خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے........

خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے........
خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے........

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کیا جس موضوع پر مَیں نے اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کو ان کی قومی زبان میں آگہی فراہم کرنے کے کام کو ایک ”مشن“ جان کر اپنایا تھا ، مَیں اس مشن میں کامیابی کا دعویٰ کر سکتا ہوں؟ کیا دفاعی موضوع کوئی ایسی نامطلوب جنس ہے جس کا خریدار 18کروڑ عوام میں کوئی بھی نہیں؟.... اگر اس تعداد میں 10فیصد لکھے پڑھوں کو بھی بنیاد بنا کر حساب لگاﺅں تو دو کروڑ پاکستانی تو ایسے نکل آتے ہیں، جو اُردو زبان لکھ پڑھ سکتے ہیں۔ اگر اس تعداد کا نصف ہی پاپولر پریس میڈیا کا قاری ہو تو یہ اخبار جس میں، مَیں خامہ فرسائی کرتا ہوں اور گزشتہ 14برس سے کر رہا ہوں، اس کے قارئین لاکھوں میں ہوں گے۔ تو کیا مَیں فرض کر سکتا ہوں کہ ان لاکھوں قارئین کی نگاہ سے گزشتہ 14برسوں، یعنی 5000دنوں میں کسی ایک دن تو یہ روزنامہ ”پاکستان“ گزرا ہو گا اور انہوں نے ”شمشیرو سناں اول“ کو سرسری نگاہ ہی سے سہی، ضرور پڑھا ہو گا؟.... اور اگر پڑھا ہے تو میرے مشن کی کامیابی کا گراف کیا ہے؟.... یہ بات اور یہ سوال میرے ذہن میں اِس لئے آ رہا ہے کہ سارے کا سارا میڈیا (کیا پریس اور کیا الیکٹرانک) غیر دفاعی مضامین و موضوعات پڑھنے، سننے، دیکھنے اور دکھانے کا عادی ہو چکا ہے اور حدیث ِ دفاع سے غافل ہے۔

پاکستان کی بد نصیبی یہ بھی ہے کہ اس کو یکے بعد دیگرے وقفوں وقفوں سے، مارشل لاءکا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کا ایک عام شہری جو1971ءکی شکست سے پہلے دفاعی افواج کا والہ و شیدا تھا، وہ1971ءکے بعد مارشل لائی کلچر سے بیزار بلکہ متنفر ہو گیا۔ اب تو حال یہ ہے کہ اگر کسی شب اچانک سارے پاکستان میں بجلی کا بریک ڈاﺅن ہو جائے تو لوگ رات کے دو بجے فون کر کے پوچھتے ہیں کہ جیلانی صاحب! کیا خبریں ہیں؟.... اور مَیں جب ہڑبڑا کر اٹھتا ہوں اور فون کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ رات کے اِس پہر میں اس کا یہ سوال چہ معنی دارد؟ تو وہ کہتا ہے کہ میری اطلاعات کے مطابق فوج نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور ارادتاً سارے ملک میں بلیک آﺅٹ کر دیا ہے!.... مَیں یو پی ایس کا بٹن آن کرتا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ بھائی صاحب! کس نے مارشل لاءلگایا ہے؟ کیا فوج سے آپ کا مطلب آرمی چیف ہے یا خدانخواستہ فوج میں بغاوت ہو گئی ہے؟.... اُدھر سے جواب آتا ہے:” تفصیلات بعد میں.... اللہ حافظ!“

قارئین گرامی! اگر ملک کے باہوش اور لکھے پڑھے طبقے کا پرسپیشن یہ ہو کہ جو فوج پہلے صرف مارشل لاءلگاتی تھی وہ اب ملک میں”بلیک آﺅٹ“ بھی ”لگا“ دیتی ہے تو مَیں نے جس ”مشن“ کو عام کرنے کا بیڑا اُٹھایا تھا اور چاہا تھا کہ لوگ”مارشل لائ“ اور ”مارشل موضوعات“ میں کچھ تو امتیاز کر سکیں، تو وہ ناکام ہو گیا.... بعض لوگوں کو اس قسم کی خوش فہمیاں یا غلط فہمیاں ہو جاتی ہیں۔ شائد میرا نام اُن لوگوں میں سر ِ فہرست ہو!

