کشمیری 145ویں روز بھی محصور، انٹر نیٹ معطلی کیخلاف مظاہرہ، ایک گرفتار

  کشمیری 145ویں روز بھی محصور، انٹر نیٹ معطلی کیخلاف مظاہرہ، ایک گرفتار

  



سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں 5اگست سے مسلسل جاری فوجی محاصرے کی وجہ سے مصائب کے شکار کشمیریوں کی مشکلات شدید سرد موسم میں مزید بڑھ گئی ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وادی کشمیرمیں جمعہ کو مسلسل145ویں روز بھی بھارتی فوجی محاصرہ جاری رہا۔ شدید سرد موسم سے وادی کشمیر کے محصور عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں جنہیں پہلے ہی مسلسل فوجی محاصرے کی وجہ سے خوراک اور زندگی بچانے والی ادویات سمیت اشیائے ضرویہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ پوری وادی کشمیرا ور لداخ کا کم سے کم درجہ حراست نقطہ انجماد سے کئی درجے گرنے سے متعدد مقامات پر پانی نلوں میں جم گیا ہے۔ مقبوضہ علاقہ سردی کے سخت ترین 40روزہ دورانیے ”چلہ کلان“ سے گزر رہا ہے جو 21دسمبر کو شروع ہواتھا۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں نے گزشتہ قریبا ً پانچ ماہ سے جاری انٹرنیٹ کی معطلی کے خلاف سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بڑی تعداد میں نوجوانوں نے سرینگر کے پریس انکلیومیں جمع ہو کر انٹرنیٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پلے کارڑز اٹھا رکھے تھے جن پر ”انٹرنیٹ کو بحال کرو،  ہمارے مستقبل کو تحفظ دو“ جیسے نعرے درج تھے۔ انہوں نے انٹرنیٹ کی بحال کے حق میں نعرے لگائے۔اسی دوران جموں و کشمیر یوتھ کانگریس کے صدر Uday Chibکو جموں شہر میں ایک احتجاجی مارچ کے دوران گرفتار کر لیاگیا۔یوتھ کانگریس کی طرف سے یہ احتجاجی مارچ جامع ملیہ اسلامیہ نئی دلی کے طلبہ پربھارتی پولیس کے حالیہ تشدد کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ ادھر ضلع ڈوڈہ میں آتشزدگی کے ایک پر اسرار واقعے میں اٹھارہ دکانیں خاکستر ہوگئیں۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ضلع کے علاقے گندوہ میں ایک دکان میں بھڑکنے والے آگ نے فوری طور پر دیگرد کانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔متاثرین نے واقعے کو تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ 

مقبوضہ کشمیر

مزید : صفحہ اول