او ورسیز کمیشن کی ایڈوائزری کونسل کا قیام قانون کے مطابق ہوا

او ورسیز کمیشن کی ایڈوائزری کونسل کا قیام قانون کے مطابق ہوا

  



لاہور(پ ر)ترجمان او پی سی کا کہنا ہے کہ پنجاب اوورسیز پاکستانیز کمیشن ایڈوائزری کونسل کا قیام او پی سی ایکٹ2014ء کے تحت عمل میں آیا ہے ایڈوائزری کونسل کمیٹی کی باقاعدہ منظوری وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان احمد بزدار نے دی ہے جو کہ مختلف ممالک میں ممبر ایڈوائزری کونسل کاتقرر کرتی ہے کمیٹی ممبران نیک نام شہرت اور اپنی فیلڈ میں اتھارٹی مانے جانیوالے زیرک ممبران بشمول اوورسیز پاکستانیوں پر مشتمل ہے جو کہ مختلف ممالک میں ممبر ایڈوائزری کو نسل کا انتخاب کرتی ہے جس میں ہر ملک کے مروجہ قوانین و ضوابط کا بخوبی ادراک رکھنے والے تجربہ کار ممبران کا انتخاب کرتی ہے تاکہ وہ ان ممالک میں بسنے والے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو او پی سی کی معاونت سے احسن انداز میں حل کر سکیں۔ایڈوائزری کونسل کے ممبران کا انتخاب اور اہلیت کا معیار تمام تر قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔او پی سی ترجمان کے مطابق اوورسیز پاکستانی اکرم دھریجہ کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے نام نو منتخب یو کے ایڈوائزری کونسل کے حوالہ سے لکھے جانیوالے خط کے بے بنیاد مندرجات کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی سے پاس شدہ او پی سی ایکٹ2014 ء کے تحت او پی سی کا دائرہ کار صرف اور صرف صوبہ پنجاب تک محدود ہے اور دوسرے صوبوں میں فی الوقت ایسا کوئی کمیشن کام نہیں کر رہا ہے لہذا دیگر صوبوں کی جانب سے یو کے میں ممبر ایڈوائزری کونسل کا تقرر ابھی قطعی ناممکن ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ اگر کسی ملک میں کسی ممبر ایڈوائزری کونسل نے اوورسیز پاکستانیوں کے مفادات کے خلاف کام کیا یا کسی بھی قسم کی مالی و اخلاقی کرپشن میں ملوث پایا گیا تو ٹھوس شواہد کے ساتھ او پی سی قانونی کاروائی عمل میں لاتے ہوئے اس کی تقرری منسوخ کر سکتا ہے۔

ترجمان او پی سی

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...