اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام جشن قائد اعظم کی اختتامی تقریب

اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام جشن قائد اعظم کی اختتامی تقریب

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام ”چار روزہ جشن قائد اعظم محمد علی جناحؒکے چوتھے اورآخری تقریب“ کی صدارت معروف دانشور شاعر سلمان صدیقی نے کی جبکہ مہمانانِ خاص ممتاز شعراء اختر سعیدی، فیروز ناطق خسرو تھے۔ اس موقع پر سلمان صدیقی صدارتی خطاب میں کہا کہ قائد اعظم کے ذہن میں ایک ایسے دستور کا تصور تھا جو اسلامی اور جمہوری بنیادوں پر استوار ہو۔ ان کے خیال میں اسلامی اصول اور ضابطے آج کے دور میں بھی اس قابل ہیں کہ ان پر عمل کی اجائے۔ ایک اسلامی ریاست میں سیاست و معیشت اسلامی اصولوں کے تابع ہوتی ہے، کیونکہ قائد اعظم ؒ پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے،اس لئے وہاں کی معیش کو بھی لازمااسلامی سانچے میں ڈھالنا ضروری تھا۔ اس لئے جولائی ۱۹۴۸ء میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مغرب کے معاشی نظام پر تنقید کی اور کہا:”ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی نظام پیش کرنا ہے، جو انسانی مساوات اور معاشرتی انصا ف کے سچے اسلامی تصورات اپر قائم ہو۔ ایسا نظام پیش کرکے گویا ہم مسلمانوں کی حیثیت سے اپنا فرض انجام دیں گے“۔معروف شاعر فروز ناطق خسرو نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ ایک اسلامی ریاست ہی دراصل ایک فلاحی ریاست ہوتی ہے۔ قائد اعظمؒ پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ وہ اسے ایک ایسی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے جس سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کی یاد تازہ ہوجائے۔۲۱ مارچ ۱۹۴۸ء کو قائداعظم ؒ نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا:”میں نے مسلمانوں اور پاکستان کی جو خدمت کی ہے وہ اسلام کے ایک اونی سپاہی اور خدمت گزار کی حیثیت سے کی ہے۔ آپ پاکستان کو دنیا کی عظیم قوم اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لئے میرے ساتھ مل کر جدوجہد کریں۔میری آرزو ہے کہ پاکستان صحیح معنوں میں ایک ایسی مملکت بن جائے کہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سنہری دور کی تصویر عملی طور پر کھینچ جائے۔ اللہ تعالیٰ میری اس آرزو کو پورا کرے!۔اس موقع پر اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ ”جناح آف پاکستان“ کے مصنف پروفیسر اسٹینلے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا قائداعظم کے بارے میں لکھتے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارابدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کررکھ دیتے ہیں اور ایسا تو کوئی کوئی ہوتا ہے جو ایک نئی مملکت قائم کردے۔محمد علی جناح ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے بیک وقت تینوں کارنامے کر دکھائے۔ علامہ شبیر احمد عثمانی: جو آل انڈیا مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کے رکن اور ممتاز عالمِ دین تھے جنہوں نے محمد علی جناح کی نماز جناہ بھی پڑھائی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...