انتخابی کامیابی کا معیار،50فیصد سے زائد ووٹ رکھا جائے

انتخابی کامیابی کا معیار،50فیصد سے زائد ووٹ رکھا جائے

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے پانچ سال کے بعد ہونے والے انتخابات کا اعلان اب مہینوں کی نہیں، بلکہ محض چند ہفتوں کی بات رہ گئی ہے۔بہتر نمائندوں کے انتخاب کے لئے ذرائع ابلاغ میں آئے روز تسلسل سے شکایات و اعتراضات اور ماضی کے تلخ حالات و تجربات کا تذکرہ پڑھنے، دیکھنے اور سننے میں آتا رہتا ہے۔اس بارے میں چند تجاویزپیش خدمت ہیں،جن پر موجودہ قابل احترام اراکین اسمبلیوں کو توجہ اور غوروفکر سے زیر بحث لا کر، ذاتی کی بجائے ملک و قوم کے اجتماعی مفادات کو ترجیح دے کر جلد نافذ و رائج کرنے کی ہرممکن جدوجہد اور کوشش کرنی چاہیے۔ انتخابی مہم کے دوران بدتمیزی، بدکلامی، حریفوں کے نام بگاڑنے اور بے بنیاد الزام تراشی سے گریز کیا جائے،نیز غنڈہ گردی سے مخالف امیدواروں کو مقابلے سے دست بردار نہ کیا جائے۔

1۔انتخابات میں بعض امیدوار چند روز قبل ہی اپنے بعض ووٹروں کے شناختی کارڈ، اپنے قبضے میں لینے کی روش اپناتے ہیں۔عام خیال یہ ہے کہ ایسے ووٹ، ان لوگوں کو کچھ پیسے دے کر خریدے جاتے ہیں، بلکہ فی ووٹ خریدنے کا ریٹ بھی ،چوری چھپے لوگوں میں تشہیر کیا جاتا ہے۔یہ منفی روایت گزشتہ کئی سال سے جاری ہے، جس کا جلد موثر انداز سے تدارک اور خاتمہ کیا جانا وقت کا تقاضا ہے۔اس غیر قانونی کارروائی کے انسداد کے لئے امیدواروں اور ووٹروں کو سخت سزا دینے کی عملی پالیسی تشکیل دی جائے۔ٹیکس چوری،یوٹیلٹی بلز کی عدم ادائیگی اور بنکوں کے قرضے معاف کرانے کی کارروائی کو امیدواروں کی نااہلی قرار دیا جائے۔سزا یافتہ امیدواروں پر بھی کڑی نظر رکھی جائے۔

2۔ خواتین کی شناخت پر عدم توجہی سے اکثر مقامات پر کچھ جعلی ووٹ بھگتائے جاتے ہیں۔ایسی غلط کارروائی پولنگ کے خاتمے کے قریب بروئے کار لائی جاتی ہے۔ جب پولنگ بوتھوں پر اچانک رش ہو جاتا ہے جو متعلقہ امیدوار حضرات قضداً تاخیر سے ووٹرز لاکر برپا کرتے ہیں،حالانکہ قبل ازیں انہی پولنگ بوتھوں پر جلد آکر خواتین اپنے ووٹ آسانی سے اپنی پسند کے امیدواروں کو ڈال سکتی ہیں۔

3۔ بعض پولنگ بوتھوں کے متعلق تمام امیدواروں کو آگاہ نہیں کیا جاتا۔یوں انتخابی نتائج کے اعلانات کے قریب ، ان پولنگ بوتھوں کو جعلی ووٹ ڈالنے کے لئے استعمال کرکے بعض شکست خوردہ امیدواروں کو کامیاب بنانے کی سعی کی جاتی ہے۔اس بارے میں انتخابی عملہ بھی غلط کاری میں ملوث اور مرتکب قرار دیا جا سکتا ہے۔ آزادانہ، منصفانہ اور پُرامن انتخابات کے انعقاد کا ماحول ملک گیر سطح پر یقینی بنایا جائے۔

4۔کراچی میں ایک پولنگ بوتھ پر ایک فوجی سپاہی کی تعیناتی سراسر ناکافی اور غیر موثر رہنے کا امکان ہے۔یہ تعداد ہرپولنگ بوتھ پر تین سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ انتخابی مہم روزانہ 12بجے رات تک ختم ہونی چاہیے، تاکہ عام لوگوں کو آرام کے لئے کچھ وقت مل سکے۔ا س دوران تہذیب و شائستگی اور دوستانہ ماحول غالب رہنا چاہیے۔

انتخابی امیدواروں کی کامیابی کے لئے ڈالے گئے کل ووٹوں کا 50فیصد سے زائد حاصل کرنا، قانونی طور پر لازمی قرار دیا جانا ضروری ہے۔اگر پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار ، اس مطلوبہ تعداد میں ووٹ لینے میں ناکام رہے تو دوسرے مرحلے کا انعقاد کیا جائے، جس میں پہلے مرحلے کے دو ٹاپ کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ کرایا جائے۔یوں 50فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کو ہی کامیاب قرار دیا جائے۔اس کارِخیر کے نفاذ و اجراءکے لئے ،موجودہ اسمبلیوں کے قابل احترام اراکین کو اپنی رضا کارانہ مرضی سے قانون سازی کا جلد اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ انتخابات کے انعقادمیں، بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے۔اگر عملی طور پر ایسا ہو جائے تو منتخب نمائندے صحیح معنوں میں عوام کی اکثریتی حمایت کے حامل ہوں گے اور وہ نسبتاً بہتر انداز اور یقین و اعتماد سے اپنی تعمیری خدمات سرانجام دے سکیں گے۔اس مقصد کے لئے الیکشن کمیشن کو ضروری فنڈز فراہم کئے جائیں۔

انتخابی امیدواروں کے لئے بی اے،بی ایس سی یا گریجوایٹ تعلیم کی قابلیت و اہلیت لازمی رکھی جائے، کیونکہ ناخواندہ نمائندے اپنے لاکھوں ووٹروں کی بطریقِ احسن نمائندگی نہیں کرسکتے۔اس بارے میں مخالفانہ آراءکا سختی سے تدارک کیا جائے۔آئندہ اسمبلیوں کی آئینی میعاد چار سال کردی جائے تو کارکردگی کچھ بہتر ہونے کے امکانات ہیں۔  ٭

مزید : کالم