فاصلے بے معنی ہوگئے، سائنسدانوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ معلومات ٹیلی پورٹ کرنے کا کامیاب تجربہ کرلیا

فاصلے بے معنی ہوگئے، سائنسدانوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ معلومات ٹیلی پورٹ ...
فاصلے بے معنی ہوگئے، سائنسدانوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ معلومات ٹیلی پورٹ کرنے کا کامیاب تجربہ کرلیا

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ اور ڈنمارک کے سائنسدانوں نے مشترکہ تحقیق میں ایسی انقلابی دریافت کر لی ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں انقلاب برپا ہو جائے گا اور فاصلے بے معنی ہو جائیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں کی یہ ٹیم پہلی بار دو چپس (Chips)کے درمیان بیک وقت ڈیٹا ٹیلی پورٹ کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے جس سے دنیا کے ڈیٹا کو تیزترین کوانٹم کمپیوٹرز کے ذریعے طویل فاصلوں تک منتقل کرنا اور محفوظ بنانا ممکن ہو گیا ہے۔ یہ تحقیق برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل اور ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ڈنمارک کے سائنسدانوں نے کی ہے۔

سائنسدانوں نے بغیر کسی الیکٹریکل یا فزیکل رابطے کے طویل فاصلے پر موجود دو چپس میں ڈیٹا ٹرانسفر کیا۔ ڈیٹا کو اس طرح ٹرانسفر کرنے کے لیے ’کوانٹم انٹینجلمنٹ‘ (quantum entanglement)کا استعمال کیا۔ برسٹل یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہناتھا کہ ”اس تاریخی کامیابی سے ’کوانٹم انٹرنیٹ‘ کی تیاری میں مدد ملے گی جو محفوظ ترین انٹرنیٹ ہو گا اور اس پر دنیا کا ڈیٹا محفوظ ہو گاجسے ہیکنگ کے ذریعے چرانا ناممکن ہو گا۔ یہ کوانٹم کمپیوٹنگ اور نیٹ ورکس میں بہت فائدہ مند ہو گاکیونکہ اس میں ایک پارٹیکل کے تبدیل ہونے سے دوسرے پارٹیکلز خودکار طریقے سے تبدیل ہوجاتے ہیں۔“

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈین لیولین کا کہنا تھا کہ ”اس ایجاد کے لیے ہم نے چپ(Chip)کے اندر خاص ڈیزائن کے حامل اور پروگرامنگ کے قابل سرکٹ بنائے جو بالکل ہلکے پارٹیکلز پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان سرکٹس کے پیدا کردہ ہلکے پارٹیکلز کو کوانٹم انٹینجلمنٹ کے ذریعے مختلف چپس کے درمیان بیک وقت ٹیلی پورٹ یا ٹرانسفر کیا گیا۔ ہماری یہ تحقیق اس لحاظ سے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ کوانٹم کمپیوٹرز، انٹرنیٹ اور دوسری ٹیکنالوجیز کوانٹم انفارمیشن پر انحصار کرتی ہیں۔اس طریقے سے ایک سنگل پارٹیکل کو ’اِن کوڈ‘ کیا جائے گا جسے قابو کرنا اور اس کو جانچنا ناممکن ہو گا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس