قومی اداروں کا اہم اور حساس ڈیٹا غیر ملکی ڈونر ایجنسی کو دینے کا معاملہ،نیب نے این جی اوز اور حکومتی شخصیات کیخلاف تحقیقات بند کردیں

قومی اداروں کا اہم اور حساس ڈیٹا غیر ملکی ڈونر ایجنسی کو دینے کا معاملہ،نیب ...
قومی اداروں کا اہم اور حساس ڈیٹا غیر ملکی ڈونر ایجنسی کو دینے کا معاملہ،نیب نے این جی اوز اور حکومتی شخصیات کیخلاف تحقیقات بند کردیں

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی احتساب بیورو(نیب)نے قومی اداروں کا اہم اور حساس ڈیٹا غیر ملکی ڈونر ایجنسی کو دینے کے معاملے پر برطانیہ کی فنڈنگ سے چلنے والی این جی او اور پنجاب حکومت کی اہم شخصیات کےخلاف تحقیقات بندکردی گئیں،ڈی جی نیب لاہور نے سابق سیکرٹری پراسیکیوشن کی انکوائری چیف سیکرٹری پنجاب کو بھجوا دی۔

میڈیارپورٹس کے مطابق سیکرٹری پبلک پراسیکیوشن پنجاب سمیت دیگر کےخلاف دسمبر 2018 میں شکایات موصول ہوئیں،نیب ذرائع کاکہنا ہے کہ سید علی مرتضیٰ شاہ پر ملکی اداروں کا اہم ڈیٹا غیر ملکی ایجنسی کو فراہم کرنے کا الزام ہے، ڈیٹا فراہم کرنے کے عوض ملزم 375 پاونڈ روزانہ کی بنیاد پر وصول کرتا رہا۔ ملزم نے 60 ڈی پی جیز کو میرٹ اورسنیارٹی کے برعکس تعینات کیا، ملزم کا رہن سہن اور اثاثہ جات اس کی آمدن سے مماثلت نہیں رکھتے۔

نیب نے ڈی ڈی پیز اور ڈی جی پیز کی سلیکشن اور پوسٹنگ کا معاملہ بھی چیف سیکرٹری پنجاب کو بھیجنے کی سفارش کردی،نیب کاکہنا ہے کہ سیکرٹری پنجاب میرٹ کے مطابق فیصلہ کریں، نیب کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ ڈی ڈی پیز اور ڈی جی پیز کے پوسٹنگ کے معیار کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، پوسٹنگ اور پرموشن کا معیار کارگردگی کو بنانے کی ضرورت ہے۔

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور