انڈین مسلمانوں کی نسل کشی کا اعلان،بھارتی ناطم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

  انڈین مسلمانوں کی نسل کشی کا اعلان،بھارتی ناطم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

  

       اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پاکستان نے بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے نئی دلی حکومت کے ہندوتواء حمایتیوں کی ہندوستانی مسلمانوں کی کھلی نسل کشی کے اعلا ن پر پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا۔ ترجمان دفترخارجہ کے مطابق یہ پرتشدد نفرت آمیز تقاریر 17 تا 20 دسمبر کو ہردیوار اترکھنڈ میں دھرما سانسد کے دوران کی گئیں، ترجمان د فتر خارجہ کے مطابق بھارتی حکومت پر دباو ڈالا گیا نسل کشی کی کال دینے والی ہندو رکھشا سینا کے پربھودند گیری اور دیگر ہندوتوا شخصیات نے کبھی تاسف کا اظہار نہیں کیا۔عاصم افتخار احمد نے کہا بھارتی حکومت نے ابھی تک کبھی ان کے عمل کی مذمت کی نہ ہی ان کیخلاف کوئی کارروائی۔ بھارتی حکومت کو آگاہ کیا گیا ان مبینہ نفرت آمیز تقاریر کو پاکستانی عوام کے مختلف شعبوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید تشویش سے دیکھا جا رہا ہے۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کیخلاف زہریلا بیانیہ اور ان کیخلاف کاروائیوں کی پشت پناہی موجودہ بی جے پی و آر ایس ایس حکومت کا طرہ امتیاز بن چکا،بھارتی ناظم الامور کو یاد ہانی کرائی گئی ہندوتوا شخصیات بشمول حکمران اراکان پارلیمان کے تشدد کو ہوا دینے کا نتیجہ فروری 2020 میں نئی دلی میں مسلم کش فسادات کی صورت میں نکلا تھا۔

دفتر خارجہ طلبی

مزید :

صفحہ اول -