نیب آرڈیننس کا اطلاق ایسے تمام کیسوں پر بھی ہو گا جن کے تاحال ریفرنسز فائل نہیں ہوئے:بیرسٹر علی ظفر

نیب آرڈیننس کا اطلاق ایسے تمام کیسوں پر بھی ہو گا جن کے تاحال ریفرنسز فائل ...
نیب آرڈیننس کا اطلاق ایسے تمام کیسوں پر بھی ہو گا جن کے تاحال ریفرنسز فائل نہیں ہوئے:بیرسٹر علی ظفر

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نیب آرڈیننس کا اطلاق ایسے تمام کیسوں پر بھی ہو گا جن کے تاحال ریفرنسز فائل نہیں ہوئے، اگر مستقبل میں اس قسم کی انکوائریاں ہوتی ہیں تو ان پر بھی یہ قانون لاگو ہو گا،جو ریفرنسز فائل ہو چکے ہیں ان پر اس نیب ترمیمی آرڈیننس کا اطلاق ہوتا یا نہیں اس کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، یہ کہنا کہ اس آرڈیننس کا زیادہ تر فائدہ تحریک انصاف کو ہو گا غلط ہے ،نیب ترمیمی آرڈیننس میں مزید ترامیم کی ضرورت ہے یہ شروعات ہے اس کو آگے جا کر مزید بہتر بنایا جائے گا ، آرڈیننس کی مدت مکمل ہونے کے بعد اس معاملے کو آخر کار پارلیمنٹ میں جانا ہو گا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نیب آرڈیننس کا اطلاق ایسے تمام کیسوں پر بھی ہو گا جن کے تاحال ریفرنسز فائل نہیں ہوئے، اگر مستقبل میں اس قسم کی انکوائریاں ہوتی ہیں تو ان پر بھی یہ قانون لاگو ہو گا،جو ریفرنسز فائل ہو چکے ہیں ان پر اس نیب ترمیمی آرڈیننس کا اطلاق ہوتا یا نہیں اس کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ اپوزیشن کو آرڈیننس سمجھنے کی ضرورت ہے اپوزیشن بے وجہ تنقید کررہی ہے ان کا کام ہی تنقید کرنا ہے۔ نیب آرڈیننس سے پہلے پرائیویٹ لوگوں جن کا پبلک اکاؤنٹس سے کوئی تعلق نہیں تھا ان کے خلاف بھی کارروائی کر سکتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی پرائیویٹ اکاؤنٹ ہولڈر کا تعلق پبلک اکاؤنٹس سے ہے تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ اس آرڈیننس کا زیادہ تر فائدہ تحریک انصاف کو ہو گا غلط ہے۔ سارے لوگ ایک پیج پر ہیں کہ ایسا آرڈیننس آنا چاہیے۔ قانون سب کے لئے برابر ہے یہ بات کرنی کہ اس کا فائدہ کس کو ہے یا کس نہیں غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس میں مزید ترامیم کی ضرورت ہے یہ شروعات ہے اس کو آگے جاکر مزید بہتر بنایا جائے گا۔ہم عدالت میں اس لئے نہیں گے کہ حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ خاص مدت کے لئے آرڈیننس جاری کر سکے۔ مدت مکمل ہونے کے بعد اس معاملے کو آخر کار پارلیمنٹ میں جانا ہو گا۔

مزید : قومی