جرائم پرکنٹرول کیلئے موثر حکمت عملی تیار، جاویداکبرریاض

جرائم پرکنٹرول کیلئے موثر حکمت عملی تیار، جاویداکبرریاض

  

 ملتان (  وقائع نگار)ریجنل پولیس آفیسر جاوید اکبر ریاض نے کہا ہے کہ جرائم پر کنٹرول کرنے کیلئے موثر ترین 

(بقیہ نمبر40صفحہ6پر)

حکمت عملی بنا لی ہے۔شہر میں وارداتوں میں گزشتہ پندرہ روز کے دوران واضع کمی رونما ہوئی ہے۔خطرناک گینگ ک یہ گرفتاری سے وارداتیں روکیں ہیں۔ورنہ روزانہ کی بنیاد پر ضلع بھر میں 9 سے 10 شکایات پولیس ہیلپ لائن کو موصول ہونا معمول بن چکا تھا۔سی آئی اے سمیت دیگر تین ٹیموں کو تشکیل دیا ہے۔جسکی بدولت کرائم فائٹنگ میں مدد مل رہی ہے۔کرپشن کا خاتمی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔کرپٹ عناصر کی محکمہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔شہریوں کیلئے میرے دروازے ہر وقت کھلے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز "روزنامہ پاکستان" سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کی۔ار پی او ملتان نے کہا ہے کہ میری زیادہ تر سروس سندھ میں رہی ہے۔سندھ میں میں بطور ڈی آئی جی آئی ٹی۔ڈی آئی جی ساتھ کراچی۔ڈی آئی جی اینٹی کار لفٹنگ۔ چار سال بطور ڈی آئی جی ایف آئی اے میں اپنی خدمات سر انجام دیں ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ اینٹی کرپشن میں بھی تعیناتی رہی ہے۔انہوں نے مزید بتایا ہے کہ اے آئی جی کے طور پر بھی کام کیا ہے۔اور اے ایس پی اسلام آباد بھی اپنے فرائض ادا کیئے ہیں۔ار پی او ملتان نے کہا ہے کہ اپنی ملتان پوسٹنگ کے دوران سب سے پہلے وارداتوں پر کنٹرول  کرنے کی طرف توجہ دی ہے۔پولیس لائن میں روکی ہوئی نفری کو تھانوں میں تعینات کروایا ہے۔تاکہ موثر گشت کی بدولت جرائم کو جڑ سے اکھاڑا جاسکے۔ملتان۔خانیوال۔لودھراں اور وہاڑی کے ضلعی پولیس سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے متعلقہ اضلاع کے تاجر۔علما دیگر کمیونٹی سے گاہے بگاہے میٹنگ کریں۔انکے مسائل سن کر فوری کرنے کی طرف خاص توجہ دیں۔ڈولفن فورس۔محافط اسکواڈ سمیت دیگر  جوانوں  کی حوصلہ افزائی کیلئے انعام دینا شروع کیا ہے۔ار پی او ملتان جاوید  اکبر ریاض نے مزید اپنی گفتگو میں کہا کہ حضرت شاہ رکن عالم کے عرس کے موقع پر ہماری کامیاب حکمت عملی کے باعث عرس کی سیکورٹی اعلی رہی ہے۔اس دوران پولیس جوانوں کو چار چار گھنٹوں کی شفٹوں میں تقسیم کرکے ڈیوٹی کی گئی ہے۔اسی طرح انہوں نے کہا کہ کچھ روز قبل خانیوال کا ضمنی الیکشن کے دوران میں سکیورٹی پلان کی وجہ سے سکون رہا ہے۔ایک سوال کے جواب نے ار پی او نے کہا ہے کہ ٹریفک کے مسائل ملتان میں کافی ہیں۔جن کو حل کرنے کیلئے لائحہ عمل مرتب کیا جارہا ہے۔اور ناجائز تجاوزات کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔فرنٹ ڈیسک پر درخواستوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ملتان پولیس کی اس وقت نفری تقریبا ساڑھے پانچ ہزار کے قریب ہے جس میں سترہ سو پولیس ملازمین کی وی آئی پیز ڈیوٹی لگی ہوئی ہے کم نفری کے باعث تھانوں میں سائلین کی داد رسی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔تفتیشی افسران پر تفتیش کا بوجھ زیادہ ہے۔تقریبا ہر تفتیشی افسر کے پاس 70 سے 80 کیسوں کی تفتیش ہے۔حالانکہ ایک تفتیشی کے پاس 40 کیسوں کی تفتیش ہونے چاہیے۔تاکہ تفتیش کا معیار اچھا رہے۔پولیس لائن میں موجود معطل شدہ  پولیس ملازمین  کی انکوائریوں ک جلد از جلد فیصلہ کرکے سزا جزا کا تعین کیا جارہا ہے۔چوری ڈکیتی سمیت دیگر ایس او پیز کے مطابق جرائم کا فوری  مقدمہ درج کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔اخر میں انہوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے اپنے ارگرد پر نظر رکھیں۔مشکوک افراد کی اطلاع پولیس کو دیں۔

اکبرریاض

مزید :

ملتان صفحہ آخر -