آئیے مسکرائیں

آئیے مسکرائیں

  



٭پہلوان کی ٹانگ نیلی ہو گی۔حکیم کے پاس گیا۔اس نے معائنہ کر کے بتایا:”زہر پھیل رہا ہے ……ٹانگ کاٹنی پڑے گی“۔

تین دن بعد پہلوان کی دوسری ٹانگ بھی نیلی ہو گئی۔ دوبارہ حکیم کے پاس گیا۔ اس نے کہا۔”یہ بھی کاٹنی پڑے گی“۔اس طرح اس کی دنوں ٹانگیں کاٹ کے پلاسٹک کی لگا دیں۔چند دن بعد پلاسٹک کی ٹانگیں بھی نیلی ہو گئیں۔ وہ دوبارہ حکیم کے پاس پہنچا۔اس نے معائنہ کیااورکہا:”اب سمجھ آئی ……پریشان ہونے کی ضرورت نہیں,تمہاری دھوتی کا رنگ اتر رہا ہے۔“۔

٭دو پٹھانوں کو طالبان نے پکڑ لیا۔پوچھا۔ ”کون ہو؟“

کہا۔”ہم مسلمان ہیں؟“

پہلے سے پوچھا۔”نام کیا ہے؟“

کہا ”اخلاص خان“

بولے ”سورۃ اخلاص سناؤ؟“اس نے سورۃ اخلاص سنائی تو اسے چھوڑ دیا اور دوسرے سے پوچھا۔”تمہارا کیا نام ہے؟“

وہ گھبرا کے بولا۔”نام تو یٰسین خان ہے مگر پیار سے کوثر کہہ کر بلاتے ہیں“۔

٭استاد نے سکھ سے کہا تمہارا بیٹا فیل ہے یہ دیکھو اس کی رزلٹ شیٹ۔

ریاضی 19

اسلامیات 21

انگلش 20

سائنس 19

اردو 18

ٹوٹل 97

سردار بولا ”ٹوٹل وچ تے کمال کر دتا ہس۔اس سبجکٹ دا استاد کیڑا ہے“۔

٭استاد نے پوچھا۔”اگر تمہارے دوست کو دو سو کی ضرورت ہو اور تمہارے پاس پانچ سو کا نوٹ ہو ……تم وہی نوٹ اس کے حوالے کرتے ہو تو وہ کتنے پیسے واپس کرے گا؟“

شاگرد ”کچھ بھی نہیں۔“

استاد ”تم حساب کے بارے کچھ نہیں جانتے“۔

شاگرد۔”سر آپ ان بے غیرتوں کے بارے کچھ نہیں جانتے“۔

٭شیخ مرتے وقت۔”میری بیو ی کہاں ہے؟“

بیوی۔”میں یہاں ہو ں آپ کے پاس“

شیخ ”میرے بیٹے،بیٹیاں کہاں ہیں سارے“۔

تمام یک زبان ہو کر۔”ہم آپ کے پاس ہی ہیں ابو جان“۔

شیخ ”تو پھر ساتھ کے کمرے میں پنکھا کیوں چل رہا ہے؟“۔

٭خان صاحب ایک دوست کے گھر گئے تیز بارش شروع ہو گئی پٹھان کے دوست نے کہا یار آج یہیں رہ جاؤ بارش بہت تیز ہے۔خان صاحب بولا ٹھیک ہے اس کا دوست اس کے لیے بستر ٹھیک کرکے فارغ ہوا دیکھا تو خان صاحب غائب تھا،تھوڑی دیر بعد خان صاحب بارش میں بھیگا ہوا اس کے پاس آیا دوست نے پوچھا کہاں گئے تھے؟خان صاحب نے جواب دیا ہم گھر والوں کو بتانے گئے تھے کہ آج بارش کی وجہ سے ہم دوست کے گھر رات گزاریں گے۔

٭ایک دریا کے کنارے دو سردار دریا کے اندر چمچ سے دہی ڈال رہے تھے۔ ایک پٹھان وہاں آیا اور پوچھا ”بھائی یہ کیا کر رہے ہو۔؟“

سردار بولے ”ہم لسّی بنا رہے ہیں“

پٹھان ”ہا ……ہا……ہا او پاگل کے بچو اسی لیے لوگ تم پہ لطیفے بناتے ہیں اتنی لسّی پیئے گا تمہارا باپ؟“

٭”وائف،بیوی اور بیگم میں کیا فرق ہے ………………؟“

”کچھ نہیں میرے دوست یہ انڈیا،بھارت اور ہندوستان کی طرح ایک ہی مصیبت کے تین نام ہیں۔“

٭فقیر فون پہ ”ہیلو پیزا! ہٹ“

آپریٹر ”یس سر“

فقیر ”31 بڑے پزا 6چکن اور 2پیپسی بھیج دو۔“

آپریٹر ”کس کے نام پہ؟“

فقیر ”اللہ کے نام پہ۔“

٭ریس دیکھتے ہوئے پٹھان نے اپنے ساتھ بیٹھے بندے سے پوچھا انعام کس کو ملے گا؟“ اس نے کہا ”سب سے آگے والے کو۔“

