بھوک کا خاتمہ، مگر کیسے؟

بھوک کا خاتمہ، مگر کیسے؟
بھوک کا خاتمہ، مگر کیسے؟

  

حالیہ عرصے میں اقوام متحدہ کی جانب سے متعدد مرتبہ دنیا سے بھوک کے خاتمے کے لیے پائیدار غذائی تحفظ اور عالمی زرعی خوراک کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق عالمی سطح پر تقریباً 811 ملین افراد بھوک کا شکار ہیں جبکہ تین ارب افراد صحت مند خوراک کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں۔دنیا کے مختلف خطوں میں تنازعات، نقل مکانی، معاشی گراوٹ، موسمیاتی تبدیلی کا بحران اور اب کووڈ۔19 کی وبائی صورتحال نے خوراک کے عدم تحفظ کو مزید بڑھاوا دیا ہے، جس سے محدود وسائل کے حامل ممالک اور کمزور طبقے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔سال 2020 میں عالمی سطح پر وبا کے باعث بھوک میں خطرناک حد تک مزید اضافہ ہوا جسے اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں ایک ''نازک موڑ'' کا انتباہ قرار دیا گیا ہے۔عالمی اداروں کا تخمینہ ہے کہ 2030 تک بھوک کے خاتمے کے لیے اہدافی بنیادوں پر سالانہ 40 سے 50 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ساتھ ہی ورلڈ فوڈ پروگرام متنبہ کر رہا ہے کہ اگر موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بھوک سے مرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔

دنیا میں تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی سے سامنے آنے والے مسائل انسانی جانوں، فصلوں اور معاش کو تباہ کر رہے ہیں اور غذائی تحفظ کی صلاحیت کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔ دوسری جانب یہ بات قابل زکر ہے کہ دنیا کے زرعی خوراک کے نظام میں اس وقت ایک ارب افراد ملازمت کرتے ہیں، جو کسی بھی دوسرے شعبے سے زیادہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین بہتر پیداوار، بہتر غذائیت، بہتر ماحول اور بہتر زندگی کے اصولوں کی روشنی میں زرعی خوراک کے نظام کو مزید موثر، لچکدار، شفاف اور مزید پائیدار بنانے کے لیے اس میں اصلاحات اور تبدیلی پر زور دے رہے ہیں۔

اگر انفرادی طور پر بڑے ممالک کی بات کی جائے تو غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے چین کی پالیسیوں نے چینی عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور عالمی غذائی تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔چینی قیادت کے نزدیک 2022 میں ملک کی دیہی ترقی میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ایک ترجیح رہے گا۔حال ہی میں اختتام پزیر ہونے والی سالانہ مرکزی دیہی ورک کانفرنس کے دوران، چینی رہنما¶ں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملک کو اپنی خوراک کی فراہمی کا ہر صورت میں تحفظ کرنا چاہیے،کانفرنس کے دوران تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ کھیتی باڑی کے تحفظ اور اناج کی پیداوار کو مستحکم رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ملک یہ چاہتا ہے کہ اس کے عوام کو کبھی غذائی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے ، ہر ملک اور حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے کہ لوگوں کو پیٹ بھر کر روٹی نصیب ہو لیکن یہ ضمانت عملی اقدامات کی متقاضی ہے۔چین کی مثال ہمیشہ اس لیے دی جاتی ہے کہ 1.4 بلین سے زائد آبادی کے لیے فوڈ سیکیورٹی کی ضمانت ہر گز آسان نہیں ہے، یہ ہدف حاصل کرنا کوئی چھوٹا کارنامہ نہیں ہے۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تحفظ خوراک کو یقینی بنانے کے حوالے سے چین کے عزائم میں گزشتہ دہائیوں میں کوئی بدلاو نہیں آیا ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے سال 2013 میں منعقدہ سالانہ مرکزی اقتصادی ورک کانفرنس میں اس کا واضح تعین کر دیا تھا کہ غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ایک طویل المدتی فریضہ رہے گا، لہذا ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہ زراعت بالخصوص اناج کی پیداوار کے لیے جامع اور مضبوط لائحہ عمل پر کاربند رہے۔ 

اس سلسلے میں چین نے ٹھوس اقدامات کیے ہیں جو زرعی ترقی کے تمام پہلو¶ں کا احاطہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر قابل کاشت اراضی کے تحفظ کے لیے، چینی حکومت نے اس بات کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے کہ ملک کا کھیتی باڑی کا کل رقبہ 1.8 بلین میو (تقریباً 120 ملین ہیکٹر) سے زیادہ

 رہے۔ملک نے اناج کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بھی موئثر اقدامات کیے ہیں جن میں علاقائی ترتیب اور پیداواری عوامل کے امتزاج کو بہتر بنانا، اور پانی کی بچت پر مبنی آبپاشی کی ٹیکنالوجی کو مقبول بنانا وغیرہ شامل ہیں۔ان اقدامات سے چین کی خوراک کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت چین کی فی کس خوراک کی فراہمی 474 کلوگرام سے زائد ہو چکی ہے جو کہ 400 کلوگرام کے بین الاقوامی معیار سے کافی زیادہ ہے۔ 

چین کی برسوں کی محنت کے بعد اناج کی مسلسل بہترین پیداوار نے چینی عوام کو وافر اور صحت بخش خوراک کا انتخاب کرنے میں بھی مدد فراہم کی ہے، یوں اناج کے ساتھ ساتھ دیگر اشیائے خوراک جیسے گوشت اور مچھلی، سبزیوں اور پھلوں کی کھپت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ علاوہ ازیں، چین کی غذائی تحفظ کی پالیسیوں کی بدولت ملک کی وسیع دیہی آبادی بالخصوص کسانوں کے لیے ٹھوس ثمرات حاصل ہوئے ہیں۔ کسانوں پر بوجھ کم کرنے اور فصلوں کی بہتر کاشت کی خاطر مختلف نوعیت کے محصولات کا خاتمہ کیا گیا،ان میں وہ زرعی ٹیکس بھی شامل ہے جو تقریباً 2600 سالوں سے رائج تھا۔ ان اقدامات نے جہاں تحفظ خوراک کی ضمانت دی وہاں غربت سے نمٹنے کے لیے ملک کی کوششوں کو نمایاں حد تک فروغ دیا۔ 

چین نے ملکی سطح پر غذائی تحفظ میں حاصل شدہ کامیابیوں کا باقی دنیا کے ساتھ بھی فعال تبادلہ کیا ہے جسے وسیع پیمانے پر سراہا گیا ہے۔تا حال چین کی جانب سے دنیا کو فصلوں کی پیداوار، مویشیوں کی افزائش، آبپاشی کی جدید ٹیکنالوجیز، اور زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ جیسے شعبوں میں 1500 سے زائد ٹیکنالوجیز فراہم کی گئی ہیں، جن سے 1.5 ملین سے زائد کسان گھرانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔یوں چین عالمی سطح پر فوڈ سکیورٹی کے ایک متحرک قائد کے طور پر اپنا کردار بخوبی نبھا رہا ہے اور دنیا سے بھوک کے مکمل خاتمے کے لیے اپنے عملی اقدامات سے کوشاں ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

.

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   

مزید :

بلاگ -