گیس کی عدم فراہمی، 80فیصد صنعتوں میں پیداوار معطل، بر آمدی سیکٹر دیوالیہ ہونے کا خدشہ

گیس کی عدم فراہمی، 80فیصد صنعتوں میں پیداوار معطل، بر آمدی سیکٹر دیوالیہ ...

  



کراچی (این این آئی) نارتھ کراچی صنعتی ایریا میں صنعتوں کو طلب کے مطابق گیس کی عدم فراہمی کے باعث80فیصد صنعتوں میں پیداواری سرگرمیاں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد کے بے روزگار ہونے کے علاوہ برآمدی شپمنٹ بروقت نہ ہونے کی صورت میں بڑی تعداد میں برآمدی آرڈرزمنسوخ ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (نکاٹی) نے برآمدی صنعتوں کو تباہی سے بچانے کے لیے حکومت سے سی این جی سیکٹر کو2ماہ کے لیے گیس کی فراہمی معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی یہ درخواست بھی کی ہے کہ گیس بحران پر قابوپانے تک گاڑیوں کو پیٹرول پر رواں دواں رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔نکاٹی کے سرپرست اعلیٰ کیپٹن اے معیز خان، صدر نسیم اختر او ر سینئرنائب صدر عمران معیز خان نے حکومت سے اپیل میں کہا ہے کہ صنعتی پہیہ گھومے گا تو برآمدات میں اضافہ ہوگا اور ملکی ترقی کرے گا مگران حقائق کے باوجود سی این جی سیکٹر کو برآمدی صنعتوں پر فوقیت دی جارہی ہے جو کہ اقتصادی لحاظ سے دانشمندانہ اقدام نہیں۔ صر ف ایک سیکٹر کی خاطر صنعتوں کو تباہ و برباد نہ کیا جائے کیونکہ صنعتوں کو اگر تالے لگ گئے تو بے روزگاری کا سیلاب امڈ آئے گا اور ملکی برآمدات پربھی اس کے انتہائی برے اثرات مرتب ہوں گے۔نکاٹی کے رہنماؤں نے کہاکہ گیس ٹیکسٹائل سمیت دیگرصنعتوں کا بنیادی خام مال ہے خاص طور پر پروسیسنگ انڈسٹریز میں پیداواری عمل جاری رکھنے کے لیے گیس کی فراہمی انتہائی ضرور ی ہے کیونکہ بوائلرصرف گیس سے ہی چلتا ہے جبکہ فرنس آئل سے بوائلر کو چلانے کے لیے پورے سسٹم کو تبدیل کرنا ممکن نہیں لہٰذا سوئی سدرن گیس کمپنی کو چاہیے کہ وہ ملک کے بہترترین اقتصادی مفاد میں صنعتوں کو مکمل پریشر کے ساتھ گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائے تاکہ وزیراعظم عمران خان کے ملکی برآمدات کو فروغ دینے کے ویژن کی تکمیل یقینی بنائی جاسکے۔انہوں نے کہاکہ گیس لائن پریشر ڈراپ ہونے سے چلتی ہوئی صنعتوں کا پہیہ جام ہوجاتا ہے او ردوبارہ گیس پریشر بننے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں جس سے صنعتوں کی پیدواربری طرح متاثر ہوتی ہے۔برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل نہ ہونے اور ایئر شپمنٹ کی صورت میں برآمدکنندگان کو 10گنا زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں جو کہ کوئی بھی برآمدکنندگان اپنی جیب سے نہیں دے گابلکہ نقصان اٹھانے کے بجائے اپنی انڈسٹری کو بند کرنے پر مجبور ہوگا جس سے بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا اور برآمدی صنعتیں دیوالیہ ہوجائیں گے۔انہوں نے تجویز دی کہ گھروں میں گیزرکے استعمال کی بجائے انسٹنٹ گیزرکے استعمال کوترجیح دی جائے جو گیس کی بچت کے ساتھ بل کو بھی کم کرتاہے جبکہ عام گیزر گیس کو ضائع کرنے کے ساتھ زائد بل کابھی باعث بنتا ہے جس پر توجہ دے کر گیس کی بڑی حد تک بچت کی جاسکتی ہے۔

گیس عدم فراہمی

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...