"کچھ بھی ہوسکتا ہے اوررانا ثنااللّٰہ کچھ بھی کرسکتے ہیں لیکن منشیات کی اسمگلنگ کا سوچ بھی نہیں سکتے" کس معروف ترین صحافی نے یہ گواہی دیدی؟ نام جان کرآپ کو بھی بے حد حیرت ہوگی

"کچھ بھی ہوسکتا ہے اوررانا ثنااللّٰہ کچھ بھی کرسکتے ہیں لیکن منشیات کی ...

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کو منشیات برآمدگی کے الزا م میں مقدمے  کا سامنا کرنا پڑا تاہم ہائیکورٹ سے ان کی ضمانت ہوگئی اور اس پر کئی لوگوں نے متعلقہ وزیر اور متعلقہ ادارے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کئی لوگ رانا ثنا اللہ کے منشیات فروش ہونے کی تردید کرتے رہے اور ان میں ایک نام معروف صحافی اور تجزیہ نگار حسن نثار بھی ہیں جن کاکہناتھا کہ "کچھ بھی ہوسکتا ہے اوررانا ثنااللّٰہ کچھ بھی کرسکتے ہیں لیکن منشیات کی اسمگلنگ کا سوچ بھی نہیں سکتے"۔

سلیم صافی نے روزنامہ جنگ میں لکھا کہ "جان اللّٰہ کو دینی ہے کا فقرہ بنیادی طور پر درست نہیں کیونکہ اپنی خوشی سے کوئی جان اللّٰہ کو نہیں دیتا۔صحیح فقرہ یہ ہے کہ ہماری مرضی ہو یا نہ ہو ،جان اللہ نے لینی ہے۔چنانچہ جان اللّٰہ نے لینی ہے کہ رانا ثنااللّٰہ کی گرفتاری کی خبر سنتے ہی ذہن نے قبول کرنے انکار کیا کہ وہ پندرہ بیس کلو ہیروئن اسمگل کرنے کے مرتکب ہوئے ہوں گے۔سوچا کہ بیس سال سے سیاست کرنے والے اور صوبائی وزیر رہنے والے شخص کیسے اتنا بے وقوف ہوسکتے ہیں کہ ایسے عالم میں، کہ دن رات حکومت کو للکار رہے ہوں، اپنی گاڑی میں ہیروئن بھر کر پھرتا رہے۔

شہریار آفریدی کے قسموں سے تھوڑا سا تذبذب ضرور ہوا لیکن جان اللّٰہ نے لینی ہے کہ اسے حسن نثار صاحب کی گواہی نے دور کردیا۔ حسن نثار صاحب فیصل آباد سے تعلق رکھتے ہیں اور ابھی تک لائل پور کہہ کر اس سے حد درجہ محبت بھی کرتے ہیں۔ وہ فیصل آباد کے ہر اہم بندے کی اصلیت سے بخوبی آگاہ ہیں۔

عمران خان صاحب کو لیڈر بنانے اور اس جگہ تک پہنچانے میں جن لوگوں نے کلیدی کردار ادا کیا ان میں ایک حسن نثار صاحب بھی ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ(ن) کی قیادت سے ان کا اختلاف بھی مسلمہ ہے لیکن اگلے روز جیونیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں گواہی دی کہ کچھ بھی ہوسکتا ہے اوررانا ثنااللّٰہ کچھ بھی کرسکتے ہیں لیکن منشیات کی اسمگلنگ کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

جان اللّٰہ نے لینی ہے کہ حسن نثار صاحب کی اس گواہی کے بعد یقین کامل ہوگیا تھا کہ رانا ثنااللّٰہ کو پھنسا دیا گیا ہے لیکن پھر بھی کبھی کبھار خیال آتا کہ شاید حکومت اپنے جھوٹے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ جگاڑ کرکے عدالت کے سامنے اتنا مواد تو پیش کرلے گی کہ جن سے کم از کم رانا صاحب مشکوک تو ہوجائیں گے لیکن ایسا کچھ نہ ہوسکا ۔

وزیرمملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے وہ تمام قسمیں اٹھالیں جو پاکستانیوں کی لغت میں موجود ہیں ، اتنے زور سے چیخے کہ جتنا کہ ایک انسان کے لئے ممکن ہے اور اتنی بار جان اللّٰہ کو دینی ہے کا فقرہ دہرایا کہ پاکستانی بچوں تک کو یہ فقرہ ازبر ہوگیا تاہم وہ ایک ثبوت بھی سامنے نہیں لاسکے جس کا بار بار تذکرہ کرتے رہے۔

