ادویات کی قیمتوں میں کمی نہ کرنیوالی کمپنیوں کی فہرست طلب

      ادویات کی قیمتوں میں کمی نہ کرنیوالی کمپنیوں کی فہرست طلب

  



اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی نے ادویہ ساز کمپنیوں کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں کمی نہ کرنے اور اجلاس میں ادویہ ساز کمپنیوں کے نمائندوں کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ادویات کی قیمتوں میں کمی نہ کرنے والی کمپنیوں کی فہرست طلب کر لی ہے۔کمیٹی کا اجلاس کنونیر نثار چیمہ کی سربراہی میں منعقد ہوااجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ سی ای او ڈریپ اور وزارت نیشنل ہیلتھ کے حکام شریک ہوئے جبکہ ادویہ ساز کمپنیوں کے نمائندے شریک نہیں ہوئے جس پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا اس موقع پر کنوینر کمیٹی نے کہاکہ وزیر اعظم کے ہدایت کے مطابق ادویات کی قیمتوں میں کمی نہ کرنے والے کمپنیوں کو وضاحت کیلئے طلب کیا تھا مگر وہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ہیں جس پر ڈریپ حکا م کو ہدایت کی گئی کہ اگلے اجلاس میں قیمتوں میں کمی نہ کرنے والی کمپنیوں کی فہرست فراہم کی جائے اجلاس میں ڈریپ حکام نے کمیٹی کو ڈریپ کی کارکردگی اور ادارے کو بہتر بنانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ ڈریپ کا کام ادویات و ادویہ ساز اداروں کی رجسٹریشن، ایوالوایشن، لائسنسنگ، پرائسنگ وغیرہ کرنا ہے اسی طرح ادویات کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے  لیبارٹری ٹسٹنگ اور پوسٹ مارکیٹنگ سرویلنس کرنا بھی اس ادارے کی ذمہ داری ہے جس کیلئے کام جاری ہے اجلاس میں ادویات کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے پر بھی غور ہواڈریپ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 889 ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے نوٹیفیکشن جاری کیا گیا جن میں 464 کی قیمتوں میں آضافہ جبکہ 395 میں کمی کی گئی ہے اور اس کے بعد 78 ایسی ادویات تھیں جن کی قیمتیں زیادہ تھیں کو دوبارہ کم کیا گیا ہے ڈریپ حکام نے بتایاکہ گزشتہ 12 سالوں سے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا اس موقع پر سی ای او ڈریپ نے کہا کہ ہم تاریخ کے اہم دور میں ہمیں طے کرنا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے انہوں نے کہاکہ ادویات کے سلسلے میں بین الاقوامی ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ہماری مجبوری ہے ہم ڈریپ کو عالمی معیار کے مطابق لانا چاہتے ہیں اور ملکی سطح پر تیار ہونے والی ادویات کی ایکسپورٹ کو بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔

اجلاس

اسلام آباد(آن لائن) پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی نے وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں اور میڈیکل سٹوروں میں غیر معیاری ادویات کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت نیشنل ہیلتھ کو ہدایت کی ہے ہسپتالوں کو ادویات کی سپلائی کیلئے اچھی شہرت کی حامل کمپنیوں کا انتخاب کیا جائے۔ ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر شاہدہ اخترعلی کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوااجلاس میں وزارت نیشنل ہیلتھ کے مالی سال2013/14کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کی کنوینر شاہدہ اختر علی نے کہاکہ یہ امر تشویش ناک ہے کہ مارکیٹ میں غیر معیاری ادویات موجود ہیں اس حوالے سے ڈریپ حکام کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے جس پر وزارت نیشنل ہیلتھ کے حکام نے بتایاکہ غیر معیاری ادویات کے خلاف ڈریپ حکام چھاپتے مارتے ہیں اور بڑی مقدار میں ادویات کو ضبط بھی کیا گیا۔ کمیٹی نے پمز ہسپتال میں موجود موبائل ٹاؤر سے مریضوں پر پڑنے والے مضر اثرات کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ یہ دیکھا جائے کہ یہ موبائل ٹاؤر ہسپتال کے وارڈز سے کتنی دوری پر واقع ہیں اور ان کے اثرات مریضوں پر پڑتے ہیں یا نہیں کمیٹی نے اس حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ 

ذیلی کمیٹی

مزید : صفحہ آخر