والدین کی آنکھوں کے سامنے لخت جگر قتل

والدین کی آنکھوں کے سامنے لخت جگر قتل

  

والدین کی کل کائنات انکی اولاد ہوتی ہے جس کی خاطر والدین ہر قربانی دے ڈالتے ہیں، اولاد کی خوشی کیلئے ہر وہ نعمت جو والدین کی دسترس میں ہوتی ہے وہ اولاد ہر نثار کرنا باپ کی سب سے بڑی خوشی ہوتی ہے او ر جو نعمتیں والدین کی پہنچ میں نہیں ہوتی ان کے حصول کی خاطر بھی والد سر دھڑ کی بازی لگادیتا ہے اور ماں کی اولاد سے محبت کا احاطہ ہی ممکن نہیں ماں سوتے جاگتے اولاد کا دم بھرتی ہے اور پیدائش کے لیکر تا دم مرگ اولاد کی خیر خواہی کی اسکی سب سے بڑی متاع ہوتی ہے اور اولاد کو پروان چڑھانے میں جہاں باپ کا کردار مثالی و کلید ی ہوتا ہے وہاں اولاد کی پرورش میں ماں کی کاوشیں و جدوجہد ناقابل فراموش ہوتی ہے، اولاد کی عافیت و کامرانی کی خاطر ماں کے دعائیں کرتے ہاتھ نہیں تھکتے جبکہ والد دن رات اسی سوچ میں بسر کرتا اور ہمہ وقت اسی جستجو میں رہتا ہے کہ اسکی اولاد کو کسی شے کی کمی محسوس نہ ہو بلاشبہ اولاد کو چبھنے والا کانٹا بھی والدین کے دل میں تیز دھار تیر کی مثل لگتا ہے مگر ان والدین کیلئے کیسا اوسان خطا کردینے والا منظر ہوگا کہ جنہیں اپنی ناز اور لاڈ پیار سے پل رہی اولادخون میں لت پت پڑی اٹھانی پڑے یقینا کلیجہ منہ کو آجاتا ہوگا اور یہ منظر گزشتہ روز مقامی زمیندار رائے محمد شہباز اور اسکی بیوی کی بھی جھیلنا پڑا، ہوا یہ کہ رائے محمد شہباز بچوں کے پرزور اسرار پر اپنی بیوی، بیٹی صنم زہرہ اور بیٹے محمد میثم کے ہمراہ اپنی رہائشگاہ واقع گلی نمبر 9جنوبی گھنگ روڈ شیخوپورہ سے اپنی کار نمبری اے بی بی 176 پرسوار ہو کر اپنے والد رائے محمد بوٹا کے ہاں اپنے آبائی گاؤں 4چک رسالہ جہاں اسکا بھائی مقیم ہے کی طرف سے سفر اختیار کیا،بچے گاؤں جاتے وقت نہایت خوش تھے جو گاؤں پہنچ کر نہ صرف عزیز و اقرباء سے ملے انکی محبتیں سمیٹیں بزرگوں سے صحت و درازی عمر کی دعائیں لیں اور بھاگ دوڑ میں کب شام ہوگئی وقت کا پتہ تک نہ چلا لہذاٰ رائے محمد شہباز او ر اسکی بیوی نے واپسی کی تیاریاں کیں رخت سفر باندھا اور بچوں کو بھی ہمراہ لیکر سب سے الوداعی مختصر ملاقاتیں کیں اور رخصت چاہی یہ فیملی گاڑی میں سوار ہوئی تو بچے گاؤں سے واپسی اختیار کرنے پر کچھ افسردہ تھے مگر گاؤں سے نکلے تو شام کی سرمئی چادر جونہی گاؤں کے باہر کھیتوں کھلیاں پر دراز ہوتی دیکھی تو دل موہ لینے والے اس نظارے کے کیف میں یکسر گم ہوگئے گاؤں سے واپسی کی افسردگی اب انکی خوشی نے ختم کردی تھی یہ چہچہاتے پنچھیوں کی طرح لگاتار بولتے اور والدین کی بھی توجہ ان مناظر کی طرف راغب کروا رہے تھے گاؤں سے مین شرقپور روڈ تک کا یہ سفر بچوں نے خوشی کے مارے مسلسل چہکتے ہوئے گزارا تاہم باپ رائے محمد شہباز نے گاڑی انیس چوک کی طرف بڑھائی ہی تھی کہ قریب واقع پٹرول پمپ کے عین سامنے انہیں موٹر سائیکلوں پر سوار چھ مسلح ملزمان نے آن گھیرا اور آتشیں اسلحہ سے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی گاڑیوں کو متعدد گولیاں لگیں فائرنگ اس قدر شدید تھی کہ گاڑی کے سبھی ٹائرز گولیاں لگنے سے برسٹ ہوگئے اور ملزمان اس وقت مسلسل فائرنگ کرتے رہے کہ جب تک انکے پاس موجود گولیاں ختم نہ ہوئیں ان اندھی گولیوں کا نشانہ بننے سے بچنے کیلئے رائے محمد شہبازاو ر اسکی بیوی نہ صرف خود بلکہ بچوں کو بھی کار کے فرش پر بیٹھانا چاہا مگر بہت دیر ہوچکی تھی کیونکہ ایک گولی کمسن محمد میثم کے سر میں لگ چکی تھی اور ایک گولی بیٹی صنم زہرہ کی ٹانگ کو چیر چکی تھی فائرنگ بند ہوئی اور ملزم فرار ہوگئے تو موقع پر موجود چشم دید گواہوں رائے ماجد سکنہ باہو مان اور ذوالفقار علی سکنہ چار چک رسالہ جو پٹرول پمپ پر اپنی گاڑی میں تیل ڈلوا رہے تھے کی مدد سے رائے محمد شہباز نے بچوں کو گاڑی سے نکالا جنہیں فوری چلڈرن ہسپتال منتقل کیا گیا مگر محمد میثم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گیا جبکہ شدید خون بہہ جانے کے باعث کمسن بچی صنم زہرہ کی بھی تشویش ناک حالت کے تحت ہسپتال داخل کرلیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ہنگامی کوششوں سے اسکی جان بچالی جسے چند گھنٹوں بعد ہوش آگیا۔ محمد میثم کے جان بحق ہونے کے صدمے سے دوچار رائے محمد شہباز اور اسکی بیوی نے بیٹی کی زندگی بچ جانے پر اطمینان تو محسوس کیا ہوگا مگر بیٹے سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جدا ہوجانے کا غم یہ بھلائے نہ بھلا سکتے تھے اس کڑے وقت میں اہل خانہ نے ڈھارس بندھائی اور خون میں لت پت زخمی بیٹے کو ہاتھوں میں اٹھاکر لانے والا باپ اب اسکی نعش اٹھا لیجانے پر مجبور تھا محمد میثم کو باپ نے ہسپتال سے گھر منتقل کیا جہاں قیامت صغریٰ برپا تھی معصوم محمد میثم کی نعش سے رشتہ دار خواتین لپٹ لپٹ کر روزوقطار روتی اور بین ڈالتی رہیں ہرفرد غمناک اور ہر آنکھ اشکبار تھی کمسن مقتول محمد میثم کو سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا نماز جنازہ میں عزیز و اقرباء اور اہل علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی لہذاٰ اس معصوم مقتول کی آخری رسومات کے بعد رائے محمد شہباز نے پولیس کو بیان ریکارڈ کروایا جبکہ موقع پر موجود مذکورہ گواہان نے بھی اس مظلوم خاندان کا ڈٹ کر ساتھ دیا اور بے خوف و خطر سامنے آکر ملزمان کی نشاندہی کی انکے بیان قلمبند ہونے کے دوران انکشاف ہوا کہ فائرنگ کرنے والے چھ ملزمان میں ملزم ایوب، ملزم مدثر علی ساکن ولیاں والا تحصیل شرقپور شریف اور رائے شاہد سکنہ جھنگڑ لال اور انکے تین مسلح ساتھی شامل تھے جن کی پہچان نہ ہوسکی لہذاٰ مدعی اور گواہاں کے بیانات مکمل ہونے پر پولیس نے مقدمہ درج کیا اورایس ایچ او تھانہ بھکھی پولیس انسپکٹر سلیم اختر نیازی نے ملزمان کی گرفتاریوں کیلئے فوری ٹیمیں تشکیل دیں تاہم اس اندہناک واردات کے بعد روپوش ہوجانے کے باعث کسی ملزم کی گرفتاری عمل نہ آسکی تاہم انسپکٹر سلیم اختر نیازی نے متاثرہ فیملی کو ملزمان کی جلد گرفتاری کی یقین دھانی کروائی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ملزمان کاتعاقب شروع کردیا توقع کی جارہی ہے کہ جلد پولیس ان سفاک ملزمان کو دھر دبوچے گی، ذرائع کے مطابق مدعی رائے محمد شہباز اور ملزمان پارٹی سے جائیداد کا تنازعہ چلا آرہا ہے جس کی رنجش دل میں رکھتے ہوئے ملزمان نے پوری فیملی کو ہی نشانہ بنانے کا پلان مرتب کیا جسے عملی جامہ پہنانے کیلئے مذکورہ واردات رونما کی تاہم رائے محمد شہباز اور اسکی بیوی تو معجزانہ طور پر بچ گئے تاہم بیٹی صنم زہرہ اور بیٹا محمد میثم ملزمان کی فائرنگ کی زد میں آگئے یوں یہ ہنستا بستا گھرانہ کبھی بھلائے نہ جاسکنے والے غم سے دوچار ہوگیا معصوم مقتول محمد میثم کی ماں بیٹے کی جدائی میں نڈھال اور باپ افسردگی و غم کی تصویر بن چکا ہے جو ملزمان کی گرفتاری کا منتظر و انصاف کا متلاشی ہے اور بیٹے کے قاتلوں کو فوری کیفر کردار تک پہنچانے کی دھائی دے رہا ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -