پولیس نے تصویریں بنانے کے لئے موٹرسائیکل سوار کو سڑک پر روک لیا

پولیس نے تصویریں بنانے کے لئے موٹرسائیکل سوار کو سڑک پر روک لیا
پولیس نے تصویریں بنانے کے لئے موٹرسائیکل سوار کو سڑک پر روک لیا

  



نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) موٹربائیکس کا شوقین ہو اور قریب سے گزرتی کسی مہنگی پرکشش بائیک سے متاثر نہ ہو، یہ کیسے ممکن ہے، پھر بھلا وہ پولیس والا ہی کیوں نہ ہو۔ گزشتہ دنوں ایسا ہی کچھ بھارتی ریاست تامل ناڈو میں دیکھنے کو ملا جہاں پولیس والوں نے ناکے پر ایک بی ایم ڈبلیو بائیک والے کو روک لیا۔ اس لیے نہیں کہ اس کی چیکنگ مطلوب تھی بلکہ اس لیے کہ پولیس والے اس کی عالیشان بائیک کے ساتھ تصاویر بنوانا چاہتے تھے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بی ایم ڈبلیو کی بائیک پر سوار یہ نوجوان ایک یوٹیوبر تھا جس کے ہیلمٹ میں کیمرا اور مائیک نصب تھا۔ اس نے اپنے یوٹیوب چینل ’رائیڈ وِد کے سی‘ (RideWithKC)پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسے ناکے پر نامل ناڈو پولیس کے جوان روکتے ہیں اور اس کی چیکنگ کی بجائے اس کی بائیک کی تعریف کرنے اور اس کے ساتھ تصاویر بنوانے لگتے ہیں۔

ویڈیو میں یوٹیوبر بتاتا ہے کہ وہ اپنی بی ایم ڈبلیو آر 1200جی ایس پر ممبئی سے مدورائے جا رہا تھا جب راستے میں اسے پولیس والوں نے روکا۔ جیسے ہی میں نے بائیک روکی، پولیس والے چاروں طرف گھوم گھوم کر میری بائیک کو دیکھنے لگے اور اس کے متعلق سوالات کرنے لگے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ وہ صرف میری بائیک سے متاثر ہوئے ہیں اور انہیں میری چیکنگ مطلوب نہیں ہے۔انہوں نے میری بائیک کے ساتھ تصاویر بنوائیں اور مجھے رخصت کر دیا۔

واضح رہے کہ بی ایم ڈبلیو آر 1200جی ایس 1ہزار 170سی سی انجن کی حامل ہے جو 109ہارس پاور طاقت پیدا کرتا ہے۔6سپیڈ شافٹ ڈرائیو کی حامل اس بائیک کی ٹاپ سپیڈ 210کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ پاکستان میں اس بائیک کی قیمت 34لاکھ روپے کے لگ بھگ ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس