ڈسکہ انتخاب: تحقیقاتی رپورٹ (20)

ڈسکہ انتخاب: تحقیقاتی رپورٹ (20)
ڈسکہ انتخاب: تحقیقاتی رپورٹ (20)

  

225۔ فرخندہ یاسمین، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ف)،ڈسکہ کو 15 سوالات پر مشتمل ایک جامع سوالنامہ دیا گیا۔ اس نے جوابات میں غلط بیانی سے کام لیا۔ اس کے تحریری جوابات سوال جواب کے سیشن سے متصادم تھے۔ اس نے تمام حقائق کی تردید کی۔ آصف حسین، اے سی، ڈسکہ،  ذوالفقار علی، ڈی ایس پی، سمبڑیال، امجد علی مہر اے ای او، افشاں زرین، پرنسپل نے سترہ فروری 2021ء کو اس کے گھر کا دورہ کبھی نہیں۔ اس دن ان کے گھر پر ضمنی الیکشن کے حوالے سے کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔ اس نے دوٹوک انداز میں تردید کی کہ اس کا یاسین سرفراز، اے ایس آئی اور غلام حیدر، اے ایس آئی، سے کوئی رابطہ تھا۔ اس نے بتایا کہ اسے حامد نے اس بارے میں رپورٹ تیار کرنے کے لیے بلایا تھا۔

226۔ اے ای او، ڈسکہ، فرقان ثنااللہ کو دس سوالوں پر مشتمل ایک جامع سوال نامہ دیا گیا۔ اس کے تحریری جوابات سوال جواب کے سیشن سے مکمل طور پر مختلف تھے جس میں اس نے اعتراف کیا اے ای اوز، ڈسکہ سمیت تین خواتین کو فرخندہ یاسمین کے گھر پر ملاقات کے لیے بلایا گیا تھا۔ آصف حسین، اے سی، ڈسکہ، ذوالفقار علی، ڈی ایس پی، سمبڑیال، حامد رضا اور مسز افشاں زرین، ہیڈ ماسٹرمیٹنگ میں اے ای اوز کے ساتھ بھی موجود تھے۔انھیں اے سی، ڈسکہ اور ڈی ایس پی نے ضمنی انتخاب پر اثر انداز ہونے کے لیے ہدایات دی تھیں۔ اس نے مزیدبتایا فرخندہ یاسمین نے اسے انیس فروری کو فون کرتے ہوئے پوچھا کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کیوں نہیں کررہا؟ اس نے بتایا کہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ 

227۔ امجد علی مہر، اے ای او ڈسکہ کو سولہ سوالات پر مشتمل ایک جامع سوال نامہ دیا گیا۔ اس نے بہت چالاکی سے کام لیتے ہوئے من گھڑت جوابات دیے۔ اس کے تحریری جوابات سوال جواب کے سیشن میں دیے گئے بیانات سے مختلف تھے۔سوال جواب کے سیشن میں اس نے اعتراف کیا کہ وہ اس کے ساتھ صبا اور ثمرہ اس کی گاڑی میں فرخندہ یاسمین کے گھر پہنچیں۔جب وہ وہاں پہنچے تو کچھ اور اے ای او پہلے سے وہاں موجود تھے۔ آصف حسین، اے سی، ڈسکہ بھی وہاں موجود تھے۔ اُس نے اُنھیں کہا کہ ہدایات یہ ہیں کہ وہ حکومت کی حمایت کریں اور فائرنگ کے واقعات کی صورت میں پریشان نہ ہوں۔اس مزید بتایا کہ وہ اس حقیقت سے واقف نہیں تھے کہ انھیں فرخندہ یاسمین کے گھر ایسی ہدایات موصول ہوں گی۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد جب وہ آر او آفس کے لیے روانہ ہوئے توپولیس نے اسے نہر ٍپر روکا اور زبردستی اسے ایک فیکٹری میں لے گئے جوسیالکوٹ نہیں بلکہ ڈسکہ سیالکوٹ روڈ پر واقع ہے۔ مظہر فرید، ڈی ایس پی ٹریفک، سیالکوٹ نے اس کی توہین کی اور ان کے پولنگ بیگ چھین لیے۔ دو گھنٹے بعد ان کے پولنگ بیگز واپس کر دیے گئے اور انہیں آر او آفس میں اتار دیا گیا۔ اس نے بتایا کہ اس مشکوک عمارت میں غیر مجاز افراد نے اس کا نتیجہ تبدیل کر دیا۔ خطرناک دھمکیوں کی وجہ سے اُنھوں نے اصل کی بجائے تبدیل شدہ نتیجہ آر او آفس میں جمع کرایا۔ 

228۔ محمد فاروق،اے ای او، ڈسکہ کو دس سوالوں پر مشتمل ایک جامع سوال نامہ دیا گیا۔ اس کے تحریری جوابات سوال جواب کے سیشن سے مکمل طور پر مختلف تھے۔ا س نے بتایا کہ فرخندہ یاسمین نے ملاقات کے لیے بلایا تھا۔ ڈسکہ آفس پہنچا تو بتایا گیا کہ ملاقات اس کے گھرپر ہے۔  وہ امجد علی مہر اور دو اے ای اوز،مس صبا اور مسز سمرا کے ساتھ اپنی گاڑی میں اس کے گھر پہنچا۔ وہ بیس منٹ وہیں بیٹھے رہے پھر آصف حسین، اے سی، ڈسکہ، ذوالفقار علی، ڈی ایس پی، سمبڑیال بھی وہاں پہنچ گئے۔ دیگر اے ای اوزوہاں بھی تھے. اے سی ڈسکہ، آصف حسین نے اُنھیں ہدایات دینا شروع کیں کہ حکومت کی طرف سے اس کی مدد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس نے پرایذائیڈنگ آفیسرز کو ضمنی الیکشن پر اثر انداز ہونے کے کچھ طریقے بتائے۔ پولنگ کا دن پرامن رہا۔ پولنگ کے اختتام پر اُنھیں سرکاری گاڑی کی بجائے پرائیویٹ ٹویوٹا کار میں بیٹھنے کو کہا گیا اور اسے ایک گاڑی میں ایک فیکٹری میں لے جایا گیاجہاں ڈی ایس پی ٹریفک مظہر فرید موجود تھا۔ مسز فرخندہ یاسمین بھی وہاں پہنچ گئی۔ اے ڈی سی بھی ساتھ تھا۔ اس پر نتیجہ تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا لیکن اس نے بتایا کہ وہ رزلٹ پہلے ہی وٹس ایپ کے ذریعے آر او آفس بھیج چکے ہیں، اس لیے اب کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے پوچھا گیا کہ کیا اسے نتیجہ واٹس ایپ کے ذریعے  نہ بھیجنے کی ہدایات نہیں ملی تھیں؟ پھر اس نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا اندازہ تھا کہ اُسے تقریباً ساڑھے دس بجے انتخابی مواد کے ساتھ آر او آفس بھیجا گیا تھا۔ 

229۔بلال حسین، اے ای او، ڈسکہ کو دس سوالوں پر مشتمل ایک جامع سوالنامہ دیا گیا۔ اس کے تحریری جوابات سوال جواب کے سیشن سے مکمل طور پر مختلف تھے۔ ان میں اس نے کہا کہ امجد مہر نے وٹس ایپ پیغام کے ذریعے اسے سمبڑیال مسز فرخندہ یاسمین کے گھرپر ملاقات کرنے کے لیے کہا۔ وہ ساڑھے دس بجے صبح وہاں پہنچے۔ آصف حسین، اے سی ڈسکہ وہاں موجود تھا۔ اس کے کچھ ساتھی، امجد علی مہر،  فرقان، مس ارم، مس صبا، مسز ثمرہ،  ذوالفقار علی ورک، ڈی ایس پی اورجامکے چیمہ سکول کی مسز افشاں زرین بھی ساتھ تھیں۔ آصف حسین اور ذوالفقار علی ورک نے انھیں بریفنگ دی کہ وہ سب سرکاری ملازم ہیں اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ حکومت کی حمایت کریں۔ اُنھیں مزید بتایا گیا کہ اگر پولنگ والے دن کوئی مسئلہ پیش آئے تو وہ فکر مند نہ ہوں۔ نے ان سے یہ بھی کہا کہ وہ فارم 45 کی پولنگ ایجنٹوں کو فراہم کی گئی کاپیوں پر اصل دستخط نہیں کریں گے۔ پولنگ کے اختتام کے بعد، نتیجہ آہستہ آہستہ تیار کیا جائے گا۔ اُنھیں ایک الگ گاڑی فراہم کی جائے گی جس میں وہ بیٹھیں گے اور اس میں بیٹھے افراد کی ہدایات پر عمل کریں گے۔ انہوں نے مزید پوچھاکہ اگر انہیں کسی ”نذرانے“ کی ضرورت ہو گی تو وہ بھی ادا کر دی جائے گی لیکن انھیں ہر حال میں تعاون کرنا پڑے گا۔پولنگ کے دن شام کو اسے فرخندہ یاسمین کا فون آیا جس میں وہ کہہ رہی تھی کہ اسے گننا شروع نہیں کرنا چاہئے لیکن اس نے اسے بتایا کہ وہ پہلے ہی کر چکا ہے۔اسے ختم کیا تو اس نے فاتح کے بارے میں پوچھا اور اسے بتایا کہ بلا جیت گیا ہے۔وہ پولنگ سٹیشن سے شام سات بجے سرکاری گاڑی میں آر او آفس کی طرف روانہ ہوا۔ سفر کے دوران اس نے واٹس ایپ کے ذریعے نتیجہ بھیج دیا۔

230۔ ثمرہ تحسین، اے ای او، ڈسکہ کو دس سوالوں پر مشتمل ایک جامع سوالنامہ دیا گیا۔ اس کے تحریری جوابات سوال جواب کے سیشن سے مکمل طور پر مختلف تھے۔ اس میں اس کا کہنا تھا کہ تین خواتین اے ای او، ڈسکہ اور سات مرد اے ای او ڈسکہ کو امجد علی مہر کے ذریعے فرخندہ یاسمین نے سترہ فروری کو دوپہر بارہ بجے اپنے گھر بلایا۔ جب وہ اس کے گھر پہنچے تو افشاں زرین،ہیڈ مسٹریس، گورنمنٹ گرلز ایلیمنٹری سکول، جامکے چیمہ وہاں پہلے سے موجود تھی۔تھوڑی دیر بعد اے سی ڈسکہ، آصف حسین اور ذوالفقار علی ورک، ڈی ایس پی بھی وہاں پہنچ گئے۔اس کے بعد اے سی نے کہا کہ کیا انھیں معلوم ہے کہ انھیں وہاں کس مقصد کے لیے بلایا گیا ہے؟ وہ سب خاموش رہے اور پھر اس نے کہا کہ آپ ہنگامی صورتحال کا سامنا کریں گے۔پولنگ سٹیشنوں پر فائرنگ، پولنگ روکنا، پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالنے جیسے واقعات پیش آئیں گے۔ اور پھر جعلی ووٹوں بھی ڈالے جائیں گے۔وغیرہ اُنھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اُنھیں وہاں سے بحفاظت نکال لیا جائے گا۔ اس کے بعد وہ دونوں وہاں سے چلے گئے۔ فرخندہ یاسمین نے اٹھارہ فروری 2021ء کو شام ساڑھے چھے بجے فون کال کی اور کہا کہ ووٹوں کا تھیلا اسے دے دو۔ اس نے ایسا کرنے سے انکار کرتے ہوئے فون بند کردیا۔ اس نے پولنگ والے دن نتیجہ مکمل کیا اور واٹس ایپ کے ذریعے بھیج دیا۔

231۔ حامد رضا باجوہ، سی ای او (تعلیم) کے پی اے (سیال کوٹ) کو دیا گیا سوال نامہ پندرہ سوالات پر مشتمل تھا۔ اس کے تحریری جوابات سوال جواب کے سیشن میں دیے گئے جوابات سے کافی مختلف پائے گئے۔ اپنے بیان میں اس نے بتایا کہ سی ای او (تعلیم) کی جانب سے اس کا کردارآر او آفس کی مدد کرنا تھا۔ اس نے مختلف ڈسٹرکٹ اتھارٹیز آف ایجوکیشن سے بات چیت کی۔سکولوں /پولنگ سٹیشنوں پر سہولیات کو چیک کرنے کے لیے سی ای او کی ہدایات جاری کیں۔ اس نے مختلف محکموں کی بابت مسز زینہ سے متعدد بار بات کی۔محکمانہ پیغامات فرخندہ یاسمین کو پہنچائے گے اور ان کی تعمیل یقینی بنانے کو کہا گیا۔ محکمہ صحت کے لیے کچھ کمروں کی فراہمی کے حوالے سے شاہجہاں سے بات کی۔ اے سی ڈسکہ،آصف حسین نے پولنگ عملے کی کمی کے حوالے سے اس سے بات کی۔اس نے فرخندہ یاسمین سے پولنگ کے عملے کی کمی کے بارے میں بات کی۔ اس دوران اس نے سرکاری لینڈ لائن فون کی بجائے زیادہ اپنا موبائل فون استعمال کیا۔ سی ای او (تعلیم) نے باز پرس کے لیے لاپتا پریذائیڈنگ آفیسرز کو فون نہیں کیا۔ اس نے مزید بتایا کہ دھند کی وجہ سے مسائل پیش آئے وگرنہ  پریذائیڈنگ آفیسر ز نے بالکل درست فرائض سرانجام دیے تھے۔ 

232۔ عبدالحق، کلرک، دفتر ڈپٹی ڈی ای او، سیالکوٹ کو پانچ سوالوں پر مشتمل سوال نامہ دیا گیا۔ اس کے تحریری جوابات ان جوابات سے بہت حد تک مختلف تھے جو اس نے سو ال و جواب سیشن کے دوران دیے تھے۔ جواب دیتے ہوئے اس نے بتایاکہ پریذائیڈنگ آفیسرز تک احکامات پہنچانا اس کا فرض تھا۔اور ان تک متعلقہ پیغامات پہنچائے تھے۔ اس نے بتایا کہ اس نے مس صبا کو میڈم ڈپٹی ڈی ای او (ڈسکہ) کی ہدایت پر کال کی تھی لیکن وہ کبھی بھی ان کے گھر نہیں گئی۔وہ اس کے محلہ میں رہتی ہے۔ 

233۔ مسز زرینہ شاہد، سابق ڈی ای او(ای ای۔ ڈبلیو) سیالکوٹ کو دس سوالات پر مشتمل سوال نامہ دیا گیا تھا جس کے اس نے جعلی جوابات جمع کرائے تھے۔ جو سوال جواب کے سیشن کے دوران دیے گئے جوابات سے بہت مختلف تھے۔اس نے بیان کیا کہ وہ انیس فروری2021  ء کووہ اپنے سکول میں ہی تھی۔ وہ گھر کے کسی کام کے لیے سیال کوٹ شہر کے کسی بازار میں گئی تھی۔ وہ گھٹالیاں سکول نہیں گئی۔اس نے تردید کہ وہ انیس فروری 2021  کو رات آٹھ بجے عیسیٰ کالونی پسرور میں تھی۔ اس نے دن کے وقت حامد سے بات کی تھی۔ اس نے بتایا کہ بلڈ پریشر اور شوگر کی مریضہ ہونے کی وجہ سے وہ جلدی بستر پر چلی جاتی ہے۔اس نے انیس اور بیس فروری کو نصف شب کے قریب زہرہ ہسپتال شہاب پورہ کے قریب کسی جگہ پر ہونے اپنی موجودگی کی تردید کی۔ اس کا کہنا تھا کہ سرکاری معاملات پر بات چیت کرنے کے لیے حامد اکثر فون کیا کرتا ہے۔ اسے اُس کی موجودگی کا ریکارڈ دکھایاگیا لیکن اس نے ان مقامات پر اپنی موجودگی کی دوٹوک انداز میں تردید کی۔ 

