صحت کارڈ پلس، اب تک سب سے زیادہ علاج سرکاری ہسپتالوں میں ہوا: تیمور جھگڑا 

  صحت کارڈ پلس، اب تک سب سے زیادہ علاج سرکاری ہسپتالوں میں ہوا: تیمور جھگڑا 

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)صحت کارڈ پلس حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے عوام کیلئے ایک تحفہ ہے، ملاکنڈ کے عوام نے اب تک سب سے زیادہ صحت کارڈ سے استفادہ کیا ہے۔ صحت کارڈ پلس کے تحت سترہ ارب سے زائد کی رقم عوام کے علاج معالجے پر خرچ کی جاچکی ہے۔  7 لاکھ 60 ہزار مریضوں نے صحت کارڈ پلس سہولیات سے استفادہ کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار  وزیر صحت و خزانہ نے تیمور سلیم جھگڑا نے صحت کارڈ پلس کے تحت علاج کی اعداد و شمارکے حوالے سے  جاری ایک بیان میں کیا، انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ پلس حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے عوام کیلئے ایک تحفہ ہے۔ عوام کو ان کی دہلیز پر علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک عوام کی صحت پر صحت سہولت کارڈ کے تحت سترہ ارب روپے خرچے جاچکے ہیں۔وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے ماہ نومبر کے ہیلتھ کارڈ پلس کی اعداد و شمار پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 7 لاکھ 60 ہزار مریضوں نے صحت کارڈ پلس سہولیات سے استفادہ کیا ہے جبکہ ماہ نومبر میں 66 ہزار سے زائد مریض صحت کارڈ پلس کے تحت ملک اور صوبہ کے بہترین ہسپتالوں میں اپنا علاج کرواچکے ہیں۔ ان کے مطابق  جنوبی اضلاع کے مفتی محمود تدریسی ہسپتال سمیت صوبے کے سو فیصد ایم ٹی آئیز میں جبکہ اسی فیصد ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں میں صحت کارڈ پلس کے تحت بالکل مفت علاج معالجے کی سہولت دستیاب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اوسطا 25 ہزار روپے فی مریض حکومت خیبرپختونخوا کا خرچہ آتا ہے جبکہ ہر خاندان کو سالانہ دس لاکھ تک کی مفت علاج کی سہولت ان کے شناختی کارڈ پر فراہم کی جارہی ہے۔ وزیر صحت نے بتایا کہ صحت کارڈ پلس کے تحت اب تک سب سے زیادہ علاج سرکاری ہسپتالوں میں ہوا ہے جبکہ صحت کارڈ پلس کے تحت رجسٹرڈ 166 ہسپتالوں میں زیادہ تعداد سرکاری ہسپتالوں کی ہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن کے نوے ہزار سے زائد مریضوں کا صحت کارڈ پلس کے زریعے علاج کیا گیا۔ جبکہ  اس کارڈ کے توسط سے مریض اپنی مرضی کے ہسپتال میں جاکر اپنا علاج مفت کرواسکتے ہیں۔ وزیر صحت نے عوام سے اپیل کی ہے آپ کا شناختی کارڈ ہی آپ کا صحت کارڈ ہے، جس کے تحت سالانہ دس لاکھ تک روپے کا علاج مفت ہے اس لئے حکومت کی جانب سے مہیا کردہ اس سہولت کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں تاکہ زیادہ عوام اس سہولت سے مستفید ہوسکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -