تحریک انصاف، اک اور دریا کا سامنا تھا ”فیر“مجھ کو 

تحریک انصاف، اک اور دریا کا سامنا تھا ”فیر“مجھ کو 
تحریک انصاف، اک اور دریا کا سامنا تھا ”فیر“مجھ کو 

  

کپتان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کو پانچ وفاقی وزراء کے سپرد کر کے وہ مطلوبہ نتائج حاصل کر لیں گے، تو ان کی مرضی ہے لیکن بادی النظر میں معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا انہوں نے سمجھ لیا ہے۔ ایک تنظیمی طور پر انتشار کا شکار جماعت کو اگر درست کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو یہ کام بہت پہلے ہو سکتا تھا۔ اب انتشار کم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گا کیونکہ یہ نئی انتظامی باڈی اپنی پسند ناپسند پر کام کرے گی اور ناراضی کو مزید بڑھائے گی کم نہیں کر سکے گی۔ اسد عمر کو جنرل سکریرٹی بنا کے کپتان نے ایک بار پھر جواء کھیلا ہے۔ وہی جواء جو وہ انہیں وزیر خزانہ بنا کے کھیل چکے ہیں اور نتائج آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے کیا ان میں پارٹی منظم کرنے کی صلاحیت ہے؟ کیا ان کے چاروں صوبوں میں رابطے ہیں، کیا ان کا کوئی ایسا سیاسی بیک گراؤنڈ ہے، جو ایسی سیاسی پوسٹ کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ یہ درست ہے وہ عمران خان کے با اعتماد ساتھی ہیں، مگر یہاں معاملہ ایک پارٹی کو سیدھی راہ پر لگانے کا ہے۔ پھر اگر انہیں یہ ذمہ داری سونپی بھی ہے تو انہیں وزارت کے جھنجھٹ سے آزاد کر دینا چاہئے تاکہ وہ مکمل توجہ تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے کی بحالی پر دے سکیں۔ ایک پارٹ ٹائم سکرٹری جنرل تو خود کپتان کے نظریات سے لگا نہیں کھاتا، جو ہمیشہ کہتے رہے ہیں پارٹی اور حکومتی عہدے الگ ہونے چاہئیں وزیراعظم عمران خان نے پہلے ملک بھر کی تنظیموں کے عہدیداروں کو ہٹا کر اور اب 6 رکنی انتظامی باڈی بنا کے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے۔ تحریک انصاف کو ایک بڑے تنظیمی آپریشن کی ضرورت ہے۔ کہنے کو وہ یہ بھی کہتے ہیں اب پارٹی کے معاملات وہ خود دیکھیں گے کیا ایسا ممکن ہے اوپر سے لے کر یونین کونسل تک ایک ڈھانچہ بنائے بغیر معاملات کو کیسے سیدھا کیا جا سکتا ہے۔ یہ کام تو صرف انتخابات کے ذریعے ہو سکتا ہے مگر اب نہیں لگتا کہ کپتان 2013ء کی طرح انتخابات کرانے کی غلطی کریں گے۔ وہ نامزدگیوں کے ذریعے اگر تنظیمی ڈھانچہ بناتے ہیں تو ”کج شہر دے لوگ وی پاگل سن، کج سانوں مرن دا شوق وی سی“ والی بات ہو گی۔جو پارٹی عہدیدار رہ چکے ہیں وہ کہاں جائیں گے انہیں ہٹا کر دوسروں کو آگے لایا جائے۔ تحریک انصاف میں سارا جھگڑا ہی عہدوں کا ہے، یہاں کارکن تو رفتہ رفتہ معدوم ہو چکے ہیں۔

تمام سیاسی جماعتوں میں نئے پرانے کی تقسیم ہوتی ہے تاہم تحریک انصاف میں کچھ زیادہ ہی ہے جب تک اس جماعت میں دیرینہ کارکنوں اور رہنماؤں کو اہمیت ملتی رہی یہ انتظامی طور پر ایک مضبوط جماعت تھی حالات اس وقت خراب ہوئے جب کپتان کو لگا اقتدار میں آنے کے لئے الیکٹیبلز کو ساتھ ملانا ضروری ہے۔ الیکٹیبلز آئے تو انہوں نے اپنے لئے پارٹی عہدے بھی مانگے کم از کم اپنے حلقے میں انہوں نے چن چن کر ایسے افراد کو پارٹی عہدیدار بنایا جن کا تحریک انصاف سے کوئی نظریاتی تعلق نہیں تھا۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ان حلقوں میں تحریک انصاف کے پرانے ورکرز نظر انداز ہونے لگے، جس سے ایک مزاحمت بھی پیدا ہوئی اور بددلی بھی۔ جو ظرف والے تھے ایک سائیڈ پر ہو کر بیٹھ گئے اور جنہیں یہ بات پسند نہ آئی انہوں نے علیحدہ گروپ بنا لئے میں ذاتی طور پر جانتا ہوں نہ صرف مردوں بلکہ خواتین کی تنظیم میں بھی ایک سے زیادہ گروپ بن گئے اور آئے روز کے الزاماتی بیانات نے پارٹی کو ایک تماشا بنائے رکھا۔ ایک زمانے میں جنوبی پنجاب کا صدر اسحاق خاکوانی کو بنایا گیا انہوں نے چن چن کر ایسے عہدیدار بنائے جن کی پارٹی کے لئے خدمات نہ ہونے کے برابر تھیں، جس سے ہر عہدے پر لڑائی جھگڑے معمول بن گئے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں کچھ عرصہ پہلے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ہوئے تو اپنے ہی امیدواروں کے خلاف سرگرم کردار ادا کرنے والے کوئی اور نہیں پی ٹی آئی کے ناراض کارکن تھے جس کی وجہ سے ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

کپتان نے پرویز خٹک کو تحریک انصاف خیبرپختونخوا کا صدر بنا دیا ہے سب جانتے ہیں کہ موجودہ وزیر اعلیٰ محمود خان سے ان کی نہیں بنتی۔ یہ بھی ایک سامنے کا سچ ہے کہ پرویز خٹک خیبرپختونخوا میں ایک گروپ کی سرپرستی کرتے ہیں افواہیں گرم ہیں کہ شاید پرویز خٹک کو آنے والے دنو ں میں صوبائی اسمبلی کا ممبر بنا کے وزیر اعلیٰ بھی مقرر کر دیا جائے۔ یہ ایک بہت رسکی گیم ہے۔ جو الٹی بھی پڑ سکتی ہے۔ خیبرپختونخوا کی سیاست کا مزاج سب سے مختلف ہے، وہاں ذاتی مفادات کو پارٹی مفاد پر ترجیح دینے کا ایک رواج موجود ہے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کو شکست بھی اسی لئے ہوئی ہے کہ ارکانِ اسمبلی نے اپنے ہی امیدواروں کی مخالفت کی۔ پرویز خٹک اگرچہ ایک اچھے وزیر اعلیٰ رہے ہیں، ان کے دور میں خیبرپختونخوا کے اندر ترقیاتی کام بھی ہوئے، گڈ گورننس بھی موجود تھی۔ تاہم پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے وہ ایک منتشر تنظیمی ڈھانچے کو یکجا کر سکیں گے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ان ساڑھے تین برسوں میں ان کے سیاسی گروپ نے وہاں جو کچھ کیا ہے اُسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عرصے میں ایک بڑا گروپ ان کی مخالفت میں بھی منظم ہوا ہے۔ جس کے باعث وہاں ایک سیاسی انتشار کی صورتِ حال رہی ہے۔ اس دوران کئی وزراء اور مشیروں کو ہٹانا بھی پڑا اور کئی نے حکومت پر سنگین الزامات بھی لگائے۔ وزیراعلیٰ محمود خان کی پارٹی اور حکومت پر اتنی مضبوط گرفت نہیں رہی جتنی پرویز خٹک کی تھی، تاہم وہ وزیراعلیٰ ہیں اور انہوں نے اپنا ایک حامی گروپ بھی بنا لیا ہے، پھر گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان بھی ایک بڑے سیاسی گروپ کی سرپرستی کرتے ہیں، یوں معاملہ اتنا آسان نہیں کہ پرویز خٹک کو صدر بنا کے سب ٹھیک ہو جائے۔ الٹا انتشار بڑھنے کے خدشات موجود ہیں۔

جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وسطی پنجاب کا صدر شفقت محمود کو اور جنوبی پنجاب کا صدر خسرو بختیار کو بنا دیا گیا ہے، یہ دونوں وفاقی وزراء ہیں اور بطور وفاقی وزیر یہ شاید ہی پنجاب کے مختلف شہروں کے دورے پر گئے ہوں۔ شفقت محمود کا سیاسی وژن تو ہے لیکن پارٹی منظم کرنے کا سیاسی تجربہ نہیں، انہیں بہت عرصہ لگے گا یہ سمجھنے میں کہ تحریک انصاف تنظیمی لحاظ سے کس سطح پر کھڑی ہے۔ ہر اینٹ کے نیچے عہدہ لینے کا ایک امیدوار موجود ہے اور خود کو سب سے زیادہ مستحق سمجھتا ہے۔ اعجاز چودھری وسطی پنجاب کے صدر رہے ہیں لیکن سب جانتے ہیں وہ دھڑے بندی کے آدمی ہیں اور چن چن کر ایسے لوگوں کو سامنے لاتے رہے جو ان کے گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ لاہور میں علیم خان کو کارنر کیا گیا، جو پارٹی اور وزارت سے ہی بددل ہو گئے۔ سب سے دلچسپ تقرری جنوبی پنجاب میں کی گئی، خسرو بختیار کو صدر بنا دیا گیا ہے۔ جن کے بارے میں ابھی تک یہ تاثر موجود ہے وہ حکومت کے اتحادی ہیں تحریک انصاف کے رکن نہیں یاد رہے کہ عام انتخابات سے پہلے وہ تحریک صوبہ محاذ بنا کے ایک معاہدے کے تحت تحریک انصاف کے اتحادی بنے تھے۔ ان کا زیادہ تر سیاسی حلقہ رحیم یار خان تک محدود ہے۔ وہ شاذو نادر ہی ملتان اور ڈیرہ غازیخان کے دورے پر آئے ہیں ان کا سٹائل بھی وڈیرانہ ہے اور کارکنوں کے ساتھ نظم و ضبط زیادہ نہیں۔ البتہ ان کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے وہ جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھتے ہیں،کیا ان کے آنے سے شاہ محمود قریشی گروپ نظر انداز ہو جائے گا؟ ایسا ہوا تو جنوبی پنجاب میں بھی تحریک انصاف ایک نئی کشمکش سے دو چار ہو جائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -