مسٹر کتجو خدا تمہاری عمر دراز کرے!

مسٹر کتجو خدا تمہاری عمر دراز کرے!
مسٹر کتجو خدا تمہاری عمر دراز کرے!

  

 بھارتی سپریم کورٹ کے جج جسٹس مرکندے کتجو، جو تین ہائی کورٹس کے چیف جسٹس رہ چکے ہیںاور آج کل بھارتی میڈیا کی آئینی ریگولیٹری باڈی کے چیئرمین ہیں، اپنے بے باکانہ اور ششدر کردینے والے بیانات کی وجہ سے مشہور ہیں۔ بھارتی حکومت کی ناکامیوں اور میڈیا کی گراوٹ کے حوالے سے ان کے ”دانشمندانہ تیز اور نوکیلے “بیانات اور تبصرے خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں نئی دہلی میںہونے والے ایک سیمینار میں انہوںنے شرکا کو یہ کہہ کر صدمے بھری حیرت سے دوچار کر دیا کہ اُن میں نوے فیصد ”احمق “ ہیں۔ اب یہ بھارتیوں پر ہے کہ وہ مسٹر جسٹس کندے کتجو کو غلط ثابت کریںیا نہ کریں ،کیونکہ یہ اُن کا ”داخلی “ معاملہ ہے ،لیکن ہم پاکستانیوں کو بھی مسٹر کتجو کو غلط ثابت کرنے کا چیلنج درپیش ہے، کیونکہ وہ ہماری قوم سازی اور ملک کے مستقبل کے حوالے سے منفی سو چ رکھتے ہیں۔

اپنے مخصوص غیر شائستہ انداز میں بات کرتے ہوئے کندے کتجو نے حال ہی میں پاکستان کو ایک ”جعلی “ ملک قرار دیا ہے، جس کی تخلیق (اُن کے مطابق) کے لئے انگریزوں نے ”نام نہاد دوقومی نظریہ“ تراشا اور اپنے مقاصد کے لئے بر ِصغیر کی تقسیم کی راہ ہموار کی۔ مسٹر کتجو نے تمام زمینی حقائق سے آنکھیں بند کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی اور کہا”اگلے پندرہ یا بیس برسوںمیں پاکستان اور انڈیا دوبارہ ایک ملک بن جائیںگے اور برِصغیر ایک طاقتور، سیکولر اور جدید ریاست بن کر ابھرے گا“....اگر یہ ہذیان گوئی کسی انتہاپسند اور جنونی ہندو کی طرف سے ہوتی تو اسے نظر انداز کیا جا سکتا تھا، کیونکہ وہ چھ عشروںسے یہی باتیںکررہے ہیں ،لیکن اگر کندے کتجو ، جن کو کسی بھی حوالے سے انتہا پسند نہیں کہا جا سکتا، جیسے تعلیم یافتہ شخص کی طرف سے دوٹوک زبان میں ہمارے مستقبل کے بارے میں ایسا ناخوشگوار نتیجہ نکالا جائے تو ہمیں نہ صرف یہ سوچنا پڑے گا کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں، بلکہ ہمیں اپنے اندر جھانک کر بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا ان گزرے ہوئے65 برسوں میں ہمارے پاس قومیت کی کوئی رمق موجود ہے کہ ہم اُن کو سینہ تان کر جھٹلا سکیں۔

جسٹس کتجو ، جن کی عمر آزادی ہند کے وقت چند ماہ ہوگی، کو تقسیمِ ہند کا باعث بننے والے حالات و واقعات کی معروضی انداز میں تفہیم کی ضرورت ہے تاکہ وہ حقائق سے آشنا ہوسکیں۔ ہم میںسے وہ لوگ جو بر ِ صغیر کی تاریخ سے واقف ہیں ، جانتے ہیں کہ صدیوں تک اکٹھے رہنے کے باوجود ہندو وں اور مسلمانوں کے درمیان حد ِ فاصل کیوں قائم رہی اور اُن کے نظریات و افکار کے دھارے ایک سمندر میں کیوں نہ گر سکے؟ ان دونوں قوموں کے درمیان پائے جانے والے امتیاز کی جڑیں ان کی ثقافتوں کے درمیان ایک ہزار سال پہلے شروع ہونے والے ٹکراﺅ میں پیوست ہیں۔ اس ٹکراﺅ نے ان دونوں ثقافتوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ ایک جغرافیائی خطے میں رہتے ہوئے دونوں قومیں زندگی کے کئی امور میں مشترک دکھائی دیتی ہیں۔ وہ میدان ِ جنگ اور تہواروں میں ساتھ ساتھ ہوتے اور ان کے ایک دوسرے کے ساتھ گھریلو تعلقات بھی تھے۔ اُن کی کمرشل زندگی میں بھی مماثلت پائی جاتی تھی ۔ اس کے باوجود وہ دریا کے دوکناروںکی طرح ایک دوسرے سے کبھی نہ مل سکے۔ و ہ دو آنکھوںکی طرح تھے جو ایک ہی منظر کو دیکھتیں، لیکن آپس میں نہیں مل سکتی تھیں۔

تاریخ پر نظر رکھنے والا کوئی شخص اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتا ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہزار سال آپس میں مدغم ہونے کے لئے کافی وقت ہوتا ہے، یہ دونوں قومیں شیر و شکر ہو چکی ہوتیں اورتقسیم کی نوبت نہ آتی۔ بر ِ صغیر کی تاریخ کا معروضی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ ان دونوں قوموں کے درمیان ٹکراﺅ صرف سیاسی بالا دستی تک ہی محدود نہیں تھا، بلکہ اس کے پیمانے روز مرہ کی سماجی زندگی تک بھی پھیلے ہوئے تھے۔ گیارہویں صدی کے عظیم فلسفی ابوریحان البیرونی نے ہندوستان کی سیاحت کے دوران اس حقیقت کو بھانپ لیا تھا کہ ہندو ہر معاملے میں مسلمانوں سے مختلف ہیں۔ اُس وقت سے لے کر آج تک، ان ہزار برسوں میں ہندو ﺅں اور مسلمانوں کا ایک دوسرے سے برتاﺅ الیبرونی کو جھٹلانے میں ناکام رہا ہے اور ان دونوں قوموں نے ایک ہی جغرافیائی خطے میں رہنے کے باوجود مختلف ثقافتوں کی ترویج کی ہے۔

ہندوﺅں اور مسلمانوںکے درمیان مذہبی اور ثقافتی تفاوت کے باوجود مسٹر جسٹس(ر) کندے کتجو کی ایک بات درست ہے کہ 1857ءسے پہلے انڈیا میں فرقہ ورانہ تعصب موجود نہیں تھا، بلکہ یہ انگریز تھے ،جنہوںنے اس زہر کو ان قوموں کی رگوںمیں اتارکر اپنی ” تقسیم کرو اور حکمرانی کرو “ کی پالیسی کو کامیاب بنایا۔ کندے کتجو نے اپنے سامعین کو بتایا ”1857ءکی بغاوتِ ہندکے بعد لندن نے بھانپ لیا تھا کہ اس ملک کو کنٹرول کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہندو کو مسلمان سے لڑا دو، چنانچہ اسی پالیسی پر عمل کیا گیا“....دوران ِ خطاب ریٹائرڈ جج نے شرکا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ ” بے وقوف نہ بنو اور اس سارے کھیل کو سمجھو“....اُن کے نزدیک کم از کم 80 فیصد انڈین(ہندو اور مسلمان ) متعصب ہیں۔ اگر جسٹس کتجو کی بات درست مان لی جائے کہ بھارتی معاشرے میں 80 فیصد لوگ مذہبی بنیادوںپر نفرت کا شکار ہیں تو پھروہ پندرہ بیس سال بعد برصغیر کے متحد ہونے کی بات کس بنیاد پر کرتے ہیں؟

