صوبہ خیبر پختونخوا نے سب سے پہلے ڈیجیٹل پالیسی دی ہے، کامران بنگش

    صوبہ خیبر پختونخوا نے سب سے پہلے ڈیجیٹل پالیسی دی ہے، کامران بنگش

  



کوھاٹ (بیورو رپورٹ) خیبر پختونخوا حکومت نے پٹوار یوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے جون 2020ء تک 7اضلاع میں لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائز کرنے کا ہدف مقررکر دیا خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ نے امتحان کے نام سے نیا طریقہ کار تیار کیا ہوا ہے جس سے پرچہ آؤٹ ہونے یا نقل وغیرہ کی مکمل طور پر خاتمہ ہوگاگزشتہ روز محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے معاؤن خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران بنگش نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا واحد صوبہ ہے جس نے سب سے پہلے ڈیجیٹل پالیسی دی ہے لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کے حوالے سے کام انتہائی تیزی کیساتھ جاری ہے عوام کو ایک چھت تلے سہولیات کی بروقت فراہمی کے لئے سیٹیزن سہولت سنٹرز میں عوام کو 20 خدمات فراہم کی جائیں گی جسے بعد میں مزید وسعت بھی دی جاسکتی ہے مارچ 2020 تک ان مراکز کی تکمیل ہوجائے گی صوبے میں نچلی سطح پر سائنس و آئی ٹی کو فروغ دینے کے لئے ارلی ایج پروگرامنگ شروع کی گئی اس پروگرام کے تحت سرکاری سکولوں کے 17 ہزار طلباء کو تربیت دی جا چکی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں 10 ہزار طلباء کو تربیت دی جائے گی۔ خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ نے سائبر سیکیورٹی کی حالت بہتر بنانے کی غرض سے پاکستان کا سب سے پہلا سائبر ایمرجنسی اینڈ رسپانس سنٹر قائم کیا جہاں سے صحافیوں، طلباء اور دیگر سرکاری محکمہ جات کے آئی ٹی ایکسپرٹس و آفیسرز کو آگاہی سیشنز دئیے گئے اور ان کی تربیت بھی کی گئی۔محکمہ سائنس وآئی ٹی کی کوشش ہے کہ 2023 تک صوبے میں 6000 ہزار نوجوانوں کو آئی ٹی کے متعلق سٹیٹ آف دی آرٹ تربیت دی جائے۔

مزید : صفحہ اول