قانون کی حکمرانی

قانون کی حکمرانی
 قانون کی حکمرانی

  



اپنے جوہر میں، قانون کی حکمرانی سے مراد کا مطلب شہریوں اور ان پر حکمرانی کرنے والوں کو قانون کے تابع ہونا چاہئے۔ اس کا تعلق اس بات سے ہے قوانین کس طرح وضع ہونے چاہئے یا جرائم کے مشتبہ افراد سے کیسے نپٹا جائے یا ٹیکسوں کا نفاذ اور حصول کیسے ہونا چاہئے۔ یہ جائیداد کی خریدوفروخت، خواہ وہ ایک موبائل فون ہو یا گاڑی، یا ٹریفک حادثے میں نقصان کی صورت میں معاوضے کا استحقاق، یا خاندانی تعلقات بشمول شادی، طلاق یا وراثت کے حقوق، ہر ایک صورت میں لاگو ہوتی ہے۔ اس کا تعلق ایک قطعہ اراضی کو کاشت کرنے یا زمین کی خریدوفروخت جیسے مسائل سے بھی ہوتا ہے۔

نام نہاد فلاحی ریاستیں حکومت کی جانب سے سماجی اور معاشی معاملات میں بے حد قانون سازی کی حامی نظر آتی ہیں جبکہ معاشی طور پر لبرل ریاستیں حکومت کے معمولی کردار پر زور دیتی ہیں۔ کچھ ممالک میں، بہت سے سماجی تعلقات بے حد قوانین کی زد میں ہوتے ہیں، جبکہ دیگر معاشروں میں قانون ایک محدود بلکہ حاشیئے پر ہوتا ہے، لیکن قوانین کی بھرمار سے حامل ریاستیں بھی تسلیم کرتی ہیں کہ نہ تو ایسا ممکن ہے اور نہ ہی ایسی خواہش رکھنی چاہئے کہ معاشرے میں عوام کے مابین ہونے والے ہر معاملے پر قانون اپنی ٹانگ اڑائے۔ اس کے برعکس دیگر اصول، بشمول مذہبی اصول و ضوابط، حق ہمسائیگی اور کاروباری زندگی کے اصول و ضوابط زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ مختصر یہ کہ، قانون کی حکمرانی شہریوں اور دیگر پرائیویٹ حصہ داروں کے ہر معاملے سے میل نہیں کھاتی ہے، لیکن حکومتی رٹ کے حوالے سے قانون کی حکمرانی ایک پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔ اس ضمن میں کسی استثناء کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر، اگر افسر گھر کی تلاشی لینا چاہتا ہے تو اس کے باقاعدہ قانونی اختیار ہونا چاہئے۔ یعنی، قانون اس کا تعین کرتا ہے کہ کن حالات میں کس کو کون سے اختیار کے استعمال کی اجازت ہے۔ دوسری بات یہ کہ، اختیار کو استعمال میں لاتے وقت افسران کو قانون کے تابع ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر، جب کوئی گرفتاری کی جائے تو بہت سی قانون حدود میں افسر پر قانونی ذمہ داری ہے کہ وارنٹ دکھائے اور متعلقہ شخص کو گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کرے۔ تفتیش کار کو مشتبہ شخص کو مطلع کرنا چاہئے کہ جو کچھ بھی وہ کہتا ہے اسے اس مردوزن کے خلاف قانون کی عدالت میں استعمال کیا جائے گا۔ اس بات کا تعین قانون کرتا ہے کہ کسی اختیار کو کیسے استعمال کرنا ہے۔ اسے حسب قانون یعنی Due processسے تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی مثال دے کر سمجھایا جاتا ہے کہ افراد کے حقوق کا تحفظ کیسے کرنا ہے اور بغیر کسی الزام کے جیل میں ڈالنے سے محفوظ رکھنا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی الزام لگتا ہے یا گرفتاری ہوتی ہے تو لوگوں کو وکلاء تک رسائی ہے۔

عام شہریوں کے لئے، یہ انتہائی اہم ہے کہ سیاسی اختیار کا استعمال قانون کے تابع کیا جائے۔ اس کی وضاحت تھوڑی دیر میں کی جائے گی۔ اس بات پر اتفاق ہے کہ جب کوئی حکومت کسی ڈکٹیٹر کی طرح من مرضی کرتی ہے تو یہ اچھی بات نہیں ہوتی۔ یہ ضروری ہے کہ ان کے اپنے اور شہریوں کے رویئے قانون کے تابع ہوں کیونکہ قانون ایک مستحکم اور متوقع ماحول کو یقینی بناتا ہے جو افراد کی ذاتی سیکورٹی سے لے کر محفوظ کاروباری لین دین کی آزادی سمیت ہر شے کے لئے ضروری ہے، لیکن قانون کی حکمرانی کے ضروری نہیں ہوتا کہ شہریوں کے رویئے بے شمار قوانین اور قانونی ریگولیشنز کے تابع ہو۔ اس کے برعکس، شہری اپنے رویوں کو غیر ضروری قوانین اور ضوابط کے حوالے سے معترض ہونے میں حق بجانب ہوتے ہیں۔ قوانین کی بہتات کا مطلب عمل کی آزادی کو محدود کرنا ہوتا ہے۔

جہاں تک سیاسی اختیار کے استعمال کا تعلق ہے، سیاستدانوں کو سیاسی نظام میں اپنی پوزیشن سے قطع نظر نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ سرکاری افسران کو بھی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ خواہ ان کے پاس ایسا کرنے کا اختیار ہویا پھر اسے قانون کی خلاف ورزی میں استعمال کرکے وہ قانون سے باہر جا کر کوئی فعل سرانجام دیں۔

خواہ وہ کسی بھی پوزیشن میں ہو، ایک حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ حکومت کا اختیار قانون کے تابع ہے اور قانونی تقاضوں کے عین مطابق اس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ کیا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت درج بالا تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھے ہوئے ہے؟ اگر ایسا ہے تو جج ارشد ملک کے خلاف کاروائی کے بجائے نون لیگ کی قیادت کے خلاف کاروائی کیوں ہورہی ہے، رانا ثناء اللہ کو جھوٹے مقدمے میں چھے ماہ جیل میں کیوں رکھا گیا، شاہد خاقان عباسی کیونکر جیل کوٹھڑی میں پڑے ہیں، احسن اقبال کیونکر ترقیاتی کاموں کے سبب حراست میں ہیں اور نواز شریف کیونکر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں؟

مزید : رائے /کالم


loading...