درست ہے کہ ایک اور بغاوت ِ ہند کے خطرے سے بچنے کے لئے انگریزوںنے مسلمانوں اور ہندووں کو سیاسی طور پر ایک دوسرے سے متحارب رکھنے کی پالیسی پر عمل کیا ۔ مقصد کی بجا آوور ی کے لئے ایک ریٹائرڈ سول سرونٹ ایلن اُکٹیوین ہیوم (Allan Octavian Hume) نے ان قوموں کے درمیان تعصبات، جو آخر کار تقسیم کا باعث بنے، کے بیج بونا شروع کر دیئے۔ وائسرائے لارڈ ڈیفرین سے متعدد ملاقاتیں کرنے کے بعد ہیوم نے دسمبر 1885ء میں انڈین نیشنل کانگرس کی بنیاد رکھی تاکہ تعلیم یافتہ بھارتیوں، جونو آبادیاتی حکمرانوں کی طرف سے روا رکھی جانے والی ناانصافی کے خلاف شکایات کرنا شروع ہو گئے تھے ، کے سیاسی جذبات کے اظہارکے لئے ایک راہ نکالی جا سکے، مبادا سیاسی گھٹن ایک مرتبہ پھر بغاوت کے جذبات کو ابھاردے۔ کانگرس بنیادی طور پر ایک ہندو تنظیم کے طور پر ابھری ،کیونکہ اس کے پہلے اجلاس میں شریک 72 افرادمیں صرف دو مسلمان نمائندے تھے۔

ہندو مسلم کشیدگی کو انیسویں اور بیسویں صدی میں چلنے والی ہندو انتہا پسند تنظیموں ، جو ہندوستان کا ”شاندار ماضی “ واپس لانا چاہتی تھیں، کے رویے نے مزید گہرا کر دیا۔ وہ اپنی ثقافت پر مسلمانوںکے نقوش واضح ہوتے دیکھ کر سیخ پا تھے، چنانچہ اب وہ اپنی ”ماتا دھرتی “ پر ہندو راج قائم کرنے کے لئے بے چین تھے۔ مسلمانوں کو انگریز 1857ءکی بغاوت کے ذمہ دار سمجھتے تھے، اس لئے اُن کو جبر کا سامنا تھا۔ ان حالات میں مسلمان یہ سمجھنے میں حق بجانب تھے کہ اگر انہوںنے خود کو سیاسی طور پر متحد نہ کیا تو اُن کی مشکلات بڑھتی جائیںگی۔ بیسویں صد ی کے آغاز تک بر ِ صغیر کے حالات اس نہج پر ڈھل چکے تھے کہ مسلمانوں اور ہندوﺅں کا ایک ملک میں رہنا ناممکن ہو چکا تھا۔محمد علی جناح ؒ ، جنہوںنے 1906ءمیں اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا ، تین عشروں تک ہندو مسلم دوستی پر یقین رکھتے ہوئے ہندو مسلم دوستی کے سفیر کہلائے۔ 1916 ءمیں کانگرس کی طرف سے ”لکھنوءمعاہدے“ کو پیش کرتے ہوئے مسٹر جناح نے ہندو مسلم اتحاد کی عملی کوشش بھی کی،تاہم چند ہی برسوں کے اندر ہندوﺅں اور مسلمانوںکے درمیان بڑھتے ہوئے فسادات اور کشیدگی نے اُن کی کاوشوں پر پانی پھیر دیا۔ 1930ءکی دھائی میں مسلمانوں کے دل میںیہ احساس شدت سے جاگزیں ہوچکا تھا، اُن کو اس ملک کی جغرافیائی حدود کے اندر رہتے ہوئے ”قومی شناخت “ کی ضرور ت ہے۔ جس چیز نے مسلم قوم پرستی کے جذبات کو مہمیز کیا۔ وہ کانگر س راج کی طرف سے 1937-39ءمیں مسلم اقلیتی صوبوں میں مسلمانوںکے ساتھ روا رکھا جانے والے سلوک تھا۔ اس رویے نے مسلمانوںکو ہندو طرز ِ عمل کے بارے میں کسی ابہام میں نہیں رہنے دیا۔ انہوںنے واضح طور پر دیکھا کہ وہ ان صوبوں میں دوسرے درجے کے شہری بن کر رہ گئے ہیں۔ اس سے اُن پریہ حقیقت آشکار ہوچکی تھی کہ اب وہ ”اکھنڈ بھارت “ میں نہیں رہ سکتے، کیونکہ اُن کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکراﺅ رکھتے تھے۔

بائیس مارچ 1940ءکو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے دوران قائد ِ آعظم کا لہجہ البیرونی کے مشاہدے کا مظہر تھا۔ انہوںنے فرمایا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ مذاہب اور عقائد رکھتے ہیں۔ ان کے تاریخی پس ِ منظر ، نظریات اور تہذیب کے تصورات مختلف ہیں۔ البیرونی کی تحریر اور قائد ِاعظمؒ کی تقریر میں واحد فرق یہ تھا کہ البیرونی مستقبل کی پیشین گوئیاں کر رہے تھے، جبکہ قائد ِاعظمؒ کے پاس اپنے دلائل کی سچائی کے لئے بہت سے تاریخی ثبوت موجود تھے۔ قائد کے نزدیک ہندوﺅں اور مسلمانوںکے درمیان اختلافات کا سلجھنا نا ممکن ہے۔ مسٹر جناح دو قومی نظریے کو اس سے زیادہ واضح الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے تھے”انڈیا کا مسئلہ صرف ہندوﺅں اور مسلمانوںکے درمیان کوئی علاقائی تنازع نہیںہے ،بلکہ یہ ایک عالمگیر نوعیت کا ہے، چنانچہ اسے عالمی پیرائے میں دیکھا جانا چاہیے “....سٹینلے ولپرٹ کے نزدیک یہ وہ لمحہ تھا، جب مسٹر جناح، جو کبھی ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلاتے تھے،مکمل طور پر ایک تبدیلی کے عمل سے گزرے اور پاکستان کے رہنما کہلائے۔

قیام ِ پاکستان کے بعد قائد ِ اعظم محمد علی جناح کی زندگی نے وفا نہ کی اور اس نوزائیدہ ریاست، جس کو وہ دنیا کا عظیم ترین ملک بنانا چاہتے تھے، کی رہنمائی کے لئے زندہ نہ رہے۔ اس میںکوئی شک نہیں ہے کہ ہم آزادی کے بعد سے بہت سے نشیب و فراز سے گزرے ہیں۔ ان میں بہت سے نامساعد حالات اور نازک موڑ بھی آئے ہیں، لیکن اس کی وجہ حکمرانوں، نہ کہ مسلم قومیت، کی نااہلی تھی۔ اب ہمیں مسٹر جسٹس کتجو سے ہمدردی ہے کہ وہ ”متحد بھارت “ کے التباسات میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ دعاہے کہ خدا اُ ن کی عمر دراز کرے تاکہ وہ پاکستان کو مضبوط اور مستحکم ہوتا دیکھیں۔ اس دوران اُن کو بھارت میں تعصبات اور تنگ نظری کے خلاف جنگ جاری رکھنی چاہیے، جبکہ ہمیں بھی پاکستان میں ان مسائل سے نبردآزما ہونے کے لئے کمر بستہ ہونے کی ضرورت ہے۔ انڈیا اور پاکستان، دونوں، کے لئے بہترین صورت ِ حال یہ ہے کہ دو آزاد اور خود مختار ریاستوںکے طور پر مل کر عالمی امن اور علاقائی استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور محاذآرائی کی پالیسی ترک دیں۔ متحد بھارت اب امکانات میں سے نہیںہے۔      ٭

مزید : کالم