ترمیمی فنانس بل آج قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کاامکان 

   ترمیمی فنانس بل آج قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کاامکان 

  

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی حکومت کی جانب سے آج منگل کو ترمیمی فنانس اورسٹیٹ بینک کی خود مختاری بل پیش کئے جانے کاامکان ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی ایک ارب ڈالر قرض کی قسط ترمیمی فنانس بل سے مشروط ہے جبکہ سٹیٹ بینک کی خود مختاری کا بل بھی فنانس بل کیساتھ اسمبلی میں پیش کیا جائیگا۔مشیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین کے مطابق 12 جنوری کو آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں چھٹی جائزہ رپورٹ پیش کی جائیگی۔ پاکستان 12 جنوری سے قبل آئی ایم ایف کی شرائط پوری کریگا۔ ترمیمی فنانس بل میں 350 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ واپس لی جائے گی،اس حوالے سے ذرائع نے بتایا آئی ایم ایف کی شرط ہے ترمیمی فنانس بل اسمبلی سے پاس کرانا ضروری ہے لہٰذا ترمیمی فنانس بل آرڈیننس سے نافذ نہیں ہو گا۔یکس قوانین (چوتھا ترمیمی بل) کے ذریعے میں 350 ارب روپے سے زائد کا سیلز ٹیکس استثنیٰ واپس لیا جائیگا اور رواں مالی سال کے ریونیو بجٹ کو 5800ارب روپے سے بڑھا کر 6100ارب روپے کیا جائیگا۔ پیٹرولیم کو چار روپے ماہانہ کے حساب سے نافذ کیا جائیگاا ور سال کا نظر ثانی شدہ 356 ارب روپے کا پیٹرولیم لیوی کا ہدف حاصل کیا جائیگا، 200ارب روپے ترقیاتی بجٹ میں بھی کمی کی جائیگی جبکہ 50ارب روپے کی غیر ملکی ترقیاتی گرانٹس میں بھی کمی کی جائیگی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق دو سری جانب وزارت قانون نے بتایاآج منگل کوقومی اسمبلی کاپرائیویٹ ممبرڈے ہونے کی وجہ سے منی بجٹ مزید التوا کاشکارہوسکتاہے، جبکہ ابھی تک وفاقی کابینہ نے فنانس (تر میمی) بل 2021 کی باقاعدہ منظوری نہیں دی، البتہ بل کو سرکولیشن کے ذریعے یا آج وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیا جاسکتا ہے تاہم اس کیلئے پرائیویٹ ممبر ڈے کے ایجنڈے کو معطل کرنا پڑے گاجس پر اپوزیشن شدید احتجاج کر سکتی ہے، اسلئے ممکن ہے فنانس ترمیمی بل اور سٹیٹ بنک ترمیمی بل2021 بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے۔

ترمیمی فنانس بل

مزید :

صفحہ اول -