"ماموں ہم لڑکی اغوا کیس میں پھنس گئے، پولیس پیسے مانگ رہی  ہے جلدی پیسے بھیجیں" شہری کو ایمرجنسی کال ، لیکن تحقیق کی تو ایسا انکشاف کہ پیروں تلے زمین نکل گئی

"ماموں ہم لڑکی اغوا کیس میں پھنس گئے، پولیس پیسے مانگ رہی  ہے جلدی پیسے ...

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) فراڈیوں نے شہریوں سے فراڈ کرنے کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا، فون کال پر ایمرجنسی ظاہر کرکے کسی رشتہ دار کا حوالہ دے کر پیسے مانگنے لگے۔

بورے والا سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کے مطابق وہ اس فراڈ سے بال بال بچے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ایک فراڈیے نے کال کی اور کہا " ماموں جی مجھے پہچانیے میں کون ہوں؟تین بار تکرار کے بعد کہنے لگا میں آ پ کا بھانجا بول رہا ہوں۔میں اپنے دوست کے ساتھ اسلام آباد آ یا تھا۔پولیس نے ہمیں لڑکی اغوا کے کیس میں پکڑ لیا ہے۔رونے جیسی آ واز میں کہنے لگا۔حوالدار سے پیسوں میں مک مکا ہو گیا ہے۔پلیز کسی کو بتانا نہیں۔ہمیں پیسے سینڈ کر دیں، میں لاہور جا کر بھیج دوں گا۔"

شہری کے مطابق وہ اس کال کے بعد پہلے تو پریشان ہوئے لیکن  پھر انہوں نے اپنے بھانجے کے نمبر پر کال کی۔ جب بھانجے سے بات ہوئی تو اس نے بتایا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور وہ خیریت  سے لاہور میں ہے۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس طرح کے فراڈ سے محتاط رہیں اور اگر ایسی کوئی کال آئے تو پہلے اس کی تصدیق کرلیں نہیں تو بڑے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایک اور شہری علی احمد شاہ  کے ساتھ 28 نومبر کو ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ایک  دوست کے رشتہ دار  لڑکے کی کال آئی جو بہت زیادہ رو رہا تھا، اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے تو اس نے روتے روتےبتایا کہ  ان کے دوست کی لڑائی ہوئی تھی جس میں انہیں مخالف گروپ نے دو گولیاں مار دیں۔ زخمی کو جناح ہسپتال لاہور کی ایمرجنسی میں داخل کرایا گیا جہاں مخالف فریق پیچھے پہنچ گیا اور ہسپتال کی ایمرجنسی میں دوبارہ اس شخص کو گولیاں مار کر فرار ہوگیا۔

علی احمد شاہ کے مطابق جب انہوں نے اپنے دوست کے گھر والوں کو فون کیا تو انہیں اس بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔ پھر انہیں شک گزرا اور انہوں نے  لاہور میں موجود اپنے کچھ صحافی دوستوں سے رابطہ کیا تو پتا چلا کہ جس وقت ہسپتال کی ایمرجنسی میں فائرنگ کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے عین اسی وقت جناح ہسپتال میں کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد عثمان کی قیادت میں سموگ سے آگاہی کیلئے سائیکل ریلی نکالی جا رہی تھی جس میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔ 

علی احمد شاہ کے مطابق ان کے صحافی دوستوں نے انہیں بتایا کہ اتنی بڑی تعداد میں سرکاری حکام کے ہسپتال میں موجود ہونے کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص ہسپتال کی ایمرجنسی میں فائرنگ کرکے فرار ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کال کرنے والے نے علاج کیلئے لاکھوں روپے مانگے تھے لیکن وہ بروقت معاملے کی تحقیق کرنے کی وجہ سے بڑے فراڈ سے بچ گئے، اگر وہ اس ایمرجنسی کال سے بوکھلا کر پریشانی میں مبتلا ہو کرغلط قدم اٹھا لیتے تو انہیں لاکھوں روپے سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے تھے۔

مزید :

جرم و انصاف -علاقائی -پنجاب -لاہور -وہاڑی -