234۔ محکمہ پولیس سیالکوٹ سے نو ڈی ایس پی، ایس ڈی پی او، ایس ایچ اووغیرہ کو آٹھ جون 2021  ء کو نوٹس جاری کرکے تیرہ جون کو زیر دستخطی کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا۔ 

235۔  وہ سب مقرر تاریخ اور وقت پر انکوائری آفیسر کے سامنے پیش ہوئے۔ ان کے بیانات کا خلاصہ اس طرح ہے: ……ان سب نے سچ نہ بولنے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔ اُنھوں نے خود کو پاک صاف اور ایما ن دار افسران کے طور پر پیش کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے اپنی ذمہ داریوں کو بطریق احسن سرانجام دیا اور پوری حفاظت سے اپنے متعلقہ پریذائیڈنگ آفیسرکو آر اوآفس تک پہنچایا۔ وہ نہیں جانتے کہ بعد میں ان کے ساتھ کیا ہوا۔ محمداقبال خان، انسپکٹر/ایس ایچ او نے اپنے حلقے میں غلام حیدر کی موجودگی کی تردید کی۔ انہوں نے اس کی بھی تردید کی۔ اس نے ڈی ایس پی پسرور کے دفتر کے قریب پریذائیڈنگ آفیسرز کے جمع ہونے کی بھی تردید کی۔ محمد ریاض، انسپکٹر/ایس ایچ او نے ڈی ایس پی ذوالفقار علی ورک کی ضمنی الیکشن کے دوران اپنے حلقے میں موجودگی کی تردید کی۔ انسپکٹر/ایس ایچ او نے بتایا کہ اس نے آر او آفس میں پیش ہونے والے پولیس اہل کاروں کو کوئی ہدایت نہیں دی۔ نعمان احمد، ایس ایچ اوصدر، ڈسکہ نے بتایا کہ اسے آفتاب، اے ایس آئی، تھانہ سمبڑیال کا فون آیا۔ اسے بیس فروری 2021 ء کو علی الصبح موترا انٹر چینج پر بلایا گیا۔ وہ وہاں پہنچا۔ ایک ٹویاٹا ہائی ایس وہاں آئی اور اس میں موجود افراد اس کے ساتھ ڈی پی ایس سکول میں آگئے۔ ایس آئی، ایس ایچ او طاہر سجاد نے بتایا کہ وہ امن و امان کی ناقص صورت حال کی وجہ سے پریذائیڈنگ آفیسرکو قلعہ کالر والا پولیس سٹیشن میں نہیں لایا ہے۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ اس نے پانچ بجے اپنی ڈیوٹی ختم کرلی اور پھر اپنی مرضی سے رات نو بجے سیال کوٹ چلا گیا۔ اس نے کہا کہ اس کا فرض صرف گشت کرنے تک محدود تھا۔ایس آئی، ایس ایچ او محمد یوسف نے ایلیٹ پولیس فورس کی کسی بھی گاڑی کی پریذائیڈنگ آفیسر کے ساتھ نقل و حرکت کی تردید کی۔ ایس آئی/ایس ایچ او محمد علی نے بتایا کہ وہ نہیں جانتے کہ طاہر سجاد نے پولنگ عملے کو روکا اور دھمکیاں دی تھیں۔ وہ اس علاقے میں اے ایس یاسین سرفراز کی موجودگی سے بھی بے خبر تھا۔ یاسین سرفراز، اے ایس آئی نے پریذائیڈنگ آفیسرز، عاطف شاہین، رضوان بٹ اور عمرفاروق ڈوگر کے ساتھ اپنے رابطے کا اعتراف کیا۔ اس نے بتایا کہ وہ مسز فرخندہ یاسمین کو نہیں جانتا اور نہ ہی اس نے ان سے موبائل فون کے ذریعے بات کی تھی۔اس نے حامد رضا اور مس صبا مریم سے اپنی واقفیت کی تردید کی۔ غلام حیدر، اے ایس آئی نے پولنگ سٹیشن سترا سے پسرور گاڑیاں لانے کے الزام کی تردید کی۔ اس نے اعتراف کیا کہ روانگی کے اندراجات اورروزنامچہ میں آمد حقائق پر مبنی ہے۔        (جاری ہے)

مزید :

رائے -اداریہ -