عدلیہ، اصلاحات اور۔۔۔؟     

 عدلیہ، اصلاحات اور۔۔۔؟     
 عدلیہ، اصلاحات اور۔۔۔؟     

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


عدل و انصاف کے بغیر کاروبارِ حکومت و سلطنت کسی طور نہیں چل سکتا یہ ہر شہری کا بنیای حق ہے اور اپنے لوگوں کو بلا امتیاز انصاف کی فراہمی ریاست کی ایک ناگزیر ذمہ داری! امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ ؓکا قول مبارک ہے کہ”معاشرے کفر کی بنیاد پر تو زندہ رہ سکتے ہیں لیکن ظلم اور نا انصافی کی بنیاد پر نہیں“ میں قانون کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کی حیثیت سے چیف جسٹس آف پاکستان عزت مآب گلزار احمد خان صاحب کی خدمت عالیہ میں چند معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ضابطہ فوجداری کے  سیکشن 22.Aاور 22.Bکے تحت بطور جسٹس آف پیس اختیارات تو نچلی سطح  پر سیشن کورٹس میں منتقل کر دیئے گئے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا کما حقہ  فائدہ بے بس و بے کس عوام کو نہیں پہنچ رہا اور عملاً اب بھی ہوتا وہی ہے جو پولیس چاہتی ہے ایک فریادی بغرض حصول انصاف  جب سیشن کورٹ میں حاضر آتا ہے تو اس کی درخواست برائے اندراج مقدمہ”رپورٹ“ کی خاطر متعلقہ پولیس اسٹیشن بھیجی جاتی ہے اور وہاں عموماً وہی کمنٹس تیار ہوتے ہیں جو ان کی مرضی قرار پائے لہٰذا اکثر و بیشتر درخواست گزار کا موقف مسترد کر دیا جاتا ہے سوال یہ ہے کہ اگرسائل کا موقف پہلے ہی سنا گیا ہوتا تو وہ عدالت کا دروازہ کیوں کھٹکھٹاتا بہر حال اگر اس بارے میں پولیس کے تاثرات کے بغیر گزارہ نہ ہی ممکن ہو تو کسی اور ادارے یا ایجنسی سے بھی رپورٹ انکوائری لازم ہو نا چاہیے مثلاً مصالحتی کمیٹی اگر قانون و ضابطے میں ذرا سی ترمیم ممکن بنائی جائے تو ایف آئی اے یا آئی بی بھی ذمہ داری نبھا سکتی ہے 22.Aاور 22.Bکے تحت اختیارات سیشن کورٹس میں منتقل کرنے کا اصل مقصد تو لوگوں کو سہولت مہیا کرنا تھا تاہم پولیس کے طرز عمل اور رپورٹ کی موجودہ پابندی سے یہ قانون گویا غیر موثر و ناکارہ ہو چکا ہے علاوہ ازیں آئے روزعدالتوں میں قتل و غارت گری کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جس سے نہ صرف پولیس کی سیکورٹی پر حرف آتا اور سوالیہ نشان اٹھتاہے بلکہ عدلیہ کی آبرو بھی داؤ پر لگ جاتی ہے کیا ہی اچھا ہو  اگر قتل اور مذہبی نوعیت کے حساس مقدمات کا ٹرائل جیل میں لازم قرار دیا جائے یاپھر ملزمان کو حاضری سے مستثنیٰ  قرار دے دیا کریں اس صورت میں عدلیہ اور انتظامیہ پر عدم اعتماد بحال ہو گا اور توقیر میں اضافہ، بصورت دیگر یہ کام وڈیو لنک کے ذریعہ بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے جس سے حکومتی اخراجات میں واضح کمی ہو گی حال ہی میں میڈیکل کے امیدواران سے متعلق انٹری ٹیسٹ کا رزلٹ آیا اور ملک بھر میں گویا طوفان مچ گیا ہے نیشنل ایم ڈی کیٹ میں کیاہوا ہے؟اور کیانہیں ہوا اس کے تحت داخلے کا عمل شروع ہو چکا اور یہ بہت ہی بڑا ظلم اور ناانصافی ٹھہری ذاتی طور پر خود میرے علم میں کئی تاریک ا حوال لائے گئے ہیں رول نمبر،نام، صو بوں اور نتائج میں سخت گڑبڑ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عزت مآب  قاسم خان صاحب سے بھی استدعا و التجا ہے کہ وہ طلباء کو انصاف د لائیں اگر یہ ا ب بھی نہ ہو ا تو کب ہو گا؟اور اگر خدانخواستہ آپ کے ہوتے ہوئے نہ ہو سکا تو کون کرپائے گا ایسی ہی ایک بے ضابطگی ابھی میرے علم میں آئی اف اللہ رول نمبر {2601212}ایک بچی ماہ طاب رائے کا ہے لیکن اس کے آگے صدف خاتون کا نام لکھا پایا گیا ہے اور صوبہ پنجاب کے بجائے بلوچستان۔ اسے اپنا مقدر کہاں اور کیسے تلاش کرنا چاہیے؟اور نتیجہ؟اس کے با رے میں کہنے کو  اوربھی بہت کچھ ہے حکومت تو بے بس ہے عدلیہ کو ہی اپنے اختیارات بروئے کار لانا پڑیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -