’ اپنے گھر میں شکست کھانے والوں کے منہ۔۔۔‘فردوس عاشق اعوان بھی میدان میں آگئیں

’ اپنے گھر میں شکست کھانے والوں کے منہ۔۔۔‘فردوس عاشق اعوان بھی میدان میں ...
’ اپنے گھر میں شکست کھانے والوں کے منہ۔۔۔‘فردوس عاشق اعوان بھی میدان میں آگئیں

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان بھی میدان میں آگئیں اور کہا ہے کہ اپنے گھر میں شکست کھانے والوں کے منہ سے نئے سال میں نئے الیکشن کی بات مضحکہ خیز ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بلاول بھٹو کے گزشتہ روز دیئے گئے بیان پرردعمل دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ ’بلاول صاحب! 2020 عوامی خوشحالی اور قومی ترقی کاسال ہوگا۔اپنے گھر لاڑکانہ سے شکست کھانے والوں کے منہ سے نئے سال میں نئے الیکشن کی بات مضحکہ خیز اور بی بی شہید کے فلسفے کی نفی ہے۔لاڑکانہ کی حالیہ شکست کرپشن کے خلاف عوام کا اعلان بغاوت ہے۔

انہوں نے کہا’بلاول صاحب! پاکستان کے عوام نے دو خاندانوں کے دہائیوں سے مسلط اقتدار کو زمین بوس کر کے عمران خان کی قیادت میں حقیقی عوامی راج قائم کر دیا ہے۔

فردوس کے مطابق ’اپوزیشں قیادت سیاسی منافقت کی بدترین مثال ہے۔ایک ہی سانس میں جمہوریت کی حمایت دوسرے میں مخالفت کرتے ہیں۔خود اقتدار میں ہوں تو حکومت آئینی مدت پوری کرے،عوام اقتدار عمران خان کو دیں تو ان کی طبیعت ناگوار کیوں؟

واضح رہے کہ گزشتہ روز راولپنڈی میں اپنی والدہ اور سابق وزیراعظم پاکستان محترمہ بے نظیربھٹو کی برسی پر جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ 2020نئے الیکشن کاسال ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ موجودہ حکمرانوں سے ملک، حکومت اور معیشت کچھ بھی نہیں چل رہا اور سنہ 2020 صاف شفاف الیکشنز اور عوامی راج کا سال ہو گا۔

بلاول بھٹو نے یہ بات جمعے کو پنجاب کے شہر راولپنڈی میں عین اسی مقام پر ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے جہاں 12 برس قبل پارٹی کی سابق چیئرمین بینظیر بھٹو کو قتل کر دیا گیا تھا۔طبیعت کی خرابی کے باعث پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری جلسے میں شرکت نہ کر سکے تاہم بلاول کے خطاب سے قبل ان کے والد کا ویڈیو پیغام سٹیج سے سنایا گیا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان پر سیاسی یتیموں کا راج ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں بینظیر بھٹو متنبہ کرتی تھیں۔’ہماری خود مختاری کا حال یہ ہے کہ ہمارا وزیر اعظم این او سی کے بغیر کسی دوسرے ملک کا دورہ نہیں کر سکتا، ملک کی معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف بنا رہا ہے، یہ وہ جمہوریت نہیں جس کے لیے ہم نے قربانیاں دیں، یہ وہ آزادی نہیں جس کا وعدہ قائد اعظم نے کیا تھا۔‘

بلاول کا کہنا تھا کہ آج پھر دھرتی پکار رہی ہے کہ وہ خطرے میں ہے، پارلیمان پر تالا لگ چکا ہے، میڈیا آزاد نہیں اور عدلیہ پر حملے ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صوبوں سے ان کا حق چھین کر وفاق کو کمزور کیا جا رہا ہے، انتہا پسندی پوری معاشرے میں پھیل چکی ہے، تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگ سراپا احتجاج ہیں اور عوام کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’یہ تجربہ فیل ہو چکا ہے، آئینی اور معاشی بحران ہے، سیاسی رہنماو¿ں اور خواتین کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی یتیم گھبرا چکے ہیں اور ان کا کٹھ پتلی راج لڑکھڑا رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پہلے ایک سال میں دس لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں اور جب ہم حکومت کی توجہ بے روزگاری کی جانب مبذول کرواتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک طرف یہ صورتحال ہے جبکہ دوسری جانب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے آٹھ لاکھ لوگوں کو نکالا گیا ہے جو کہ درحقیقت غریبوں کا معاشی قتل ہے۔

بلاول نے کہا خیبر سے کراچی تک عوام کہہ رہے ہیں کہ ’الوداع الوداع سیاسی یتیم الوداع، الوداع الوداع سلیکٹڈ حکومت الوداع۔‘انہوں نے کہا پاکستان پیپلز پارٹی ملک کو آزادی دلوائے گی، ووٹ کا تحفظ کرے گی، نوجوانوں اور کسانوں کو ان کا حق دلوایا جائے گا، مزدوروں کو ان کی محنت کا صلہ دیا جائے گا اور بینظیر کے نامکمل مشن کو مکمل کیا جائے گا۔’جیالو میرا ساتھ دو۔ ہمارا ملک، جمہوریت اور آزادی خطرے میں ہے یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم نے اسے بچانا ہے اور بے نظیر کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ‘

اپنی تقریر کے آغاز میں بلاول بھٹو زرداری نے اپنے نانا اور والدہ کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ملک اور قوم کے لیے ان کی خدمات کو دہرایا۔

انھوں نے کہا کہ ان کی والدہ پاکستان میں عوامی راج قائم کرنے کے لیے واپس آئی تھیں مگر 27 دسمبر کو اسی لیاقت باغ میں انھوں نے اپنے آخری جلسے سے خطاب کیا اور دنیا میں پاکستان کی پہچان بننے والی خاتون کو بم دھماکے میں سرعام شہید کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا ان کی والدہ کے دن دیہاڑے ہوئے قتل کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے نہ صرف اپنے غم اور غصے کو قابو میں رکھا بلکہ انتقام اور انتشار کی سیاست سے گریز کرتے ہوئے مفاہمت اور برداشت کی سیاست کی اور پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔

’سنہ 2008 میں بننے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز کو لے کر چلی اور 1973 کا آئین 18ویں ترمیم کے ذریعے بحال کیا۔‘

بلاول کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ کو صرف اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ وہ وہ طاقت کا سرچشمہ صرف عوام کو مانتی تھیں اور وہ کسی آمر کے سامنے سر جھکانے کو تیار نہیں تھیں۔

بی بی سی کے مطابق پنڈال پارٹی کارکنان سے مکمل طور پر بھرا ہوا تھا اور مزید گنجائش کی کمی کے باعث خواتین کے لیے مختص کی گئی جگہ پر بھی مرد کارکنان کی کثیر تعداد موجود تھی۔لیاقت باغ کے باہر بھی لوگوں کا ہجوم جمع تھا اور لیاقت باغ پہنچنے والوں میں سے زیادہ تر کارکنان کا تعلق راولپنڈی، خیبر پختونخوا اور سندھ کے مختلف شہروں سے تھا۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...