پنجاب کے بڑے ضلع میں جرائم کیسے کنٹرول ہونگے؟

پنجاب کے بڑے ضلع میں جرائم کیسے کنٹرول ہونگے؟

  

سی پی او فیصل آباد ڈاکٹر عابد خاں 12دسمبر کو ٹرانسفر ہوگئے اور انہیں ڈی آئی جی اپریشنز لاہور کی ذمہ داری سنبھال دی گئی‘وہ تقریباً پونے چار ماہ تک فیصل آباد میں تعینات رہے،ابھی انہیں فیصل آباد میں سی پی او کی حیثیت سے چند روز ہی گزرے تھے کہ شہری حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں کہ چند ایک مقامی عوامی نمائند ے ان سے خوش نہیں ہیں اور اسی دوران جس روز وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار دورہئ فیصل آباد پر آئے تو یہ باتیں گردش کررہی تھیں کہ حکومتی عوامی نمائندوں نے انہیں اپنے لیے مِس فٹ قرار دے دیا ہے اس لیے فوری طور پر وہ ٹرانسفر ہونے والے ہیں،وزیراعلیٰ کے واپس لاہور جانے کے بعد بھی جب کوئی ٹرانسفر آرڈر نہ جاری ہوئے تو یہ باتیں سنی جانے لگیں کہ چونکہ وہ اپنے انتظامی امور اور فرائض کی ادائیگی کیلئے اپنے افسرو ں،ماتحتوں کے چناؤ میں اپنی ذاتی معلومات اور حکمت عملی کے مطابق ہی کام کرتے ہیں اور اس معاملے میں وہ کسی دوسرے کی سفارشی مداخلت پسند نہیں کرتے اور اس سے محکمہ کے خیر خواہ اعلیٰ افسر بھی یقینا آگاہ ہونگے۔اس لیے ممکن ہے اب ان کی ذمہ داریاں تبدیل نہ کی جائیں مگر پھر نہ جانے کس کا زور چل گیا یا کس کو ان کی یہاں سے ٹرانسفر ہی بہتر لگی یا لاہور میں ان کی زیادہ ضرورت تھی لیکن محکمانہ طور پر غالباً بعض ایسے ارباب اختیار جو اپنے محکمہ کی لاج رکھنا چاہتے ہیں انہوں نے سی پی او فیصل آباد سے بھی محکمانہ طور پر زیادہ اہم عہدہ دینا ان کا کریڈٹ سمجھا اور انہیں صوبائی دارالخلافہ میں بطور ڈی آئی جی اپریشنز تعینات کردیا گیا وہ جتنا عرصہ بھی یہاں بطور سی پی او رہے انہوں نے عوام کی فلاح اور تحفظ کیلئے اپنے تئیں بہتر اقدامات اٹھائے۔ایس ایچ او ز کی تعیناتی میں کسی بھی قسم کا دباؤ قبول نہ کیا۔یہ درست ہے کہ وہ جو کچھ کرنا چاہ رہے تھے وقت کی کمی کے باعث وہ ٹارگٹ حاصل تو نہ کرسکے مگر ان کے دور میں منزل کی طرف سفر ضرور شروع ہوچکا تھا۔ڈاکٹر عابد خاں کے بعد نئے سی پی او غلام مبشر میکن نے چارج سنبھالا،ان کی اینٹری بھی بظاہر دبنگ ہی نظر آئی،پہلے دو تین روز میں ہی پولیس سڑکوں،گلیوں محلوں میں بھاگتی پھرتی نظر آئی۔چند ایک وقوعہ جات میں جائے وقوعہ پر فوری نہ پہنچنے والے ایس ایچ اوز کی معطلیوں کی کالیں بھی سنائی دی ماتحت سٹاف میں اسے کام کرنے کا جذبہ تو شاید نہ کہا جاسکے گا مگر فرائض کی ادائیگی میں غفلت پر یقینی سزاؤں کا خوف ان میں ضرور نظر آیا،دراصل کوئی بھی وقوعہ ہو یا کوئی بھی ٹریفک حادثہ ہو جب تک پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر اس جرم کے شواہد اور اسباب و وجوہات کا تعین نہیں کرتی اس وقت تک اس وقوعہ کو ٹریس کرنا اور آئندہ کیلئے اس کیلئے احتیاطی اور مدافعتی اقدامات کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے ہمارے یہاں محکمہ میں یہی ایک بڑی خامی ہے کہ

