بھارت میں مسیحی اقلیت کا بھی جینا حرام

بھارت میں مسیحی اقلیت کا بھی جینا حرام

  

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بار پھر عالمی قوتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں۔ وزیراعظم مودی کے دور حکومت میں انتہا پسند ہندوؤں نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے جبکہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں سرکاری طور پر متعین فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کو شہید کیا جا رہا  ہے اور پورا کشمیر جیل کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ وزارت خارجہ کا یہ بیان نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ان خبروں کے بعد سامنے آیا ہے،جن کے مطابق بھارتی دہشت گرد تنظیم نے نہ صرف سانتا کلاز کا پتلا جلایا، بلکہ عیسائیوں کو کرسمس کی تقریبات سے جبراً روکتے رہے۔ ایک گرجا گھر پر حملہ کیا اور حضرت عیسیٰ کا ایک مجسمہ بھی توڑ دیا۔ نیویارک ٹائمز کی خبر میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ بھارت میں بسنے والے مسیحی خوف کی زندگی گزاررہے ہیں اور متعدد ہندو بھی ہو گئے ہیں۔ یہ انتہا پسندی سرکاری سرپرستی میں جاری ہے اور حکومت کی طرف سے آر ایس ایس کے ان تشدد پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ مغربی دنیا کو اب تو حرکت  میں آنا چاہیے۔ 

مزید :

رائے -اداریہ -