رانا ثنا اللہ پر مقدمہ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ چوہدری شجاعت حسین کے والد چوہدری ظہور الٰہی پر بھینس چوری کے مقدمے  کے علاوہ انہیں  دہشتگرد بھی قراردیا جاچکا ہے؟ وہ بات جو شایدآپ کو معلوم نہیں

رانا ثنا اللہ پر مقدمہ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ چوہدری شجاعت حسین کے والد ...
رانا ثنا اللہ پر مقدمہ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ چوہدری شجاعت حسین کے والد چوہدری ظہور الٰہی پر بھینس چوری کے مقدمے  کے علاوہ انہیں  دہشتگرد بھی قراردیا جاچکا ہے؟ وہ بات جو شایدآپ کو معلوم نہیں

  



لاہور (ویب ڈیسک) منشیات سمگلنگ کے الزام میں پھنسے رانا ثنا اللہ کو عدالت سے ضمانت پر رہائی مل گئی اور اس مقدمے پر شروع دن سے انگلیاں اٹھ رہی تھیں لیکن آپ کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ چوہدری شجاعت حسین کےو الد چوہدری ظہور الٰہی پر بھی بھینس چوری کا جعلی مقدمہ بنایا گیا ، اس کے علاوہ انہیں اسلحہ سمگلنگ کے الزام میں دہشتگرد بھی قراردیا گیا تھا ۔

روزنامہ جنگ میں محمد بلال غوری نے لکھا کہ "لاہور ہائیکورٹ کی یہ آبزرویشن بالکل درست ہے کہ مخالفین سے سیاسی انتقام ہمارے ملک کا کھلا راز ہے ۔البتہ ہر دور میں سیاسی انتقام کے انداز و اطوار بدل جاتے ہیں۔پہلے بھینس چوری کے مقدمات سے کام چلالیا جاتا تھا مگر اب سیاسی لوگوں کو ہیروئن اور ایفی ڈرین کے مقدمات میں اُلجھا دیاجاتا ہے۔یادش بخیر ،اس سے پہلے مسلم لیگ(ن)کے رہنما حنیف عباسی کو بھی ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی مگر لاہور ہائیکورٹ نے انہیں سنائی گئی سزا معطل کرتے ہوئے ضمانت پر رہا کر دیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دورِحکومت میں ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت چوہدری ظہورالہٰی کیخلاف بنائے گئے ایک مقدمے میں ضمانت منظور ہوگئی مگر اوپر سے حکم تھا کہ انہیں رہا نہیں کرنا ۔ایس ایچ او نے اپنی نوکری بچانے کے لئے چوہدری ظہورالٰہی کیخلاف بھینس چوری کا مقدمہ درج کرکے ڈیرے پر باندھے گئے جانوروں کو مالِ مسروقہ قرار دیتے ہوئے برآمد کرلیا۔یہ مقدمہ تب ختم ہوا جب ایف آئی آر میں مدعی بنائے گئے شخص نے لاہور ہائیکورٹ میں جا کر بیان دے دیا کہ نہ تو اس کی کوئی بھینس چوری ہوئی ہے اور ناں ہی اس نے اندراج مقدمہ کی کوئی درخواست دی ہے۔اسی طرح عراقی سفارتخانے سے اسلحہ برآمد ہوا تو نیپ کے رہنمائوں اور چوہدری ظہور الٰہی کو گرفتار کرکے دہشتگرد قرار دیدیا گیا۔

سرکاری طور پر بتایا گیا کہ پکڑے گئے غیر ملکی اسلحہ کی کھیپ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو پہنچائی جانی تھی اور یہ سب سیاستدان اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔

چوہدری ظہورالٰہی کو بھی کوہلو جیل لے جا کر قید کردیا گیا اور چوہدری شجاعت حسین کا دعویٰ ہے کہ بھٹو صاحب نے اپنے خاص لوگوں کے ذریعے یہ پیغام گورنر بلوچستان نواب اکبر بگٹی کو پہنچایا کہ چوہدری ظہورالہٰی کو پولیس مقابلے میں ماردیا جائے مگر نواب اکبر بگٹی نے اجرتی قاتل بننے سے انکارکردیا۔

یہ معاملہ سپریم کورٹ میں تب ختم ہوا جب اعلیٰ عدالت نے قرار دیا کہ کوئی ایسا شخص جس کے خلاف پاکستان کے قانون کے تحت کوئی مقدمہ درج ہوا ہو ،اسے قبائلی علاقے میں لے جا کر جرگے کے تحت سزا نہیں دی جا سکتی"۔

انہوں نے مزید لکھا کہ اسی طرح نوے کی دہائی میں بینظیر بھٹو اور نوازشریف کی حکومتوں میں سیاسی مخالفین سے انتقام کی جو روش اپنائی گئی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔بالخصوص نوازشریف کے دوسرے دورِحکومت میں احتساب سیل کے چیئرمین نے جو انتقامی کارروائیاں کیں وہ ہماری سیاسی تاریخ پر بدنما داغ ہیں ۔اس دوران آصف زرداری کو بھی رانا ثنااللہ کی طرح منشیات  سمگلنگ کے مقدمے میں پھنسانے کی پوری کوشش کی گئی۔

چوہدری شجاعت حسین نے اپنی سوانح حیات ’’سچ تو یہ ہے ‘‘میں اس حوالے سے ڈالے جا رہے دبائو کا ذکر تفصیل سے کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ایک روز میں نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس کو اپنے دفتر بلایا اور علیحدہ میٹنگ کی ۔میں نے کہا،اللہ نے ہمیں منصف بنایا ہے ،یہ ایک شخص کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے ۔پھر میں نے پوچھا کہ یہ کیس سچا ہے یا جھوٹا۔ڈی جی نے جواب دیا کہ کیس تو بالکل جھوٹا ہے اور جس آدمی کے بیان پر یہ کیس دائر کرنے کےلئے کہا جا رہا ہے ،وہ بھی نہایت بدنام ہے۔

یہ سننے کے بعد میں نے ڈی جی سے کہا ،آپ اس کیس کے بارے میں ہماری آج کی میٹنگ کا حوالہ دے کر کیس کے تمام کوائف اور اس پر اپنی دیانت دارانہ رائے تحریری طور پر مجھے بھجوا دیں۔ڈی جی اگلے ہی روز ،یعنی 19اکتوبر1997ء کو اپنی تحریری رائے کیساتھ کیس کی فائل لے کر آگئے۔انہوں نے آخری صفحے پر اپنی سمری میں کیس کو اخلاقی اور قانونی طور پر غلط قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس کے نزدیک یہ کیس بے حد کمزور ہے لہٰذا اس متنازعہ کیس میں نہیں پڑنا چاہئے۔‘‘

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...