شاعر وادیب ڈاکٹر  عبدالخالق زیارکی تیسری برسی

  شاعر وادیب ڈاکٹر  عبدالخالق زیارکی تیسری برسی

  



بٹ خیلہ (بیورورپورٹ)عظیم شاعر وادیب، تحقیق نگار ونقاد، سیاسی مبارز ڈاکٹر عبدالخالق زیارکی تیسری برسی پر ان کے مزار پر ایک بہت بڑے پروگرام کااہتمام،شعراء وادباء، وکلاء، ڈاکٹرز برادری سمیت سیاسی وسماجی شخصیات کی شرکت،مرحوم انسانیت کا بہت بڑا علمبردار تھا،نہ صرف قلم کے ذریعے بلکہ عملی طور پر بھی انہوں نے انسانیت کی خدمت کواپناشعار بنایاتھا،مرحوم کے نام درگئی ہسپتال میں چلڈرن وارڈ تو موسوم ہے لیکن درگئی مین چوک کو ان کے نام سے موسوم کیاجائے،تفصیلات کے مطابق عظیم شاعر وادیب، تحقیق نگار ونقاد، سیاسی مبارز ڈاکٹر عبدالخالق زیارکی تیسری برسی ان کے مزار واقع سیدراجیوڑ درگئی پر ایک پروقار تقریب کاانعقاد کیاگیا جس کااہتمام ملاکنڈادبی اوکلتوری جرگہ نے پچھلے روایات کو برقرار رکھتے ہوئے کیاتھا۔ مرحوم کے مزار پر پھولوں کے چادر چڑھانے اور دعائے مغفرت کی گئی۔ پروگرام کی صدارت  جرگہ کے صدر سیدا ٓمیر قاسم ہاشمی نے کی جبکہ سٹیج کے فرائض نیازک جان نے ادا کئے،جبکہ مہمان خصوصی ڈاکٹر مشتاق تھے۔ سید تجمل حسن قائل کی تلاوت کلام پاک کے بعد ان کے بھائی ممتاز قانون دان محمد رازق جان ایڈوکیٹ نے سب کاشکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر سید تجمل حسن قائل، سید محسن شاہ محسن، امیررزاق امیر، دوست محمدطالب، امان خان احرار، ظہور عامر، سنگریز خان اور زیراب گل گل نے نظمیں پیش کئے اور تاج محمد خاموش، زاہدالرحمان زاہد، آیاز خان، شاہ ولی خان، گرینڈ اصلاحی جرگہ تحصیل درگئی کے صدر حاجی اکرم خان، مکرم خان صبا، سینئر وکیل غفران احد ایڈوکیٹ،ڈاکٹر غنی، ڈاکٹر مراد خان اور سید امیرقاسم ہاشمی نے مقالے اور تقاریر کئے۔ جبکہ نوجوان آرٹسٹ گل زمان خان نے مرحوم کی بنائی ہوئی تصویر ان کے بیٹے داکٹر اتل کو پیش کردیا۔ پنڈال میں وکلاء، ڈاکٹرز برادری سمیت سیاسی وسماجی شخصیات کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔مقررین نے کہاکہ مرحوم نہ صرف ایک بہترین شاعروادیب تھے، محقق ونقاد تھے بلکہ انہوں نے بطور سیاسی مبارز بحی کود کومنوالیاتھاکبھی جھوٹ کاسہار انہیں لیاسچ اور حقیقت کاکھل کراظہار کرتا، انسانیت کاایک مجسم پیکر تھے، انسانیت کی خدمت انہوں نے خود پر فرض کیاتھا، کئی یتیموں اور لاچاروں کی خرچہ اور ان کے سکول کالج فیس، کتابیں و دیگر اخراجات انہوں نے اپنے ذمہ لیاتھا، خود کبھی شاہانہ انداز نہیں اپنایافقیری کوترجیح دی،پشتون قوم اور اس مٹی کیلئے ہر وقت ان کا دل دھڑکتاتھا،یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ پیار ومحبت کرنے والے کبھی ان کو بھول  نہیں سکتے بلک ہمیشہ وہ لوگوں کے دلوں پر راج کریں گے۔اور اپنے لازوال تحریروں کی وجہ سے تاریخ میں تاابد زندہ رہے گا۔اس موقع پر درگئی چوک کو ان کے نام سے موسوم کرنے کی متفقہ قرار داد پیش کی گئی جس کے ساتھ سب حاضرین نے اتفاق کیاساتھ میں درگئی میں قائم باچاخان سکول کے اساتذہ کیلئے بروقت تنخواہ نہ دینے پر سخت آفسوس کااظہار کیاگیا اور مطالبہ کیاگیاکہ ان کو بروقت تنخواہیں دی جائیں تاکہ یہ سکول فعال رہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر