سیاسی بندوبست کے نمونے

سیاسی بندوبست کے نمونے
سیاسی بندوبست کے نمونے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہر ایک شے حکمرانوں کے ہاتھوں سے نکلتی جا رہی ہے، مہنگائی کا جن ہر دکان پر آلتی پالتی مارے بیٹھا نظر آتا ہے، صبح جو شے پانچ روپے میں بک رہی ہوتی ہے، شام کو دس روپے میں ملتی ہے، بے روز گاروں کے لئے آخری روزگار خودکشی ہے۔ بجلی کا بل آئے تو لوگ بنک جانے سے پہلے کسی ڈاکٹر یا حکیم کے پاس جاتے ہیں۔ سنگ دلی کا یہ عالم ہے کہ روزانہ 10سے12گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے، مگر بل پورے مہینے کا بھیج دیا جاتا ہے۔ امن و امان کی صورت حال یہ ہے کہ جس روز دس بارہ لوگ مارے جانے کی خبر آتی ہے، تو لوگ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ چلو کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ پانچ سال بعد وزیر داخلہ رحمن ملک کو خیال آیا ہے کہ دہشت گرد پنجاب میں رہتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں، بصورت دیگر وہ سپریم کورٹ میں درخواست دائر کریں گے۔

 یہ بیان ملک کے وزیر داخلہ کا ہے، جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں امن و امان کی صورت حال کو قابو میں رکھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر انہیں معلوم ہے کہ پنجاب میں دہشت گردی موجود ہیں، تو کیا انہیں کسی کی ”اجازت“ کی ضرورت ہے، وہ ملک کے لئے جو بہتر سمجھتے ہیں، کریں، کسی نے اُن کا ہاتھ تو نہیں روکا، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت آئندہ انتخابات کے ”بندوبست“ میں مصروف ہے، وہ ایسے نعرے اور مطالبات اٹھانا چاہتی ہے، جن کے ذریعے اُس کے پانچ سالہ دورِ حکومت پر سوال نہ اٹھائے جا سکیں اور نئے نئے شوشے چھوڑ کر ان کے ذریعے دوبارہ سے عوام کو بے وقوف بنایا جائے اور وہ مسائل جو وہ حل نہیں کر سکی، ان پر اُٹھائے جانے والے سوالات پس پردہ چلے جائیں۔

رحمن ملک نے پنجاب کے حوالے سے جس طرح کے خیالات اور بیانات دینا شروع کر دیئے ہیں، بیانات اور مطالبات ” سیاسی بندوبست“ کے طور پر اُٹھائے جا رہے ہیں۔ حکمرانوں نے مختلف صوبوں کے لئے مختلف ” سیاسی بندوبست“ ترتیب دیئے ہیں۔ یہی وجہ کہ ”ایوان صدر“ میں کئے جانے والے ” سیاسی بندوبست“ کے مطابق سب سے پہلے سندھ کو چنا گیا۔ حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان علیحدگی کا فیصلہ کیا گیا، دونوں جماعتوںکے رہنماﺅں کا خیال تھا کہ محض علیحدگی کے بیان سے ہی کام بن جائے گا، مگر دونوں جماعتوں کے درمیان علیحدگی کے اعلان کو کسی نے بھی سنجیدہ نہیں لیا، کیونکہ حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان ”طلاق“ اور پھر ”حلالہ“ کی بات ہوئی، نہ تو ایم کیو ایم نے کبھی ”تین طلاقیں“ دیں اور حکومت نے کبھی منظور ہے، منظور ہے، منظور ہے کیا، یہی وجہ ہے کہ دونوں جماعتوں کو اپنا ” سیاسی بندوبست“ خطرے میں نظر آیا۔ سو پھر ایک نئی چال یہ چلی گئی کہ گزشتہ روز سندھ اسمبلی سے ایک بار پھر لوکل باڈیز آرڈیننس 1979ءکو منظور کرا لیا گیا۔

ایم کیو ایم نے دو تین ماہ پہلے اس بل کے مقابلے میں ایک بل پاس کرایا تھا، جسے لوکل باڈیز آرڈیننس 2012ءکا نام دیا گیا۔ اس بل کے پاس ہونے کے بعد دونوں جماعتوں نے بہت خوشیاں منائیں اور بل کو سندھ کے عوام کے لئے ایک ”تحفہ“ قرار دیا گیا۔ خود وزیراعلیٰ سندھ نے اس بل کے حوالے سے کہا کہ جو لوگ بل کی مخالفت کر رہے ہیں، انہوں نے بل پڑھے بغیر اس پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ یہ بل تو سندھ کے عوام کے لئے ” سونے کی چڑیا“ ہے، اس بل کے خلاف سندھ کی قوم پرست جماعتوں اور مسلم لیگ (ن) کے علاوہ مسلم لیگ(ق) نے احتجاجی جلسے کئے اور جلوس نکالے، مختلف شہروں میں دھرنے بھی دیئے گئے اور مطالبہ کیا گیا کہ بل واپس لیا جائے،کیونکہ اس بل کے ذریعے سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کے مطالبات کے باوجود سندھ حکومت نے اس بل کو واپس لینے سے انکار کر دیا۔

اب چونکہ نئے ”بندوبست“ کے تحت اس بل کو واپس لینا ضروری تھا، سو گزشتہ دنوں اس بل کو(بل لوکل باڈیز آرڈیننس 2012ئ) کو واپس لے لیا گیا۔ پی پی پی سندھ کے صوبائی وزیر ایاز سومرو بل کو پاس کراتے وقت بہت خوش تھے اور انہوں نے بل پاس ہونے کی خوشی میں ایک بار پھر وہی نعرہ لگایا.... ”اوے اوے اوے اوے“ صوبائی وزیر ایاز سومرو، اس سے قبل بل لوکل باڈیز آرڈیننس2-12پاس ہونے کی خوشی میں بھی یہ نعرہ، یعنی ”اوے اوے اوے اوے“ لگا رہے تھے۔ خدا جانے اس اوے اوے کا کیا مطلب ہے۔ بہرحال اس بل کے حوالے سے بھی اندرون سندھ خوشی تو منائی گئی، مگر حکومت کے لئے نیک تمناﺅں کا اظہار کم ہی کیا گیا، کیونکہ سندھ کے عوام کو معلوم ہے کہ پی پی پی اور ایم کیو ایم اب ”دشمنی“ کے پردے میں ایک دوسرے کی مدد کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر اس بل کے ذریعے پی پی پی نے سندھ کے دیہی علاقوں کے عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ پیپلزپارٹی سندھیوں کے حقوق کے خلاف نہیں جا سکتی۔

 عوام کو چونکہ لوکل باڈیز آرڈیننس 2012ءپسند نہیں تھا، اس لئے پیپلزپارٹی نے اس بل کو مفلوج کر دیا ہے۔ دوسری طرف ایم کیو ایم والوں کو یہ فائدہ پہنچایا ہے کہ وہ بھی اپنے لوگوںسے جا کر یہ کہہ سکیں گے کہ ہم نے تو ایک بل کے ذریعے شہری عوام کے حقوق کے لئے بل پاس کرایا تھا، مگر پی پی پی والوں نے ” عوام دشمنی“ میں پاس کیا ہوا بل مفلوج کر دیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان طے شدہ”بندوبست“ کے اگلے مرحلے میں سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم سراج درانی کے ذریعے ایک بیان دلایا گیا کہ حیدر آباد میں یونیورسٹی قائم نہیں ہو سکی اور اگر یونیورسٹی بنائی گئی تو وہ ”لوہے کی دیوار“ ثابت ہوں گے۔ سراج درانی کے اس بیان کے ذریعے بھی دونوں جماعتوں کو شہری اور دیہی علاقوں میں سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے، یعنی پی پی پی بھی اب عملاً یہ چاہتی ہے کہ وہ دیہی علاقوں کی نمائندہ جماعت کے طور پر اپنی سیاست کرے اور یہ بھی سمجھتی ہے کہ شہری علاقوں میں پی پی پی کی کامیابی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس لئے ایسا نہ ہو کہ دیہی علاقوں میں بھی دوسری سیاسی جماعتیں اپنا ووٹ بینک بڑھانے میں کامیاب ہو جائیں۔

ایوان صدر نے مختلف صوبوں میں جو ” سیاسی بندوبست“ کئے ہیں، اس بندوبست کے ذریعے اب پنجاب میں بھی رونق لگانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ رحمن ملک کے پنجاب کے حوالے سے بیانات پر غور کیا جائے، تو پنجاب کے حوالے سے کئے گئے ”بندوبست“ کی سمجھ آتی ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گرد پنجاب میں موجود ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ مطالبہ رحمن ملک کا نہیں ہے، درحقیقت ایم کیو ایم والے ایک عرصے سے....” پنجاب میں دہشت گرد ہیں، کراچی میں اسلحہ پنجاب سے آتا ہے، پنجاب حکومت دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی ہے“کہتے چلے آ رہے ہیں۔ ایم کیو ایم والے ہر اس موقع پر یہ بیان دیتے آ رہے ہیں، جب کراچی میں امن و امان کے حوالے سے سوال اٹھے۔ ایم کیو ایم والے کراچی کے حالات کو ملک بھر میں جاری ”دہشت گردی“ کے ساتھ جوڑتے چلے آ رہے ہیں، حالانکہ کراچی کے حالات اور طرح کے ہیں۔ یہ درست ہے کہ وہاں بھی دہشت گردوں نے بم دھماکے کئے ہیں، مگر بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ہونے والی دہشت گردی کا طریقہ واردات اور کراچی میں ہونے والی قتل و غارت مختلف ہے۔

 ملک کے تینوں صوبوں میں عام اور خاص لوگوں کو بم دھماکوں اور خود کش بم دھماکوں کے ذریعے مارا جاتا رہا ہے، مگر کراچی میں مارے جانے والے لوگ کلاشنکوفوں اور ریوالوروں کے ذریعے مارے جاتے ہیں۔ بلوچستان، پنجاب یا خیبرپختونخوا میں کبھی بوری بند نعشیں نہیں ملیں۔ کراچی پاکستان کا واحد شہر ہے، جہاں بوری بند نعشیں ملتی ہیں اور پھر کراچی میں زیادہ تر تاجر، صحافی، وکیل، علمائ، سماجی رہنما، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکن مارے جاتے ہیں اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل و غارت طالبان کے وجود میں آنے سے بہت پہلے سے کی جا رہی ہے، اس لئے ایم کیو ایم اور رحمن ملک کو نئے سیاسی ”بندوبست“ کے ذریعے اپنی اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سہارا ضرور دینا چاہئے، لیکن پاکستان کے مختلف صوبوں کے لوگوں کے درمیان نفرت نہیں بڑھانی چاہئے۔ رحمن ملک، ملک کے وزیر داخلہ ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ پنجاب میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ضرور کریں، مگر کراچی میں عام لوگوں کو قتل کرنے والے قاتلوں کے بارے میں بھی عملی اقدامات اٹھائیں۔ کیا وہ اپنی پارٹی کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے ساتھ پنجاب کے وزیراعلیٰ کی طرح ”سلوک“ کر سکتے ہیں، پلیز! ” سیاسی بندوبست“ اپنی جگہ، مگر حقائق بھی تو دیکھئے!       ٭

مزید : کالم