سنہ 2021 میں پاکستانی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے واقعات

سنہ 2021 میں پاکستانی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے واقعات
سنہ 2021 میں پاکستانی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے واقعات

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سال 2021ءاپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ اس سال میں کئی اہم واقعات رونما ہوئے، جن کا سوشل میڈیا پر بہت شہرہ رہا۔ سوشل میڈیا پر مقبول رہنے والے ایسے ہی کچھ واقعات کی فہرست اس رپورٹ میں ترتیب دی گئی ہے۔

 جنوری 2021ءمیں اسلام آباد کے ایک پرتعیش کیفے کی دوخواتین مالکان کی ویڈیو منظرعام پر آئی تھی جس میں وہ اپنے کیفے کے منیجر کی انگریزی کا مذاق اڑا رہی ہوتی ہیں۔ان کی اس حرکت پر سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے شدید ردعمل آیا تھا اور ’بائیکاٹ کینولی‘ کی ایک مہم بھی چلائی گئی تھی۔

اس کے بعد جنوری میں ہی ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ کولاہور ہائی کورٹ کی طرف سے غیرقانونی قرار دیا گیا تھا۔ یہ خواتین کا کنوارا پن ٹیسٹ کرنے کا ایک متنازعہ طریقہ تھا جس پر بالآخر عدالت نے پابندی عائد کر دی تھی۔

فروری کے مہینے میں کورونا کے باعث سکولوں کی بندش، امتحانات کا انعقاداور بغیر امتحان طلبہ کو پاس کرنے جیسے معاملات کے سبب وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود سوشل میڈیا پر زیربحث آئے اوراگلے کئی ماہ تک ان کا کافی چرچا رہا۔

 فروری میں ہی پاکستان کے مایہ ناز کوہ پیما محمد علی سد پارہ کے ٹو سر کرتے ہوئے لاپتہ ہوئے اور بالآخر ان کی موت کی تصدیق ہو گئی۔کئی ماہ کی تلاش کے بعد بالآخر ان کا جسد خاکی تلاش کر لیا گیا تھا جسے ان کے صاحبزادے نے وہیں برف میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ میت کو واپس نیچے لانا لگ بھگ ناممکن تھا۔

مارچ میں معروف بینڈ ’سٹرنگز‘ ختم ہوا۔ تین دہائیوں تک یکے بعد دیگر ہٹ گیت دینے والے اس بینڈ کو ختم کرنے کا اعلان بلال مقصود اور فیصل کپاڈیا کی طرف سے کچھ یوں اچانک کیا گیا کہ مداح دنگ رہ گئے اور کئی دن تک سوشل میڈیا پر اس معاملے کا چرچا رہا۔

مارچ میں ہی یونیورسٹی آف لاہور میں ایک لڑکے لڑکی کے گلے ملنے کی ویڈیو منظرعام پر آئی،جنہیں بعد ازاں انتظامیہ کی طرف سے یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔اس ویڈیو میں ایک لڑکی ایک گھٹنے پر جھک کر لڑکے کو پرپوز کرتی ہے اور اسے پھول دیتی ہے۔ لڑکا اس کے ہاتھ سے پھول لے کر اسے گلے لگا لیتا ہے۔ دونوں نے یہ حرکت کھلے عام کی اور کئی طالب علموں نے اس کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دی تھی۔

اپریل میں وزیراعظم عمران خان کا جنسی زیادتیوں اور خواتین کے لباس کے متعلق متنازعہ بیان سامنے آیا، جسے سوشل میڈیا پر کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

مئی میں ایم پی اے سید عبدالرشید کی طرف سے ایک ڈرافٹ بل سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا جس میں ملک میں 18سال کی عمر میں لڑکے لڑکیوں کی شادی لازمی قرار دینے کی سفارش کی گئی تھی۔ بل میں کہا گیا تھا کہ اپنے بچوں کی 18سال کی عمر میں شادی نہ کرنے والے ماں باپ کو ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیا جائے اور اگر وہ اس کی کوئی مناسب دلیل نہ دے سکیں تو انہیں جرمانہ کیا جائے۔ 

رواں سال عید پر فردوس عاشق اعوان کے ایک فقرے کا بھی انٹرنیٹ پر بہت چرچا رہا۔ وہ اس وقت وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی تھیں جب انہوں نے بیان داغا کہ ”اس سال عید پر نو پپیاں، نو جپھیاں۔“اس ماہ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور اس کی ترغیب کے حوالے سے بیان دیا جس پر انہیں خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ 

جولائی کے مہینے میں اسلام آباد میں 27سالہ نورمقدم کے قتل کی سفاکانہ واردات ہوئی۔ نور مقدم ایک سابق پاکستانی سفارتکار کی صاحبزادی تھی، جسے اس کے دوست نے ذبح کر ڈالا تھا۔ نورمقدم کا قاتل اس وقت پولیس کی حراست میں ہے اور اس کے خلاف مقدمہ عدالت میں زیرسماعت ہے۔

جولائی میں ہی ماڈل و اداکارہ صدف کنول نے حقوق نسواں کی مہم کے خلاف ایک ایسا بیان داغا جس کا سوشل میڈیا پر کافی چرچا رہا۔ اپنے اس بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ”پاکستانی خواتین کوئی بیچاری نہیں ہیں۔ شوہر ہمارا کلچر ہے اور بیوی کو پتا ہونا چاہیے کہ اس کے شوہر کی کیا ضروریات ہیں۔ اسے شوہر کے کپڑے استری کرنے چاہئیں اور اس کے جوتے اٹھانے چاہئیں۔“

اگست میں مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی اپنے نکاح کی تقریب میں گانے کی ویڈیو سامنے آئی جو سوشل میڈیا پر بہت وائرل رہی۔

 14اگست کو مینارپاکستان پر ایک ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ ہراسگی کا واقعہ پیش آیا جو بعد ازاں خود اس لڑکی اور اس کے ساتھیوں کا سستی شہرت کی خاطر رچایا ہوا ڈرامہ ثابت ہوا۔

 ستمبر کے مہینے میں آئی بی اے کی طرف سے جنسی ہراسگی رپورٹ کرنے پر ایک طالب علم کو نکال دیا گیاتھا۔ محمد جبریل نامی اس طالب علم نے فیس بک پر بتا یا تھا کہ اس نے ادارے کے ایک مرد ملازم کو ایک خاتون ملازم کو ہراساں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ 

ستمبر میں ٹی وی میزبان ندا یاسر اپنے کچھ احمقانہ سوالوں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر موضوع بحث رہیں۔ ان کے شو میں ایک الیکٹرک ریسنگ کار بنانے والے دو طالب علم شریک ہوئے تھے جو نسٹ سے تعلق رکھتے تھے اور امریکہ میں فارمولا سٹوڈنٹ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ ندا یاسر شاید فارمولا ون کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھیں چنانچہ وہ طالب علموں سے کچھ ایسے سوالات پوچھتی ہیں کہ انٹرنیٹ صارفین سر پیٹ کر رہ جاتے ہیں۔

اکتوبر میں پاکستان نے ٹی 20ورلڈ کپ میں بھارت کو شکست دی، جو پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایک یادگار لمحہ تھا۔پاکستان سے میچ ہارنے کے بعد بھارتی باﺅلر محمد شامی کو بھارتی شہریوں کی طرف سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ویرات کوہلی اپنے کھلاڑی کے دفاع میں آگے آئے تو بھارتیوں نے انہیں بھی نہیں بخشا، حتیٰ کہ ویرات کی اہلیہ اور بیٹی کو بھی شرمناک دھمکیاں دینے لگے۔

نومبر پٹرول پمپس ڈیلرز ایسوسی ایشن کی طرف سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا گیا اورپاکستانیوں کو کافی خواری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سارے قضیے کا بھی سوشل میڈیا پر خوب شہرہ رہا۔

دسمبر میں مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کی پاکستان ہونے والی تقریبات کا سوشل میڈیا پر بہت چرچا رہا۔ اس دوران مریم نواز اور دیگر لوگوں کے گانے کی ویڈیوز بھی کافی وائرل ہوئیں۔

حالیہ دنوں کرسمس کے موقع پر کراچی کی ایک بیکری بھی انٹرنیٹ صارفین کے زیرعتاب آئی جس کے ایک ملازم نے کیک پر ’میری کرسمس‘ لکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -