مانسہرہ میں بچے پر تشدد اور بداخلاقی  کے بعد مدرسہ سِیل

  مانسہرہ میں بچے پر تشدد اور بداخلاقی  کے بعد مدرسہ سِیل

  



مانسہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک)خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے ایک مدرسے میں مبینہ طور پر ایک دس سالہ بچے کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر مارا پیٹا گیا جس سے بچہ شدید زخمی ہو کر بے ہوش ہوگیا۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے مدرسہ سیل کر دیا۔پولیس کے مطابق بچے کو ایوب میڈیکل کمپلیکس لایا گیا جہاں بچے کے چچا کو معلوم ہوا کہ اس بچے کیساتھ بد اخلاقی کی گئی ہے۔مانسہرہ میں پولیس کے اہلکاروں کے پاس علی گوہر نامی شخص نے رپورٹ درج کرائی کہ انھوں نے اپنے دس سالہ بھتیجے کو دو سے تین ماہ پہلے مدرسے میں داخل کرایا تھا۔چند روز پہلے انھیں ٹیلیفون پر اطلاع ملی کہ ان کے بھتیجے کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، تو وہ خود اس وقت اپنی بیٹی کے علاج کیلئے ہسپتال میں موجود تھے۔ رپور ٹ میں بتایا گیا ہے کہ مدرسے کے ایک استاد نے چچا کی درخواست پر بچے کو ہسپتال پہنچا دیا جہاں طبی معائنے سے معلوم ہوا کہ بچے کے ساتھ بد اخلاقی  کے علاوہ اس بچے کے پر جسمانی تشدد بھی کیا گیاتھا۔ بچے کی آنکھوں پر زخم اور آنکھیں سرخ ہو چکی ہیں۔مانسہرہ کے ضلع پولیس افسر صادق بلوچ کے مطابق اس واقعہ کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے بچے کے ساتھ بد اخلاقی کے علاوہ بچے کو جان سے مار نے کی کوشش بھی کی ہے جس پر ایف آئی آر میں مزید دفعات شامل کی گئی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں جبکہ جرم میں شریک معاونین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مذکورہ مدرسے کو سیل کر دیا گیا ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ وقوعہ چار روز پہلے پیش آیا جبکہ رپورٹ گزشتہ روز درج کرائی گئی ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق بھتیجے نے چچا کو بتایا کہ مدرسے کے ایک استاد نے، جو کہ مہتمم مدرسہ کے بھائی ہیں، مدرسے کے ایک طرف لے جا کر اس سے بد اخلاقی کی ہے جس پر اس نے شور شرابا کیا تو مدرسے کے دیگر لوگ جمع ہو گئے اور بچے کو مارا پیٹا اور اسے ڈرایا گیا کہ خبر دار اگر کسی کو اس بارے میں بتایا۔ اطلاعات کے مطابق بچے کے والد کوہستان میں محنت مزدوری کرتے ہیں جبکہ چچا مانسہرہ میں دکاندار ہیں۔ بچے کا ایک بھائی اور دو بہنیں اور یہ بچہ سب سے بڑا ہے۔

مدرسہ سیل 

مزید : صفحہ آخر


loading...