اشرف غنی، رجب طیب اردوان کرپٹ ترین افراد کے مقابلے میں فائنلسٹ،  لیکن دنیا کا سب سے بڑا کرپٹ کس کو قرار دیا گیا ؟ نام ایسا کہ حیرت کی انتہا نہ رہے

اشرف غنی، رجب طیب اردوان کرپٹ ترین افراد کے مقابلے میں فائنلسٹ،  لیکن دنیا ...
اشرف غنی، رجب طیب اردوان کرپٹ ترین افراد کے مقابلے میں فائنلسٹ،  لیکن دنیا کا سب سے بڑا کرپٹ کس کو قرار دیا گیا ؟ نام ایسا کہ حیرت کی انتہا نہ رہے
سورس: Wikimedia Commons

  

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) صحافیوں کی ایک تنظیم نے بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لو کاشینکو کو دنیا کا کرپٹ ترین لیڈر قرار دے دیا ہے۔

آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹ پراجیکٹ کی جانب سے سنہ 2021 کے کرپٹ ترین  شخص کے نام کا اعلان کیا گیا ہے۔ صحافیوں کا یہ ادارہ  گزشتہ کئی سالوں سے دنیا کے کرپٹ ترین لیڈر کا اعلان کرتا ہے۔بدعنوانی کے حوالے سے تحقیق کرنے والے  چھ   صحافیوں کے ایک پینل نے دنیا بھر سے 1167 نامزد افراد میں سے بیلاروس کے صدر  کا انتخاب کیا اور انہیں دنیا کا سب سے بڑا کرپٹ قرار دیا۔

کرپٹ لیڈرز کے اس مقابلے کیلئے دنیا بھر سے صحافیوں ، ایڈیٹرز اور عام شہریوں سے نام مانگے جاتے ہیں جس کے بعد فائنلسٹ اور پھر فاتح کا اعلان کیا جاتا ہے۔ رواں سال افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی،  شام کے صدر بشار الاسد، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور آسٹریا کے سابق چانسلر سباسٹین کرز وہ لیڈرز تھے جنہوں نے فائنل کیلئے کوالیفائی کیا تاہم بیلاروس کے صدر اس مقابلے میں فاتح بن کر سامنے آئے۔

صحافیوں کی اس تنظیم نے گزشتہ سال برازیل کے صدر جیئر بولسنارو کو دنیا کرپٹ ترین لیڈر قرار دیا تھا۔ سنہ 2019 میں مالٹا کے سابق وزیر اعظم جوزف مسکاٹ جب کہ  2018 میں  بینکنگ کمپنی دانسکے بینک کو کرپٹ ترین قرار دیا گیا تھا۔ سنہ 2017 میں فلپائن کے صدر روڈریگو دوترتے، 2016 میں وینز ویلا کے صدر نکول مدورو،  2015 میں مونٹی نیگرو کے صدر مائلو جوکانووچ، 2014 میں روس کے صدر ولادی میر پیوٹن، 2013 میں رومانیہ کی پوری پارلیمنٹ اور 2012 میں آذر بائیجان کے صدر الہام علیوف کو دنیا کا کرپٹ ترین لیڈر قرار دیا گیا تھا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -