سینیٹ کمیٹی کا اجلاس،ججز مواخذہ،لینڈ ایکوزیشن واینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کاجائزہ 

سینیٹ کمیٹی کا اجلاس،ججز مواخذہ،لینڈ ایکوزیشن واینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ ...

  



اسلام آباد(آن لائن) قانونی اصلاحات کے حوالے سے تشکیل دی گئی ایوان بالاکی خصوصی کمیٹی کا اجلاس کنونیئرکمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اسپیشل کمیٹی کے اجلاس میں پارلیمنٹ کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے مواخذہ کے میکنزم، اینٹی منی لانڈرینگ ایکٹ 2010کے حوالے سے نیب کے تفتیش کے حوالے سے اختیارات کے علاوہ عوامی مقاصد کیلئے سیکشن فور لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت زمین حاصل کرنے اور اسکے لئے معاوضہ دینے کے طریقہ کار کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اینٹی منی لانڈرینگ ایکٹ 2010کے حوالے سے کنونیئرکمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ دیکھا جائے کہ کن کن کیسز میں اینٹی منی لانڈرنگ لاگو ہوتی ہے اور اس حوالے سے نیب اور ایف آئی اے کے پاس کیا اختیارات ہیں۔ اینٹی منی لانڈرینگ اْن کیسز میں شامل ہوتی ہے جن میں کرپشن ہو دیکھا جائے کہ ایف آئی اے اور نیب کا دائر کار کہاں تک ہے۔ چیئرمین نیب اور ڈی جی ایف آئی اے کمیٹی کو آئندہ اجلاس میں آگاہ کریں انہوں نے کہا کہ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان گرے لسٹ میں ہے۔گرے لسٹ میں کن وجوہات کی وجہ سے ہے اور اس کے لئے کون سے قوانین اور رولز ہیں بہتریہی ہے کہ آئندہ اجلاس میں چیئرمین نیب، وائس چیئرمین نیب، ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹری خزانہ کمیٹی کو معاملات بارے تفصیلی آگاہ کریں۔سینیٹر محمد جاوید عباسی نے کہا کہ اس ایکٹ کے حوالے سے جو رولز بنائے گئے ہیں اْن کو بھی دیکھا جائے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے مواخذے کے میکنزم کے حوالے سے کنونیئرکمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ وزارت قانون سے اس حوالے سے پہلے تفصیلی بریفنگ حاصل کی جائے سیکرٹری وزارت قانون معاملات کے حوالے سے کمیٹی کو آئندہ اجلاس میں تفصیل سے بریف کریں۔سینیٹر محمد جاوید عباسی نے کہا کہ ہمارا موجودہ میکنزم ٹھیک نہیں ہے بے شمار کیسزمس کنڈکٹ کے پڑے ہوتے ہیں ججز اْن کو اٹھاتے ہی نہیں ہمیں مختلف ممالک میں رائج ماڈل کا پہلے جائزہ لینا چاہئے۔ امریکہ میں بہترین ماڈل اختیار کیا گیا ہے۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ دنیا بھر میں یہ پریکٹس ہے کہ ایسے قوانین بناتے وقت متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا جا تا ہے۔ سول سوسائٹی، میڈیا،بار کونسل اور بار اسوسی ایشن سے بھی رائے لینی چاہئے۔ کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ پہلے سیکرٹری قانون سے بریفنگ حاصل کی جائے اور پھر اسٹیک ہولڈرز کی رائے حاصل کرکے جامع قانون بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، انڈیا، فرانس اور دیگر ممالک میں رائج ماڈل کا بھی جائزہ لے کر پھر ترمیم کی جائے تو نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔پبلک مقاصد کیلئے سیکشن فور کے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت زمین کے حصول اور معاوضے کی ادائیگی کے میکنزم کے حوالے سے کنونیئر کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام سے عوام کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے وزارت داخلہ اس حوالے سے موثر تجاویز تیار کر کے کمیٹی کو آگاہ کرے۔ڈسٹرکٹ کلکٹر اسلام آباد وسیم احمد خان نے کمیٹی کو بتایا کہ سیکشن فور میں موضع اور خسرے بنائے جاتے ہیں پھر ایل ای سی کی ٹیم کو حق ملتا ہے کہ زمین کا سروے کرے، سروے کر کے جانچ کرے کہ یہ پبلک مقاصد کیلئے ہے بھی اور اس کے بینیفشری بھی بہت زیادہ ہوں اس کے بعد پروسیجر شروع کیا جاتا ہے عدالت میں بھی بے شمار کیسز میں پبلک مقاصد کو دیکھا جاتا ہے پھر دسٹریکٹ پرائس کمیٹی معاوضہ مقرر کرتی ہے اور بلٹ ان پراپرٹی کا جائزہ پی ڈبلیو ڈی کی ٹیم لگاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بہت زیادہ مسئلہ ہے کہ زمین تو پہلے ایکوائر کر لی جاتی ہے مگر معاوضہ بہت دیر بعد دیا جاتا ہے اور جب معاوضہ دینے لگتے ہیں تو لوگ موجودہ ریٹ کے مطابق مطالبہ کرتے ہیں۔سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ سیکشن فور کے تحت جہاں زمین حاصل کی جا رہی ہوتی ہے یہ بھی جائزہ لینا چاہئے کہ یہ زمین جس مقصد کیلئے حاصل کی جا رہی ہے وہ اْس کے مطابق بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں میں لوگ بہت خوار ہو رہے ہیں۔ کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ سیکشن فور کے تحت زمین حاصل کرنے کیلئے ڈی سی ریٹ نہیں ہونا چاہئے اور سیکشن فور کے بعد ادائیگی کیلئے بھی ایک وقت مقرر ہونا چاہئے اور اس کے لئے مارکیٹ ریٹ ہونا چاہئے ایسی ترمیم لائی جا ئے جس سے لوگوں کو اْن کا آئینی حق مل سکے۔ انہوں نے داخلہ حکام کو اس حوالے سے تجاویز تیار کر کے پندرہ دن کے اندر کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ 

سینیٹ کمیٹی

مزید : صفحہ آخر