اب وہ فرمارہے ہیں کہ انہوں نے فوٹیج کی بات کی تھی نہ کہ ویڈیو کی ، حالانکہ کسی بھی ڈکشنری سے رجوع کرکے دونوں کے فرق کو بخوبی معلوم کیا جاسکتا ہے۔بہ ہر حال رانا ثنااللّٰہ کو قید تنہائی میں خطرناک دہشت گردوں کی طرح رکھا گیا۔ان کی بہادر اہلیہ کو بھی خوف زدہ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ الٹا حکومت عدالت میں تاخیری حربے استعمال کرتی رہی۔ کبھی جج بدلے گئے اور کبھی دیگر تاخیری حربے استعمال کئے جاتے رہے لیکن ظاہر ہے کہ کچھ جج دل سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جان اللّٰہ نے لینی ہے۔ چنانچہ گزشتہ روز رانا ثنا اللّٰہ کو لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کردیا۔

رانا ثنااللہ کی سوچ اور طرز سیاست سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن انہوں نے ہر موقع پر ثابت کیا ہے کہ وہ ایک بہادر انسان ہیں۔ اب کے بار تو ثابت ہوگیا کہ ان کی اہلیہ ان سے بھی زیادہ بہادر ہیں۔ رانا صاحب اور ان کے اہل خانہ پر جو گزری سو گزری اور آگے بھی برداشت کرلیں گے لیکن اس معاملے کو صرف رانا صاحب کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس سے کئی اداروں اور کسی حد تک ملک کا بھی وقار مجروح ہوا۔اینٹی نارکاٹکس فورس پاکستان کا ایک اہم ترین ادارہ ہے جس کے افسران کا تعلق پاک فوج سے ہوتا ہے۔سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ایک جھوٹے اور من گھڑت کیس میں اے این ایف کو استعمال کیا گیا ۔ یوں پاک فوج سے متعلق ایک اہم قومی ادارے کے امیج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔دوسرا اثر پاکستان کے عالمی امیج پر پڑا۔

ہم اسے لاکھ مذاق سمجھیں لیکن منشیات عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ ہے اور جن ممالک کو سپلائی کا روٹ سمجھا جاتاہے بدقسمتی سے ان میں ایک پاکستان بھی ہے۔ ہم ماضی میں دنیا کو باور کراچکے تھے کہ پاکستان کی ریاست اس عفریت سے دنیا اور اپنے شہریوں کو محفوظ بنانے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہےاور اس مقصد کے لئے اے این ایف جیسا ادارہ اور مخصوص عدالتیں بھی قائم کی گئی ہیں۔ اب سیاسی انتقام کی خاطر ہماری حکومت نے عالمی برداری کو یہ منفی پیغام دیا کہ پاکستان میں وزیر کے منصب پر فائز رہنے والے رانا ثنااللہ جیسے قومی اسمبلی کے اراکین بھی اس دھندے میں ملوث ہیں لیکن اس واقعے کے بعد اب ہم دنیا کو کیسے باور کرائیں گے کہ پاکستانی ریاست اس کے روک تھام میں سنجیدہ ہے؟

اسی طرح اب دنیا ہمارے اے این ایف کے رول کو کیوں کر ماضی کی طرح قابل وقعت سمجھے گی؟ رانا ثنااللہ کے کیس میں جس طرح انسداد منشیات کی عدالتوں کےجج تبدیل کئے گئے اور جس طرح انصاف کی فراہمی میں تاخیری حربے استعمال کئے گئے اس کے بعد ہم ان عدالتوں کو دنیا کے سامنے کیسے بطور دلیل پیش کرسکیں گے؟۔

متعلقہ وزیر کی طرف سے جھوٹ بولنے میں عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے بعد اب جب ہمارے وزرا عالمی فورمز پر پاکستان کا کیس پیش کریں گے تو دنیا کیسے ان پر یقین کرے گی کیونکہ عالمی فورمز پر تو نہ قسمیں اٹھانے سے کام چلتا ہے اور نہ سننے والے ،جان اللہ کو دینی ہے، جیسے فقروں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ وہاں تو کردار اور دلیل کو دیکھا جاتا ہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ رانا ثنااللہ کے کیس کے ذریعے ہم نے اپنے شہریوں کو کیا پیغام دیا؟ یہ کوئی مذاق نہیں۔ رانا ثنااللہ پر جو الزام لگایا گیا اس کی سزا موت ہے۔

عام شہری یہ سوچے گا کہ اگر رانا ثنااللہ جیسے بااثرپاکستانی کے خلاف ایسا الزام حکومت ریاستی اداروں کو استعمال کرکے لگا سکتی ہے تو پھر عام شہری کا کیا ہوگا؟ پھر سوال یہ ہے کہ اس کے بعد عام شہری اس ریاست میں اپنے آپ کو کیسے محفوظ سمجھ سکتا ہے اور وہ کیوں کر اس ریاست پر اعتماد کرسکتا ہے؟

اس سے بھی بڑاسوال یہ ہے کہ اگر سچ مچ کسی انسان کے ذہن میں یہ حقیقت تازہ ہو کہ جان اللہ نے لینی ہے تو کیا وہ انسان کے خلاف ایسا من گھڑت الزام لگانے کا سوچ سکتاہے کہ جس کی سزا موت ہو"۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...