انار کی کلی سے انار کلی اور ہیر وارث شاہ تک 

انار کی کلی سے انار کلی اور ہیر وارث شاہ تک 
انار کی کلی سے انار کلی اور ہیر وارث شاہ تک 

  

محترمہ زہرہ ناصر ہر اتوار ایک انگریزی روزنامے میں ”فنِ باغبانی“ پر ایک کالم لکھتی ہیں۔ اس کالم میں ملک بھر سے قارئین پھلوں، پھولوں اور سدا بہار پودوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور وہ ان کا جواب دیتی ہیں۔ یہ خط و کتابت چونکہ انگریزی زبان میں ہوتی ہے اس لئے ملک کا اردو خواں طبقہ زہرہ ناصر کی تحریروں سے فیض یاب نہیں ہو سکتا۔ کیا ہی اچھا ہو اگر اردو کے اخبارات بھی اپنے سنڈے ایڈیشن میں اس روائت کی پیروی کریں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس میں باغبانی کا شوق رکھنے والوں کے لئے نظری اور عملی سطح پر بہت سی مفید آراء اور معلومات دی اور لی جا سکتی ہیں۔ زرعی یونیورسٹی کے اربابِ اختیار کو بھی گزارش کروں گا کہ وہ ریگولر بنیادوں پر ایک ایسا ماہنامہ جاری کریں جس میں پھلوں پھولوں کی کاشت و برداشت پر مضامین شائع کئے جائیں۔ یہ فیلڈ بڑی وسیع ہے اور پاکستانی زمیندار اور کاشت کار اس میں جدید باغبانی کے طور طریقوں سے فائدہ اٹھا کر ملک کے زرِمبادلہ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں زیتون، بھنگ اور چائے وغیرہ کی کاشت پر خاصی توجہ دی ہے…… کاش ان خبروں کو میڈیا پر نشر کرنے کے ساتھ ساتھ گاہے بگاہے ان فصلوں کی ارتقائی ڈویلپمنٹ پر بھی ناظرین و قارئین کو مطلع کرنے کا ایک ریگولر سلسلہ جاری کیا جا سکے!

26دسمبر کو شائع ہوئے انگریزی اخبار کے کالم میں قصور (پنجاب) سے ایک صاحب کا سوال تھا: ”ہم قصور میں اپنے باغ میں انار کے بارے میں چند مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہم نے دو برس پہلے انار کے درخت اپنے باغ میں لگوائے تھے جن کا پھل اگلے برس آنا شروع ہوا!۔ لیکن پرابلم یہ ہے کہ انار کا سائز بہت چھوٹا ہے اور اس کی گٹھلی بھی بہت سخت ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ انار کا سائز  بھی اُن اناروں جیسا ہو جائے جو مارکیٹ میں دستیاب ہیں …… ہم اس سلسلے میں کیا کر سکتے ہیں؟“

اس سوال میں سوال کرنے والے صاحبان نے دو باتیں تحریر نہیں کیں۔ پہلی بات یہ کہ آیا یہ انار قندھاری ہیں یا وہ انار کہ جن کا دانہ سفید ہوتا ہے اور اس کی گٹھلی بھی نرم ہوتی ہے۔ بہر کیف زہرہ ناصر نے جو جواب دیا ہے وہ بھی دیکھ لیں …… ”اناروں کی بہت سی اقسام ہیں، جن کے پھل مختلف سائز کے ہوتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے آپ نے باغ میں جن اناروں کی کاشت کی ہے ان کا سائز چھوٹا تھا۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ایک دفعہ جب آپ کوئی درخت زمین میں بو دیتے ہیں تو اس کے پھل اور برداشت میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتے۔ وہ بڑے سائز کے انار جن کا ذکر آپ نے اپنے سوال میں کیا ہے وہ ہم افغانستان سے درآمد کرتے ہیں۔ ”قندھاری اناروں“ کی سرزمین، پاکستانی سرزمین سے مختلف ہوتی ہے اور یہی حال آب و ہوا کا بھی ہے…… البتہ ہم یہ کر سکتے ہیں کہ سردیوں کے اواخر اور موسمِ بہار کے اوائل میں پاکستانی نرسیوں سے بھی قندھاری انار کی پنیری (Sapling) لے کر انہیں اپنے ہاں کاشت کر سکتے ہیں۔ یہ پنیری آپ کو پتوکی سے مل سکتی ہے“۔

یادش بخیر میں بھی جب راولپنڈی سے لاہور شفٹ ہوا تھا تو تین منزلہ فلیٹ کے گراؤنڈ فلور (عسکری ون) کے دونوں طرف 60فٹ x 30فٹ) کے دو لان بھی حصے میں آئے۔ میں نے ان میں اپنی مرضی کا گھاس اور باڑھ (Hedge) وغیرہ لگوائی اور پھل پھول بھی کاشت کئے۔ لیکن بے دانہ سفید انار کا شوق مجھے پتوکی لے گیا۔ وہاں جس نرسری سے تین درخت اُس انار کے خرید کر کاشت کئے ان کی عمر چار سال سے زیادہ بتائی گئی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ انار کا درخت 5سال کے بعد پھل دیتا ہے۔ چنانچہ اگلے برس ان درختوں کو پھل لگ گیا لیکن اس کا سائز چھوٹا تھا۔ میں نے اِدھر اُدھر سے معلوم کیا تو بتایا گیا کہ یہ پھل سال بسال بڑا ہوتا چلا جائے گا، آپ انتظار کریں۔ لیکن چار پانچ سال گزرنے کے بعد بھی ان کا پھل سائز میں تو بڑا ہو گیا لیکن اس کے دانے اندر سے باریک تھے اور بیج بھی سخت تھا۔ یعنی وہی حالت تھی جو قصور کے باغبانوں نے زہرہ ناصر کو لکھی ہے۔ دو تین سال کے بعد جب یہی صورتِ حال برقرار رہی تو میں نے ان تینوں درختوں کو نکال دیا اور ان کی جگہ دوسرے پھلدار درخت کاشت کئے۔

قارئین کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ اس انار کی کاشت کا خیال ذہن میں کیسے آیا…… اب سوچتا ہوں کہ اس کی دو وجوہات تھیں ایک تو انار کلی کا وہ ڈرامہ جو امتیاز علی تاج نے لکھا تھا اور جس پر بعد میں مغل اعظم اور انار کلی جیسی شاندار فلمیں بھی بنائی گئیں اور دوسرا وہ واقعہ تھا جو مجھے کوئٹہ سے خضدار جاتے ہوئے راستے میں پیش آیا۔

یہ 1970ء کے عشرے کا اواخر تھا۔ میری پوسٹنگ آزاد کشمیر کے ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر (20بریگیڈ) سے قلات سکاؤٹس میں ہوئی تھی اور میں پہلی بار کوئٹہ سے خضدار جا رہا تھا۔ یہ سفر 200میل (300کلومیٹر) کا ہے۔ اس زمانے RCD ہائی وے نئی نئی تعمیر ہوئی تھی۔ ہم جب مستونگ اور قلات سے نکل کر خضدار کی طرف چلے تو تقریباً 8،10میل پہلے ایک سرسبز و شاداب قطعہء اراضی نظر آیا۔ اس گاؤں کا نام باغبانہ تھا اور RCD ہائی وے اس کے پہلو سے نکلتی تھی۔ گرمیوں کا موسم تھا اور کوئٹہ سے یہاں تک کا یہ سفر خاصا بور کر دینے والا تھا…… لق و دق صحرائی علاقہ، طول طویل فاصلوں پر کہیں کہیں ایک آدھ گاؤں، تپتپاتی گرمیوں کی دوپہر اور تیز لُو کے تھپیڑوں نے بُرا حال کر دیا تھا، لہٰذا میں نے اپنے ساتھ آنے والی رہنما (Escorting) گاڑی کو رک جانے کا اشارہ کیا اور اپنی جیپ بھی باغبانہ کے سرسبز درختوں کے جھنڈ میں ایک کچے راستے پر ڈال دی۔ ساتھ ہی کاریز بہہ رہی تھی۔ ہم گویا دوزخ سے نکل کر بہشت میں آگئے۔ میں نے ڈرائیور کو کہا کہ چھاگلوں کا پانی تبدیل کرلے اور ساتھ ہی گاڑی پارک کرکے اِدھر اُدھر کا منظر دیکھنے لگا۔

یہ اناروں کا ایک وسیع باغ تھا اور انار بھی سفید اور بے دانہ یعنی گٹھلی برائے نام…… مجھے دیکھ کر ایک بوڑھا سا شخص میری طرف بڑھا۔ وردیوں میں ملبوس فوجیوں کو دیکھ کر اس کو شائد کچھ وحشت ہونے لگی تھی کہ یہ لوگ اس باغ میں کیا کرنے آئے ہیں۔ اس نے فارسی میں مجھ سے سوال کیا اور جب میں نے فارسی ہی میں اس کا جواب دیا تو وہ حیران بھی ہوا اور پریشان بھی کہ یہ ضرور فوج کی کوئی انٹیلی جنس یونٹ ہے جو کسی ”کارروائی“ کے لئے یہاں آئی ہے۔ تمام فوجی ہتھیار بند تھے اور میں خود بھی وردی میں تھا اور ہتھیار بند بھی تھا۔

بہرحال یہ قصہ دراز ہے۔ اس نے بتایا کہ یہ انار کے درخت مغل شہنشاہ ہمایوں نے تب اس جگہ آکر کاشت کئے تھے جب وہ ایران سے ہندوستان واپس جا رہا تھا۔ شیر شاہ سوری فوت ہو چکا تھا اور اس کے جانشین سکندر سوری وغیرہ نااہل نکلے تھے۔ ہمایوں کے پاس ایران کے وہ پھل بھی تھے جن کے Saplings وہ ایران سے ہندوستان لا رہا تھا۔ وگرنہ اس بے آب و گیاہ صحرا میں اناروں کی کاشت چہ معنی دارد؟…… وہ بوڑھا کشاں کشاں اپنے باغ کی طرف بڑھا اور ایک نوجوان کو چند انار لانے کو کہا۔ انار لائے گئے تو اس نے کہا کہ ”یہ سفید بے دانہ انار ہیں۔ ان کے اندر بیج برائے نام ہوتا ہے۔ ان کا سائز قندھاری انار کے دانے سے دگنا تھا۔ اس نے میرے سامنے وہ انار چیرا اور مجھے اس کا ایک دانہ دکھا کر کہنے لگا کہ اس کے اندر سے آپ میری طرف دیکھیں گے تو میرا چہرہ آپ کو نظر آئے گا…… میں نے دیکھا تو وہ واقعی شفاف (Transparent)دانہء انار تھا…… میرے ذہن میں وہی باغبانہ کا انار بسا ہوا تھا جب میں نے پتوکی سے تین انار لا کر اپنے پائیں باغ میں کاشت کئے تھے۔

یہ طائرِ خیال بھی عجیب پرندہ ہے…… مغل اعظم نام کی انڈین فلم تو شائد پاکستان کے ہر فرد بشر نے دیکھی ہوگی۔ اس کا ایک ڈائیلاگ جو شہنشاہ اکبر کی زبان سے ادا ہوا وہ ایک لیجنڈ بن چکا ہے۔ اکبر انار کلی کو مخاطب کرکے کہتا ہے: ”انار کلی! سلیم تمہیں مرنے نہیں دے گا اور ہم تمہیں جینے نہیں دیں گے!“ اس ڈائیلاگ کی معنویت نے اسے اب تک زندہ رکھا ہوا ہے اور شائد مستقبل میں بھی زندہ رکھے۔

اس موضوع پر ایک اور فلم ”انار کلی“ بھی کچھ سال پہلے انڈیا میں بنائی گئی تھی جس کا ایک گانا امر ہو چکا ہے۔ اس کے بول یہ تھے:

سنائے گی یہ داستاں، شمع مرے مزار کی

خزاں میں بھی کِھلی رہی، یہ کلی انار کی

اسے مزار مت کہو، یہ ہے محل پیار کا 

یہ زندگی اس کی ہے جو کسی کا ہو گیا

پیار ہی میں کھو گیا

مجھے اُس دوپہر باغبانہ میں بیٹھے انار کلی پر فلمائے ہوئے یہ گانے اور مکالمے یاد آ رہے تھے۔ حجاب امتیاز علی کی انار کلی والے ڈرامے کے ڈائیلاگ بھی برسوں تک زندہ رہے اور اب بھی اردو ادب میں اس ڈرامے کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے……

کالم ختم کرنے سے پہلے ہیر وارث شاہ کے وہ چند اشعار جن میں ہیر کے حسن کی تعریف کی گئی ہے اور ان میں دیکھئے ”انار“ کا ذکر کس بنا پر کیا گیا ہے:

ہوٹھ سرخ یا قوت جیؤں لعل چمکن تھوڈی سیب ولائتی سار وچّوں 

نَک الف حسینی دا پپلاسی زلف ناگ خزانے دی بار وچّوں 

دَند چنبے دی لڑی کہ ہنس موتی دانے نکلے حسن انار وچّوں 

لکھی چین کشمیر تصویر جٹّی قد سروُ بہشت گلزار وچّوں 

گردن کونج دی اُنگلیاں روانہہ پھلیاں ہتھ کُولڑے برگ چنار وچّوں 

وارث شاہ جاں نیناں دا داؤ لگے کوئی بچے نہ جوئے دی ہار وچّوں 

مزید :

رائے -کالم -