شہباز شریف و دیگر کیخلاف انکوائری شروع

    شہباز شریف و دیگر کیخلاف انکوائری شروع

  



ملتان،کراچی،اسلام آباد (نیوزایجنسیاں) بہاولپور کے صحرائے چولستان میں 14400 کنال اراضی کی الاٹمنٹ میں بے ضابطگیوں پر نیب ملتان نے انکوائری کا آغاز کر دیا۔ذرائع کے مطابق نیب ملتان نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، سابق وفاقی وزیر میاں بلیغ الرحمن اور دیگر درجنوں افراد کیخلاف انکوائری کا آغاز کرتے ہوئے چولستان ترقیاتی ادارے سے زمینوں کی الاٹمنٹ کا ریکارڈ طلب کر لیا۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے مئی 2012ء میں لال سوہانرا نیشنل پارک کے 238 متاثرین کو زمین الاٹ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔مذکورہ افراد پر الزام ہے کہ الاٹیوں کی پیدائش پارک بننے کے کئی سال بعد میں ہوئی ہے اور زمینوں کی الاٹمنٹ میں پنجاب حکومت نے کئی بوگس نام بھی شامل کیے۔ الاٹمنٹ میں ہونے والی ان مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایت پر نیب نے شہباز شریف، بلیغ الرحمن اور سابق جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ بار چوہدری عمر محمود ایڈووکیٹ سمیت دیگر افراد کیخلاف انکوائری کا حکم دیا تھا۔دوسری طرف چیئرمین نیب جاوید اقبال نے کراچی میں مزار قائد کے سامنے اور ارد گرد چائنہ کٹنگ کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔نیب اعلامیہ میں کہا گیا کہ مزار قائد کے اطراف، خصوصاََ کاسمو پولیٹن سوسائٹی کراچی کی جانب سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے بلڈنگ بائی لاز کی مبینہ طور پر خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات کرنے کی شکایت پر چیئرمین نیب نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی نیب کراچی کو تحقیقات کا حکم دیا۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ تحقیقات میں مزار قائد مینجمنٹ سوسائٹی کا کردار بھی دیکھا جائے گا کہ اس نے مزار قائد کے سامنے مبینہ طور پر چائنا کٹنگ اور غیرقانونی طور پر تعمیرات کرنے کے بارے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کراچی کو آگاہ کیوں نہیں کیا۔نیب کے مطابق اس کے علاوہ اس بات کی تحقیقات بھی کی جائیں گی کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے مزار قائد کے سامنے اور ارد گرد مبینہ طور پر چائنا کٹنگ اور غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کے خلاف ادارے کے قانون کے مطابق کیا کارروائی کی؟اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ اس کے ساتھ ہی اس بات کی تحقیقات بھی کی جائیں گی کہ چائنا کٹنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی عمل میں نہ لانے والے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ذمہ دار افسران/ اہلکاروں کا تعین کرکے کیا محکمہ کارروائی عمل میں لائی گئی؟۔

نیب 

کوئٹہ (آن لائن)نیب بلوچستان نے بلوچستان انٹیگریٹڈ واٹر ریسورسز مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں تقریبا دو ارب روپے کرپشن کی تحقیقات مکمل کر کے جعلی کمپنی کے مالکان، پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت 10افراد کیخلاف ریفرنس احتساب عدالت میں داخل کر دیا، کمپنی مالکان نے نے جعلی تصدیقی سرٹیفکیٹ جمع کرواکر دھوکہ دی اور مبینہ طور پر سرکاری عملہ کی ملی بھگت سے سرکاری ٹھیکے حاصل کیے ورلڈ بینک کے تعاون سے ناڑی گارج اور گنداچا نرگ نامی سکیموں کیلئے دو ارب سے زائد رقم مختص کی گئی تھی جس کیلئے مختلف فرمز نے محکمہ آبپاشی میں ٹینڈرز جمع کروائے۔ مسیرز گل کنسٹرکشن نامی فرم کے مالک ملزم سراج خان نے اپنے دیگر تین جعلسازوں کی مدد سے پاکستان کے مختلف محکموں کے جعلی تصدیقی سرٹیفکیٹ جمع کروا کر خود کو اتنے بڑے پراجیکٹ کا اہل ثابت کر کے دھوکہ دی اور مبینہ طور پر سرکاری عملہ کی ملی بھگت سے ٹھیکے حاصل کیے نیب نے ٹینڈز میں شامل دیگر فرمز کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کیں تو ملزم کی جعلسازی کے نا قابل تردید شواہد سامنے آئے جس کی بنیاد پر نیب بلوچستان نے ملزم کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے۔ نیب کے تفتیشی افسران جب ملزم کی گرفتاری کے لئے کراچی گئے تو ملزم گرفتاری کے خوف سے اسلام آباد فرار ہو گیا تا ہم بر وقت انفارمیشن شیرنگ پر ملزم کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیانیب نے تحقیقات کے دائرے کو پھیلاتے ہوئے پروجیکٹ ڈائریکٹر بلوچستان انٹیگریٹڈ واٹر ریسورسز مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ عبدالحمید اور بڈ ایویلوایشن کمیٹی کے ممبران فاروق احمد، یار محمد، شفیع اور سکندر بلوچ کے بھی مبینہ ملوث ہونے پر انہیں بھی شامل تفتیش کیا، اور ملزمان کے خلاف ناقابل تردید ثبوتوں کی روشنی میں آج کمپنی مالکان، پروجیکٹ ڈائریکٹر اور کمیٹی ممبران کے خلاف ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کر دیا ہے۔

 تحقیقات مکمل

مزید : صفحہ اول


loading...