لے کے جنت میں فرشتے تمہیں جائیں خالد 

لے کے جنت میں فرشتے تمہیں جائیں خالد 
لے کے جنت میں فرشتے تمہیں جائیں خالد 

  

خالد حسنین خالد صرف ایک نعت خوان ہی نہیں،بلکہ ایک دبستان نعت تھا۔اپنے لہجے،اپنے انداز اور اپنے آہنگ کا خود موجد اور خود ہی خاتم۔ اس کی آواز سن کر کسی اورکی آواز کا گمان نہیں ہوتا تھا،اس کے لحن کے گداز اور اس کی آواز کے لوچ سے بس اس کا عکس ہی نمایاں ہوتا تھا۔اس نے نعت خوانی کی پوری روایت کو پہلے اپنے اندر جذب کیا،پھر اس سے اپنا ایک الگ اور نیا رنگ تخلیق کیا جو صرف اس کا اپنا تھا۔بالکل اسی طرح جیسے شہد کی مکھی بہت سے پھولوں کا رس  اپنے وجود میں اتارتی ہے، لیکن جب اسی سے شہد بنتا ہے تواس میں سب پھولوں کے رس کی موجودگی کا ذکر کیا تو جا سکتا ہے، لیکن تلاش نہیں کیا جا سکتا۔خالدکا لہجہ بھی اسی شہد کی طرح  تھا،جس میں بہت سے رس ملے ہوئے تھے، لیکن پھر بھی اس کا رنگ، خوشبو، مٹھاس اور ذائقہ بالکل الگ اور اپنا تھا۔خالد کی پہچان کے معتبر ہونے کا وہی زمانہ ہے جب نعت میں میڈیا پر عاقبت نااندیش لوگوں کی وجہ سے ناپسندیدہ رویوں کی ایک نئی شکل کا طوفان برپا ہوا جس نے اس کے وقار اور تقدس کو بے پناہ ٹھیس پہنچائی۔یہ طوفان اس قدر منہ زور تھا کہ بڑے بڑے اس کے آگے ٹھہر نہ سکے اور انہوں نے بھی اسی رنگ میں رنگے جانے میں عافیت محسوس کی۔

ان حالات میں بھی جو چند لوگ ایسی خرافات کے آگے چٹان بن کر اپنا کردار ادا کرتے رہے،ان میں خالد کا نام بھی نمایاں ترین  طور پر شامل رہے گا۔اس نے پختہ کلاموں،مترنم بحروں اور قدرت کی عطا کردہ خدادا د آواز کی صلاحیتوں سے بلا شبہ اس محاذ پر اگلی صفحوں میں کھڑے ہونے و الے مجاہد کی طرح کردار ادا کیا،ورنہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ بڑے بڑو ں کے پاؤں اس دور میں اکھڑ گئے تھے۔اس کی پہچان کا سبب نہ تو الیکٹرانک میڈیا تھا، نہ کوئی مضبوط مذہبی لابی، نہ گروپ بندی، نہ گروہ بندی،نہ کسی بڑے آستانے یا صاحب مسند کی پشت پناہی اور نہ کسی آرگنائزر کی مہربانی۔اس کی معرفت صرف اس کی اپنے فن کے ساتھ اخلاص، محنت اور محبت کی مرہون منت تھی۔عزت و شہرت ملنے کے باوجود بھی وہ نہ تو کبھی میڈیا کے پیچھے بھاگتا ہوا نظر آیا،نہ کسی مخصوص گروہ کا حصہ بنا اور نہ ہی کبھی حرص و ہوس کے ہاتھوں یرغمال بنا۔بس اپنی دھن میں چلتا چلا گیا اور یہ سب چیزیں اس کے آگے بچھتی چلی گئیں۔ خالد کے ساتھ برطانیہ کے سفر کے دوران کم و بیش ڈیڑھ ماہ اکٹھے  ایک ہی کمرے میں گزارا،روزانہ نعت کے حوالے سے بہت سارے امور زیر بحث آتے، شعر وسخن کی محفل بھی خوب سجتی جو گھنٹوں جاری رہتی۔خالد بہت شعر شناس اور زود فہم تھا،اگرایک شاعر کو اچھا سننے والا قدردان مل جائے تو اور کیا چاہئے۔

ہم نے وہاں کچھ امور پر مشاورت بھی کی کہ کس طرح ہم چند لوگ مل کر نعت کی تربیت کے کچھ پروگرام مرحلہ وار ترتیب دے کرانہیں بڑے پلیٹ فارم کے ذریعے نئی نسل کو منتقل کرنے کے لئے محفوظ کریں گے۔یہ سب کام میرے پی۔ایچ۔ڈی کے تحقیقی مقالے کے سبب تاحال موخر تھے۔کاش مجھے اس کے یوں اچانک چلے جانے کا ذرا بھی شک ہوتا تو سارے کام چھوڑکر پہلے اس کام میں لگ  جاتا۔ایک نعت خوان کو جیسا نظر آنا چاہئے خالد بالکل ویسا دکھائی دیتا تھا، ایک نعت خوان کے لئے دین کا جتنا علم ضروری ہے، خالد اس سے بہرہ ور تھا اور ایک نعت خوان کے اندر سنجیدگی، متانت اور سخن فہمی کا جتنا ذوق  اور مطالعے کی جستجو ہونی چاہئے وہ اس کے اندر بدرجہ اتم موجود تھی اور اس سارے ماحول میں صرف ایک وہی تھا جو ان تمام اوصاف سے بیک وقت متصف تھا۔اسے دینی درسیات میں مہارت کے سبب عربی،فارسی اور اردو کے تلفظ پر کامل دسترس تھی اور پنجابی اور سرائیکی لہجہ ہونے کی بدولت اس کے اظہار میں بھی کمال درجے کی سہولت حاصل تھی۔ اس سارے منظر نامے میں ایک پہلو اس کی صحت کے خراب ہونے کے باوجود اس محبت کا بھی ہے جو اسے یہاں تک لانے کا سبب بنی۔چکوال کے ایک پروگرام میں مَیں بھی مدعو تھا، جب اس کی طبیعت خراب ہونے کی خبریں نعت کے حلقوں میں گردش کر رہی تھیں۔وہاں محفل میں ملاقات ہوئی تو مَیں نے کہا خالد یار آپ اس حالت میں بھی یہاں موجود ہیں تو کہنے لگا کیا کروں کوئی طبیعت کی خرابی کے سبب رخصت دینے کو تیار نہیں،کس کس کو ناراض کروں۔رات کے بارہ بج رہے تھے، وہ کہہ رہا تھا  ابھی جھنگ جانا ہے،ان کے بار بار فون آ رہے ہیں۔

 سچی بات ہے کہ مجھے اس وقت اس کی صحت اور دوستوں کے اصرار پر مسلسل سفر پر سخت تشویش ہوئی۔مَیں سوچ رہا تھا کہ ہماری محبت بھی کس قدر جان لیوا ہے۔خالدنے نعت خوانی کے ساتھ ساتھ ایک دینی مدرسہ بھی قائم کیا، جہاں پچھلے دنوں مَیں بھی ایک تقریب میں شریک ہوا۔اسے اس ادارے سے عشق تھا، وہ اسے بہتر سے بہتر بنانے میں کوشاں تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے دینی ادارے کو نہ صرف قائم رکھا جائے، بلکہ اسے اس کی یاد میں شہر کا مثالی ادارہ بنا دیا جائے۔جتنے لوگ اس  کے جنازے میں موجود تھے ان میں سے ایک  چوتھائی بھی ادارے سے تعاون کریں تو یہ چکوال کا معتبردینی ادارہ بن سکتا ہے۔دوسری طرف وہ میڈیا چینل جو سوشل میڈیا پر اس  کے نام اور کلام کے ذریعے لاکھوں کما چکے ہیں،انہیں چاہئے کہ زندگی میں نہ سہی، لیکن اب خالد کی نعتوں سے ہونے والی آمدن اس کے بچوں کے نام کردیں، شاید یہی ان لوگوں کی بخشش کا سبب بن جائے۔خالد کے جانے کا غم جانے کب تک انگارے کی طرح اندر سے جلاتا رہے گا، لیکن بس ایک راحت ضرور ہے کہ وہ اس جھوٹی  اورمکر وفریب سے بھری دنیا سے آزاد ہو گیا ہے، جہاں ہر طرف نفس پرستی کا راج ہے، وہ ایسی دنیا میں چلا گیا ہے جہاں اظہار  محبت کے لئے کسی کی میت کا انتظار نہیں کیا جاتا، کسی کا دست و بازو بننے اور اسے سہارا دینے کے لئے جنازے کی چارپائی والا دن نہیں دیکھا جاتا۔اللہ کرے کہ اس کا یوں اچانک چلے جانا نعت سے وابستہ حلقوں کے ضمیر کو جگانے کا سبب بن جائے۔ اس دن غم کے ٹوٹے ہوئے پہاڑ کے باوجود کچھ لوگوں کی کیمرے کے سامنے آنے کی خواہش اور اپنے موبائل پر لوگوں سے ملنے کی عکس بندی سے یہی تاثر ابھر رہا تھا کہ بس خالد ہی گیا ہے، ہم تو یہیں رہیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -