الخیر یونیورسٹی کا اس وقت سٹیٹس غیر قانونی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

  الخیر یونیورسٹی کا اس وقت سٹیٹس غیر قانونی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

  



اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے الخیر یونیورسٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جواب طلب کر لیا۔ جمعہ کو الخیر یونیورسٹی کی ڈگریاں ایچ ای سی کے تسلیم نہ کرنے پر طلبا کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔ عدالت نے الخیر یونیورسٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے درخواست کے وکیل کو ہدایت کی کہ وزارت تعلیم آزاد کشمیر اور وزارت امور کشمیر کو بھی فریق بنائیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ الخیر یونیورسٹی کا سٹیٹس اس وقت تک عدالتی فیصلے کے مطابق غیرقانونی ہے۔ عدالت نے کہاکہ الخیر یونیورسٹی کی اپیل پر فیصلہ ہونے دیں ہو سکتا ہے انکے حق میں فیصلہ آ جائے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ یہ آزاد کشمیر کی پارلیمنٹ کا کام ہے کہ قانون سازی کریں اور یونیورسٹی کو تسلیم کریں، وہاں پارلیمنٹ میں سارے سوئے ہوئے ہیں قانون سازی کوئی ہو ہی نہیں رہی۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ جنہیں اپنے لوگوں کا ہی خیال نہیں ان سے اور کیا امید کی جا سکتی ہے، آزاد کشمیر کی پارلیمنٹ پر کروڑوں روپے کا بجٹ خرچ ہو رہا ہے لیکن قانون سازی نہیں ہو رہی۔جسٹس محسن اختر کیانی  نے کہاکہ یہ عدالت کوئی ڈائریکشن دے گی تو کہیں گے کہ آزاد کشمیر کی پارلیمنٹ کو ڈائریکشن دیدی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ اگر یونیورسٹی تسلیم نہیں ہوتی تو طلبہ کی ڈگری کہیں کی نہیں ہوتی۔ وکیل ایچ ای سی نے کہاکہ الخیر کا معیار یونیورسٹی والا تھا ہی نہیں ہم نے تو بہت مشکل سے گریجویشن تک کی اجازت دی تھی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ حکومت آزاد کشمیر اپنا ایچ ای سی بنا کر یونیورسٹی کو وہاں رجسٹر کیوں نہیں کرتی۔ عدالت نے وکیل ایچ ای سی سے استفسار کیا کہ ایچ ای سی کس طرح کا ریگولیٹر ہے آپ لوگ کام کیا کر رہے ہیں۔عدالت نے کہاکہ ایچ ای سی غیر قانونی یونیورسٹی کے خلاف ایف آئی آرز کیوں نہیں درج کراتی،یونیورسٹی بند کیوں نہیں کراتے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ جو طلباء  کے مستقبل کے ساتھ کھیلتے ہیں ایچ ای سی کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ جب طلباء  اپنے ساری زندگیاں لگا کر ایچ ای سی آتے ہیں تو انکی ڈگریاں تسلیم ہی نہیں کی جاتیں۔ وکیل ایچ ای سی نے کہاکہ وزیراعظم آزاد کشمیر خود ہی اس یونیورسٹی کو نہیں مانتے۔عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں تک کیلئے ملتوی کر دی۔

الخیر یونیورسٹی

مزید : صفحہ آخر


loading...