نیب ترمیمی آرڈیننس کیخلاف سپریم کورٹ اورلاہورہائیکورٹ میں درخواستیں دائر

نیب ترمیمی آرڈیننس کیخلاف سپریم کورٹ اورلاہورہائیکورٹ میں درخواستیں دائر
نیب ترمیمی آرڈیننس کیخلاف سپریم کورٹ اورلاہورہائیکورٹ میں درخواستیں دائر

  



کراچی (ڈیل پاکستان آن لائن)نیب ترمیمی آرڈیننس کیخلاف سپریم کورٹ اورلاہورہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کردی گئیں ،درخواست میں وفاق،چیئرمین نیب،وزارت قانون اوردیگرفریق بنایا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب ترمیمی آرڈیننس کیخلاف سپریم کورٹ رجسٹری میں درخواست دائر کردی گئی،درخواست میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس آرٹیکل 25 کےخلاف ہے،آرڈیننس وزرااورسرکاری افسران کی کرپشن کوتحفظ دینے کی کوشش،آرٹیکل 25 کے مطابق تمام شہری قانون کی نظرمیں برابرہیں،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نیب ترمیمی آرڈیننس فوری معطل کرنےکاحکم دے،درخواست میں وفاق،چیئرمین نیب،وزارت قانون اوردیگرفریق بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب لاہورہائیکورٹ میں درخواست گزارایڈووکیٹ اشتیاق چودھری نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ترمیمی آرڈیننس آئین اورقانون کے منافی ہے ،نیب قوانین میں ترمیم سے وائٹ کالر مجرموں کو فائدہ ہوگا ،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ صدارتی آرڈیننس بدنیتی پر مبنی اورکالعدم قراردیاجائے ۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نیب ترمیمی آرڈیننس پر دستخط کردیے جس کے بعد نیب کا نیا ترمیمی آرڈیننس نافذالعمل ہو گیا۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ نے بذریعہ سمری سرکولیشن قومی احتساب بیورو ترمیمی آرڈیننس 2019 کی منظوری دی تھی۔آرڈیننس کے مطابق محکمانہ نقائص پر سرکاری ملازمین کے خلاف نیب کارروائی نہیں کرے گا، ایسے ملازمین کے خلاف کارروائی ہوگی جن کے خلاف نقائص سے فائدہ اٹھانے کے شواہد ہوں گے۔

آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازم کی جائیداد کو عدالتی حکم نامے کے بغیر منجمد نہیں کیا جا سکے گا اور اگر تین ماہ میں نیب تحقیقات مکمل نہ ہوں تو گرفتار سرکاری ملازم ضمانت کا حقدار ہوگا مگر سرکاری ملازم کے اثاثوں میں بے جا اضافے پر اختیارات کے ناجائز استعمال کی کارروائی ہو سکے گی۔اس کے علاوہ نیب 50 کروڑ سے زائد کی کرپشن اور اسکینڈل پر کارروائی کر سکے گا۔ترمیمی آرڈیننس کے مطابق ٹیکس، اسٹاک ایکسچینج، آئی پی اوز سے متعلق معاملات میں نیب کا دائرہ اختیار ختم ہوگیا، ان تمام معاملات پر ایف بی آر، ایس ای سی پی اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کارروائی کریں گی گے۔علاوہ ازیں زمین کی قیمت کے تعین کے لیے ایف بی آر یا ڈسٹرکٹ کلکٹر کے طے کردہ ریٹس سے نیب، کارروائی کے لیے رہنمائی لے گا۔

مزید : قومی /علاقائی /سندھ /کراچی


loading...