آنی چاہئے؟ نیب کی کہانیاں سنو تو لگتا ہے پورا ملک ہی کرپٹ ہے۔ لوٹا مال واپس لینے کی تفصیل مانگی جائے تو صفر نظر آتی ہے۔ بڑی دھوم دھام سے گرفتاریاں عمل میں آتی ہیں اور اتنی ہی دھوم دھام سے ضمانتوں پر رہائی مل جاتی ہے……”کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا دو آنے“ والی صورتِ حال ہے۔ نواز شریف بہت کرپٹ ہے۔ یہ سُن سُن کر کان پک گئے ہیں،اسی طرح آصف علی زرداری کی لوٹ مار کے طولانی قصے بھی سنے گئے ہیں،اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے حامی یہ کہتے ہیں کہ دونوں پر جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں تو کیا غلط کہتے ہیں؟دونوں سے برآمدگی تو ایک پیسے کی نہیں ہوئی، جس کے بعد وہ مستند مجرم قرار پاتے، ہماری طرح نہیں کہ الزامات کی ٹیپ چلتی رہے اور عدالتوں سے رہائی مل جائے۔ سچ اور جھوٹ کا یہ ملاکھڑا اب بند ہونا چاہئے جو سچ ہے، اُسے سامنے آنا چاہئے، بھلے آسمان ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑے۔جب تک یہ نہیں ہو گا ہم جھوٹ کے اندھیرے میں کولہو کے بیل کی طرح بھٹکتے رہیں گے۔

مزید : رائے /کالم