پٹھان:”تو یہ پیچھے والے کیوں دوڑ رہے ہیں۔“

٭سردار:Nothingکا کیا مطلب ہے؟“

ٹیچر ”کچھ نہیں۔“

سردار ”بے غیرتی نہ کر اگر لفظ بنایا ہے تو کچھ مطلب تو ہو گا۔“

٭لڑکی استاد سے ”یہ پیار کیا ہوتا ہے؟“

استاد:”جب تم بڑی ہو کر اچھی بچی بنو گی تو تمہیں بھی ایک پیار کرنے والا ملے گا۔“

لڑکی:”اگر میں اچھی بچی نہ بنی پھر؟“

استاد:”پھر کئی پیار کرنے والے ملیں گے۔“

٭پٹھان نے اپنی قضا نماز کی نیت کی: ”2رکعت نماز فرض قضا فجر، 4نومبر2008 5:20 والا نیا ٹائم اللہ اکبر۔

٭پٹھان:I am going۔”کا کیا مطلب ہے؟“

پروفیسر: ”میں جا رہا ہوں۔“

پٹھان: ”ایسے تو تیرا باپ بھی نہیں جا سکتا پہلے مطلب بتا۔“

٭پٹھان کو کسی نے دعوت پر بلایا پٹھان اس کے گھر گیا تو وہ نہیں تھا اور دروازے پر تالا لگا ہوا تھا،پٹھان کو غصہ آیا اور اس نے دروازے پر لکھ کر لٹکا دیا کہ۔ ”میں آیا ہی نہیں تھا۔“

٭باپ بیٹے سے ”پڑوس کی لڑکی کو دیکھو امتحان میں فرسٹ آئی ہے“

بیٹا ”اسی کو دیکھ دیکھ کر تو فیل ہوا ہوں۔“

٭سردار ”جدوں میری نویں نویں شادی ہوئی سی تو مجھے تیری بھابی انیں چنگی لگدی سی کہ میرا دل کردا سی کہ انوں کھا جاواں“

دوست: ”اور اب“

سردار:”کھا ہی جاندا تے چنگا سی“

٭دو سردار جنگل میں گئے سامنے سے شیر آگیا ایک نے مٹی اْٹھا کر شیر کی آنکھوں میں ڈالی اور بھاگنے لگا دوسر ا کھڑا رہاوہ اْس سے بولا ”اوے بھاگ“

دوسرا بولا ”میں کیوں بھاگوں مٹّی تو توْ نے ڈالی ہے“

٭سردار بیٹے سے ”اوے تیرے رزلٹ کا کیا بنا“

بیٹا ”مس کہندی اے اس کلاس وچ ایک سال اور لگانا پڑے گا۔“

سردار ”سال بھانویں دو تین لگ جاون پر فیل نہ ہوئیں میرا پتّر“

٭پہلا دوست ”یار میں جس لڑکی کو چاہتا تھا اس نے مجھ سے شادی نہیں کی۔“

دوسرا دوست ”تم نے اسے بتایا نہیں کہ تمہارا چچا کتنا امیر آدمی ہے۔“

پہلا دوست ”بتایا تھا۔“

دوسرا دوست ”پھر؟“

پہلا دوست ”پھر کیا ابھی وہ میری چچی ہے۔“

٭وکیل ”مائی لارڈ قانون کی کتاب کے صفحہ نمبر 15کے مطابق میرا موکل بے گناہ ہے۔“

جج ”کتاب پیش کی جائے“ کتاب پیش کی گئی،جج نے مطلوبہ صفحہ کھولا تو اْس میں پانچ پانچ ہزار کے دو نوٹ رکھے ہوئے تھے۔

جج ”اس طرح کے دو ثبوت اور پیش کیے جائیں“

٭پٹھان جراسک پارک فلم دیکھ رہا تھا فلم میں ڈائینو سارس سکرین کی طرف دوڑا اور پٹھان جلدی سے اٹھ کر باہر کی طرف بھاگا اس کے دوست نے اسے کہا کہ ”بیوقوف ڈر کیوں رہے ہو یہ تو صرف فلم ہے“

پٹھان ”مجھے بھی پتہ ہے کہ یہ فلم ہے مگر اسے کیا پتہ وہ تو جانور ہے۔“

٭پٹھان۔ ”جب ہم چھوٹا سا تھا تو مینارِپاکستان سے گر گیا تھا۔“

دوسرا پٹھان ”پھر تم مر گیا تھا یا بچ گیا؟“

پہلا پٹھان ”ہم کو یاد نہیں ہم اس وقت چھوٹا تھا“۔

٭پٹھان دوسرے پٹھان سے ”اوئے تمہارے چھوٹے بھائی کی مونچھیں ہیں اور تمہاری نہیں؟“

پٹھان ”اس میں حیرانی کی کیا بات ہے وہ باپ پہ گیا ہے اور میں ماں پر۔“

٭استاد پٹھان سے ”کہانی سناؤ“

پٹھان ”ایک دن ہم ان کے گھر گیا تو وہ سوئے ہوئے تھے، ایک دن وہ ہمارے گھر آئے توہم سوئے ہوئے تھے۔“

نتیجہ ”جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔“

٭بیوی شوہر سے ”سنا ہے آپ کا دوست غلط لڑکی سے شادی کر رہا ہے آپ اس کو روکتے کیوں نہیں۔“

شو ہر ”میں کیوں روکوں اس کمینے نے مجھے روکا تھا کیا“۔

٭ایک عورت پٹھان انسپکٹر سے ”میرا شوہر ایک ہفتہ پہلے آلو لینے گیا تھا ابھی تک واپس نہیں آیا“۔

پٹھان ”تو بہن کچھ اور پکا لو“۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...