بیان بازی سے کام نہیں چلے گا

بیان بازی سے کام نہیں چلے گا

  

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد احمد چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم نے اپنا بیان حلفی نوازشریف کے دفتر میں بیٹھ کر ان کے سامنے نوٹرائز کیا۔ ایک اخباری تراشے کے ساتھ کئے گئے اپنے ٹوئٹ میں وفاقی وزیر نے کہا کہ برطانوی سولیسٹر  کے انکشاف نے ایک بار پھر شریف خاندان کو سسلین مافیا ثابت کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی سولیسٹر کے بیان سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ شریف فیملی کس طرح عدلیہ کو بلیک میل کرتی ہے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں نوازشریف پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا نوازشریف واپس آنا چاہتے ہیں تو وہ خود انہیں ٹکٹ پیش کرنے کو تیار ہیں۔ ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کے خلاف جتنے ثبوت ہیں اتنے ثبوت دنیا میں کسی کے خلاف نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے سر سے کسی کا ہاتھ نہیں اٹھا اور وہ کہیں نہیں جا رہے۔ ڈپٹی سپیکر  اسمبلی قاسم سوری نے بھی اپنے بیان میں میاں نوازشریف پر سخت تنقید کی ہے۔ وفاقی وزیر اسد عمر بھی بیانات کی اس دوڑ  میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میاں نوازشریف صحت مند ہو گئے ہیں تو فوری طور پر پاکستان واپس آ جائیں۔

میاں نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے پچھلے چند روز سے کافی گرما گرمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائدین بھی اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ لاہو رکی ایک تقریب میں سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا تھا کہ وہ خود میاں صاحب کو لینے جائیں گے۔ اس کے بعد حکومتی وزراء کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس میں ایک بار پھر شریف خاندان کو  آڑے ہاتھوں لیا گیا اور اپنے حریفانِ اول کو طرح طرح کے خطابات سے نوازا جانے لگا۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بھی ترکی بہ ترکی جو اب دیا جانے لگا، جو معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں وہ یا عدالتوں ہی میں طے ہونے چاہئیں، ان کے بارے میں فیصلے اور فتوے ایک بار پھر صادر کئے جانے لگے، ماحول ایک بار پھر کشیدہ ہو گیا۔ پاکستان اس وقت شدید اقتصادی و معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کا پروگرام جاری رکھنے کے لئے حکومت کو منی بجٹ لانا پڑ رہا ہے۔ اس  کے تحت 350ارب کی ٹیکس چھوٹ واپس لے لی جائے گی، جس کا مطلب مہنگائی کے بوجھ کو مزید بڑھانا ہوگا۔ حکومت کے چیلنجز کم ہونے میں نہیں آ رہے، لیکن وزراء حقیقی مسائل پر توجہ دینے اور ان کے حل کے لئے کوششیں کرنے کے بجائے لایعنی بیان بازی میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔سیاسی حریفوں کے القابات اور الزامات وہی ہیں جو قوم قریباً ایک دہائی سے سن رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نیا پاکستان لانے کا اعلان کرکے اقتدار میں آئی تھی لیکن اس وقت بے روزگاری اور مہنگائی کا طوفان اٹھا ہوا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث رواں سال مہنگائی کی شرح 11.5فیصد تک پہنچ گئی ہے جو کہ گزشتہ دو سال کی بلند ترین سطح ہے۔ سخت سردی میں عوام کو گیس میسر نہیں، وہ اگر بجلی سے گھر کا نظام چلانے کی کوشش کرتے ہیں توبل کا بوجھ اٹھایا نہیں جاتا۔ان  حالات میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزراء لنگر لنگوٹ کس کر عوام کی فلاح اور آسانیوں کے لئے میدان میں اترتے، اپنی اپنی وزارتوں میں انقلابی اقدامات کرتے، جن کا کسی نہ کسی طور کچھ نہ کچھ فائدہ اس پسی ہوئی مخلوق کو ہوتا۔ عوام بھی اب الزامات کی رٹ اور کہانی سن سن کر تھک گئے ہیں۔ وہ اب کارکردگی چاہتے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کا پیغام یہی ہے، اس سے پہلے ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کو جو نقصان اٹھانا پڑا ہے، وہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ لفظوں کی آگ سے ہنڈیا نہیں پک سکتی۔ وزیراعظم عمران خان اپنی تنظیم میں تبدیلیاں ضرور کریں لیکن فقط چہرے بدلنے سے کام نہیں چلنے والا۔ دامن میں کارکردگی کے پھول سجائے جائیں گے تو ہی اطمینان کاسانس لینا ممکن ہوگا۔ عوام کے لئے بھی اور ارباب اختیار کے لئے بھی۔ اپنی وزارتوں پر توجہ دیں، تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -