’اب بہت دیر ہوچکی ‘بھارتی پولیس افسر کی ویڈیو وائرل ہونے پر پاک فوج کے ترجمان بھی چپ نہ رہے

’اب بہت دیر ہوچکی ‘بھارتی پولیس افسر کی ویڈیو وائرل ہونے پر پاک فوج کے ...
’اب بہت دیر ہوچکی ‘بھارتی پولیس افسر کی ویڈیو وائرل ہونے پر پاک فوج کے ترجمان بھی چپ نہ رہے

  



راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارتی پولیس افسر کی ویڈیو وائرل ہونے پر پاک فوج کے ترجمان بھی چپ نہ رہ سکے،پولیس افسر کے وضاحتی بیان کو شیئر کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اپنے نجی اکاونٹ پر ٹویٹ کیا کہ اب بہت دیر ہوچکی ہے۔

بھارت میں چل رہے مظاہروں میں مسلمانوں پر روا رکھے گئے نارواسلوک اورانڈیا کے نگر نگر لگنے والے پاکستان زندہ باد کے نعروں پر ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفوربھی بول اٹھے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھتے ہیں کہ’ مقبوضہ کشمیر سے پورے بھارت تک،پاکستان زندہ باد کے ہی نعرے ہیں۔‘میجر جنرل نے انڈین ریاست اتر پردیش کے اس پولیس افسر کی ویڈیو بھی شیئر کی جس نے مسلمان نوجوانوں کو بھارت چھوڑ کر پاکستان چلے جانے کاکہا تھا۔ویڈیو میں ایس پی اکھلیش نارائن نے اعتراف کیا ہے کہ وہاں موجود نوجوان پاکستان زندہ باد کے نعرے لگارہے تھے۔

میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ’یہ سب مقبوضہ کشمیر کے محاصرے،ظلم و بربریت اور جنونی ہندوواتوا کے نتائج ہیں۔اب بہت دیر ہوچکی ہے۔‘آصف غفور نے اپنی ٹویٹ کے ساتھ کشمیر پاکستان ہے اور اختتام کی شروعات کے ہیش ٹیگ بھی استعمال کیے ہیں۔

اس سے قبل پولیس افسر کی یو پی کے ضلع میروت میں مسلمان بستی میں جاکر لوگوں کو دھمکانے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کی ویڈیو جاری کی تھی۔بھارت کے اپنے ہی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی پر چلنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ریاست اترپردیش کے علاقے کے ایک حساس ٹاون میروت میں ایک اعلیٰ پولیس افسر جس کی شناخت ایس پی اکھلیش نارائن کے نام سے ہوئی ہے مسلمان اکثریتی علاقے میں جاکر انہیں دھمکیاں دی ہیں اورانتہائی متعصب لہجہ اختیارکرتے ہوئے مسلمانوں کوپاکستان چلے جانے کا کہا۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسلمانوں کی بڑی تعداد نماز جمعہ کی ادائیگی اور اس کے بعد شہریت کے متنازعہ بل کیخلاف احتجاج کرنے کیلئے جمع ہورہی تھی۔این ڈی ٹی وی کے مطابق موبائل فون پر بنائی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایس پی دوسرے اہلکاروں کے ساتھ ایک تنگ گلی والے علاقہ میں ہے جہاں وہ مسلمانوں کے ایک گروپ کو کہہ رہاہے کہ ’کہاں جاوگے؟

اس گلی کو میں ٹھیک کروں گا‘نوجوانوں نے کہاوہ نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے مسجد جارہے ہیں جس پر نارائن نے کہاکہ وہ تو ٹھیک ہے لیکن جو کالی پٹی اور نیلی پٹی باندھ رہے ہیں ان کو کہو کہ وہ پاکستان چلے جائیں ۔بھارت میں رہنے کاارادہ نہیں ہے تو چلے جائیں۔یہاں رہتے ہو اور تعریف کسی اور کی کرتے ہو۔بھارتی پولیس افسرکچھ آگے بڑھا لیکن ایک بار پھر مسلمانوں کے پہنچ گیااور کہاکہ وہ ایک ایک گھر کے آدمی کو جیل میں بھر دے گا۔اوردھمکی لگائی کہ وہ ہر شخص کو تباہ کردے گا۔

بھارتی پولیس افسر کی اس متعصب کارکردگی نے واضح کردیا ہے کہ بھارت میں مودی سرکار اور اس کی انتظامیہ مسلمانوں کو اذیت دینے کیلئے ایکا کرچکے ہیں۔

یادرہے کہ اتر پردیش سمیت تقریبا پورے بھارت میں مودی سرکار کی مسلم کش پالیسیوں کیخلاف احتجاج کیاجارہاہے۔احتجاج کا مقصد شہریت کے متنازع بل کیخلاف آواز اٹھانا ہے۔

مزید : قومی