 ”یہاں جب شمع بجھ جاتی ہے تب پروانہ آتا ہے“

بہر حال ابھی معمولات میں کچھ حرکت برکت محسوس کی جارہی تھی کہ نئے سی پی او غلام مبشر میکن نے ایک حیران کن قدم اٹھا دیاانہوں نے یہ ہدایت جاری کردی کہ تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز اپنے اپنے علاقوں کی کمرشل مارکیٹوں میں باری باری پیدل سفر کرتے ہوئے دوکانداروں سے براہ راست ملنا ایک معمول بنائیں ان سے ان کے تحفظ کے بارے یا شکایات کے بارے میں معلوم کریں اور حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں ان کو اعتماد میں لے کر اقدامات اٹھائیں۔ اسی طرح رہائشی علاقوں میں بیٹ افسر روزانہ پیدل اپنے علاقہ کے 20 گھروں میں براہ راست جائیں اور ان کی شکایات اور مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل کریں اور انہیں تحفظ کا احساس بھی دلائیں اس سے ایک یہ امید بھی باندھی جارہی تھی کہ اس طرح یہ عمل پولیس اور عوام میں ا عتماد کے حصول کا ذریعہ بھی بنے گا اور یہ صرف کاغذوں میں ہی نہیں ہوگا بلکہ اپنی ان مصروفیات اور عوامی ملاقاتوں کی عملی ویڈیو بنا کر اپنے ٹاؤن پولیس آفیسر کو واٹس ایپ کیا جانا ضروری ہوگا۔ابھی اس کی بازگشت جاری ہی تھی کہ نئے سی پی او نے ایسے تمام پولیس افسروں اور ماتحت سٹاف خاص طور پر محرروں کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا جو بار بار ایک ہی جگہ پر اپنی تعیناتیاں کرواتے آرہے ہیں اور اس کے ساتھ ان کی کرپشن کا بھی جائزہ لیا جانے لگا اس کا پہلا شکار کھرڑیانوالہ سرکل ہوا جہاں انہوں نے 9 ایسے ملازمین تلاش کرلیے اور انہیں معطل کردیا،اسی طرح اگلا ایکشن با اثر محرروں کیخلاف ہوا اور کئی ایک ایسے محرر بھی نہ صرف ٹرانسفر ہوئے بلکہ سزاؤں کی زد میں بھی آگئے، جو اب تک ہردور میں بچتے چلے آرہے تھے، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ بہت سے پولیس افسر اپنے ساتھ ایسے ماتحت تعینات کروا لیتے ہیں جو ان کے ساتھ”بے تکلف“ہوتے ہیں اور وہ ”لین دین“ پر شرماتے بھی نہیں اور کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ ماتحت اپنے ذاتی اثرو رسوخ ”جمہوری‘غیر جمہوری طریقوں،ٹاؤٹ از م اورایک ہی قسط میں یا منتھلی ادائیگیوں“ کی بنیاد پر خود ہی اپنے تبادلے مطلوبہ جگہ پر کرالیتے ہیں۔محکمہ پولیس میں کرپشن کے دیگر متعدد عوامل میں سے ایک یہ بھی ہے وہ اپنی مرضی کی تعیناتیاں کروا کر رشوت اور قیمتی تحائف کے بدلے میں نا انصافیوں اور اقرباء واحباب پروری کا سبب بنتے ہیں۔تعیناتیوں،تبادلوں میں میرٹ اختیار کرنے پر کارکردگی پر بھی اثر پڑتا ہے اور عام لوگوں کو ریلیف بھی ضرور مل جاتا ہے۔ کرپشن کا ایک اور بڑا ذریعہ ٹاؤٹس بھی ہیں جو نہ صرف سودے بازیاں کراتے ہیں بلکہ اپنے مفاد کی خاطر یا کسی کی مخالفت و دشمنی کی خاطر بھاری رشوتیں لے اور دے کر عام لوگوں پر ظلم و زیادتی کرواتے ہیں اور یہی وہ عوامل ہیں جو پولیس اور عوام میں نفرتوں اور دوریوں کا سبب بنتے ہیں‘فیصل آباد میں اس وقت ڈاکے، چوریوں اور راہزنیوں میں کافی شدت دیکھنے میں آرہی ہے۔اس کی وجوہات و اسباب کا پوری استطاعت،نیکی نیتی اور فرض شناسی کے ساتھ جائزہ لینے اور ماتحت سٹاف پر مضبوط گرفت قائم کرنے کی ضرورت ہے جس کو زیرو ٹالرنیس (ZERO TOLERANCE) پر لانا پڑے گا۔جائے وقوعہ پر بروقت پہنچنے اور پورے ”سیاق و سباق“ کے ساتھ اسے سمجھنے اور پھر تفتیش میں کسی بھی قسم کی”ڈنڈی“ نہ مارنے سے بہت سی وارداتیں ٹریس ہوجاتی ہیں‘مقدمہ کے اندراج میں بلاوجہ تاخیر یا کسی ”بالائی ڈانٹ ڈپٹ“ کے خوف کو بھی دور کرنے سے معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔ تبادلے تقرریاں و تعیناتیاں اور انکوائریاں میرٹ پر ہونا بھی اس مسئلے کا ایک حل ہے۔زمینی حقائق کو کسی صورت میں بھی نظر انداز کرنے سے معاملات پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔کرپٹ ملازمین پر سختی اور کام کرنے والے ملازمین کی حوصلہ افزائی اور شاباش بھی اس میں بہتر کردار ادا کرسکتی ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -