"سب کچھ میرے پاس لندن میں ہے، پاکستا ن میں ایسی کوئی چیز نہیں جس کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں" جج ویڈیو سکینڈل کے مرکزی کردار نے حیران کن انکشاف کردیا

"سب کچھ میرے پاس لندن میں ہے، پاکستا ن میں ایسی کوئی چیز نہیں جس کیلئے چھاپے ...

  



کراچی(ویب ڈیسک) نیب اور اے این ایف کے بعد ایف آئی اے بھی متحرک ہو گئی، چھاپے مارے جارہے ہیں اور ن لیگ کے سیکرٹریٹ کے بعد  ن لیگ کے رہنما سلیم رضا کے گھر پر چھاپہ مارا گیا تاہم ن لیگ کے رہنما ناصر بٹ نے کہا کہ جج ارشد ملک ویڈیو سے متعلق سب کچھ میرے پاس لندن میں ہے، پاکستا ن میں ایسی کوئی چیز نہیں جس کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ وہ چھاپے مار کر عمران خان کو تسلی دے رہے ہیں، انہوں نے ابھی تک میرے بھتیجے کو جیل میں رکھا ہوا ہے، ایف آئی اے کی کوشش ہے کہ اس پر 480لگایا جائے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ناصر بٹ کاکہناتھاکہ آج تک ویڈیو کیس سے متعلق ایف آئی اے نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھا، ویڈیو کا شریف خاندان میں کسی کو نہیں پتا تھا، میں نواز شریف کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے جاتا تو دیکھتا کہ وہ کس طرح تکلیف میں ہیں، جج ارشد ملک سزا کے بعد جب مجھے ملتے یہی کہتے کہ میں نے نواز شریف کے ساتھ سزا سنا کر بڑی زیادتی کردی ہے، جج ارشد ملک نے مجھے بتایا کہ وہ بہت دباﺅ میں تھےانہیں ایک جگہ بٹھا کر ویڈیو دکھائی گئی، وہ ویڈیو ایسی تھی جسے دیکھ کر وہ پریشان ہوگئے، میں نے جب ان سے پوچھا کہ وہ کیا ویڈیو تھی؟

انہوں نے کہا کہ وہ ایسی ویڈیو تھی جسے دیکھ کر خودکشی کرنے کو دل کرتا تھا، جج ارشد ملک نے مجھے مزید بتایا کہ اس ویڈیو کو دکھانے کے بعد مجھ پر دباﺅ ڈالا گیا، میں نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دباﺅ میں دیا، کیس بنانے والے نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے،جج ارشد ملک نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کو کچھ باتیں لکھوانی ہیں جس میں یہ ثابت ہوجائے گا کہ نواز شریف کیخلاف کوئی ثبوت نہیں ہے، میں ارشد ملک کے گھر گیا اور ساتھ اپنا اکاﺅنٹنٹ بھی لے گیا تھا جسے حراست میں لے لیا گیا ہے، جج ارشد ملک کو نہیں بتایا تھا کہ ا ن کی ویڈیو بنائی جارہی ہے۔

ان کاکہناتھاکہ ارشد ملک کی ویڈیو بنانے کا مقصد کسی کو بلیک میل کرنا نہیں تھا، ویڈیو بنانے کا مقصد میرا صرف یہ تھا کہ جج ارشد ملک مجھے جو بات بتائیں گے شاید میں بھول نہ جاﺅں تو میں نے اپنے اکاﺅنٹنٹ کو کہا تم لکھو اور ویڈیو بھی آن رکھو، نواز شریف جیل چلے گئے تھے اس لئے میں نے مریم نواز کو فون کر کے ان سے ملاقات کی اور انہیں ویڈیو دکھائی، اس سے پہلے نواز شریف او ر مریم نواز کو اس بارے میں کچھ علم نہیں تھا جج ارشد ملک نے مجھے ایسی باتیں بنائیں جنہیں سن کر حیران تھا،  انہیں بلا کر کہا گیا کہ آپ نے قانون سے ہٹ کر فیصلہ کرنا ہے، ملک حالت جنگ میں ہے آپ نے نواز شریف کو ضرور سزا دینی ہے،  انہیں ایسے ڈراﺅنے خواب آتے ہیں میں رات کو سو نہیں سکتا مجھے افسوس ہوتا ہے کہ میں نے ایسا کیوں کیا۔

ناصر بٹ نے مزید کہا کہ جج ارشد ملک کے گھر جاتے ہوئے ہی ویڈیو کیمرہ آن کردیا تھا، اس کے بعد ارشد ملک نے جو کچھ کہا وہ ویڈیو میں ریکارڈ ہوتا رہا، ویڈیو کے ساتھ میری جیب میں رکھے فون میں آڈیو بھی ریکارڈ ہو رہی تھی،ویڈیو بناتے وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اتنا بڑا سکینڈل بن جائے گا، مجھے خوشی ہے کہ ایک بے گناہ شخص کو جس طرح سزا دی جارہی تھی وہ میڈیا کے سامنے آگیا۔

ناصر بٹ کا کہنا تھا کہ ارشد ملک سے میرے بھائی عارف بٹ کا تعلق تھا، میری بھی ا ن سے بات چیت رہتی تھی لیکن میں لندن آگیا، دس پندرہ سال میں جب بھی پاکستان گیا ان سے ہیلو ہائے ہوجاتی تھی لیکن اس مسئلہ پر کبھی بات نہیں ہوئی، میں اگر جج ارشد ملک پر کوئی دباﺅ ڈالتا تو وہ مجھے اپنے گھر کیوں بلاتے، مجھے نہیں پتا کہ ناصر جنجوعہ کے ساتھ ارشد ملک کی کیا بات تھی،نواز شریف کو سزا کے بعد میری ارشد ملک سے ملاقات ہوئی، جج ارشد ملک مجھ سے کہتے تھے کہ میں نے بے گناہ آدمی کو سزادیدی ہے  میں نے ارشد ملک سے کہا کہ نواز شریف آپ سے نہیں ملنا چاہتے، اس کے بعد بھی جج ارشد ملک کا اصرار جاری رہا کہ ان کی نواز شریف سے ملاقات کروادی جائے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی


loading...