مَیں نے تو سوچا تھا کہ میں نے غزوہ¿ بدر سے لے کر عصر ِ حاضر تک اسلام کے جلالی پہلوﺅں سے پاکستانی قارئین کو (کچھ نہ کچھ ہی سہی) آگہی فراہم کر دی ہے۔ مَیں نے یہ بھی چاہا تھا کہ ان کو بتاﺅں کہ، افواج ِ پاکستان سے وابستہ لوگوں کو چھوڑ کر، آج ایک عام پاکستانی شہری کو یہ شعور ہی نہیں کہ اسلام کی شوکت و جلالت اور عظمت و رفعت کا اصل سبب کیا تھا؟.... ساری دُنیا کو چھوڑیں، صرف برصغیر ہی کو نگاہ میں رکھیں تو آج باوجود اس کے کہ پاکستان ایک نیو کلیئر سٹیٹ بن چکا ہے، اس کا عام شہری نہ نیو کلیئر موضوع سے کچھ آگاہ ہے اور نہ نان نیو کلیئر موضوعات ِ دفاع اس کی عقل میں سماتے ہیں۔

ہم ایک اچھا مسلمان اور اچھا پاکستانی اس کو سمجھتے ہیں جو پاک باز ہو، نیک طینت ہو، خوش اخلاق ہو، بزرگوں کا ادب کرتا ہوں، پابند ِ صومِ و صلوٰة ہو، راست گوئی اور راست کاری کا جویا ہو، دن رات خدا سے ڈرتا رہے، موت کے دن کو فراموش نہ کرے.... قرآن حکیم پڑھ سکتا ہو، حافظ ہو یا قاری ہو یا نماز کی امامت کر سکتا ہو، وعظ و تلقین اس کا شعار ہو، کسی کو دُکھ نہ پہنچائے، متشرع ہو، باریش ہو اور از سر تا پا مجسمہ ¿ اخلاق و آداب ہو!

”اگر اچھے پاکستانی“ ہونے کا عوامی پرسپشن یہ ہو جو مَیں نے اوپر بیان کرنے کی جسارت کی ہے( اور بہت سے قارئین کی لعن طعن کا رسک لے کر کی ہے ) تو آپ ہی بتایئے کہ وہ افواج ِ پاکستان کے چھ ساڑھے چھ لاکھ وابستگان ِ دامن کو کس نگاہ سے دیکھے گا؟.... وہ تو یہی سمجھے گا کہ فوج ان معیاروں پر ہر گز پورا نہیں اترتی۔ وہ تو صرف مارشل لاءلگاتی ہے اور اس کا کام بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ جب بھی دشمن کا مقابلہ کرتی ہے تو کبھی کشمیر ہار جاتی ہے، کبھی ملک کو دو نیم کروا بیٹھتی ہے، کبھی سیاچن ہاتھ سے دے ڈالتی ہے اور کبھی کارگل برپا کر کے سینکڑوں ”فرزندان ِ توحید“ کو مروادیتی ہے.... چنانچہ ایک ”اچھا پاکستانی“ایسے فوجیوں اور اُن کے ”کاروبارِ جنگ و جدال“ سے آشنائی پیدا کر کے کیا لے گا؟.... اس پروفیشن کے بارے میں واقفیت اور آگہی پانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟.... دفاعی موضوعات کو کیوں پڑھا جائے؟.... ملٹری ہسٹری کو جاننے سے کیا فائدہ ہو گا؟ .... اور اس دلدل میں کود کر کپڑے اور جسم خراب کرنے کا فائدہ؟

قارئین گرامی! یہی وہ غلط فہمی تھی جو مَیں دور کرنا چاہتا تھا، یہی غلط پرسپشن تھا، فوجی بھائیوں کے بارے میں، کہ مَیں آج بھی جس کا بطلان کرنا چاہتا ہوں اور بتانا چاہتا تھا کہ دفاعی موضوعات کی آگہی سے آنکھیں بند کر لینے کا مطلب نبی کریمﷺ کے اسوہ‘ مبارک سے انحراف کرنے کے مترادف ہے۔.... غزوہ¿ بدر سے لے کر فتحِ مکہ تک اور پھر اس کے بعد بھی غزوہ¿ تبوک کا ابطال(Nagation) کرنے کے مترادف ہے اور صریح قرآنی آیات کو جھٹلانے کے مترادف ہے!.... مَیںچاہتا تھا کہ غیر فوجی قارئین اور ایسے دوستوں کی خدمت میں حدیث ِ دفاع کا وہ مفہوم عرض کروں جو اسلام کی اصل بنیاد بنا۔ مَیں ان قارئین کی خدمت میں گزارش کرنا چاہتا تھا کہ اسلام صرف سلامتی اور امن کا دین نہیں، بلکہ جنگ و جدال اور کشت و قتال کا دین بھی ہے، مرنے مارنے اور لہولہان کرنے کا دین بھی ہے.... .... مگر کن لوگوں کو مارنے کا؟ کن سے جنگ کرنے کا؟ کن کو للکارنے کا اور کن کو لتاڑنے کا؟.... یہ دین اپنے ہی بہن بھائیوں اور اپنے ہم مذہبوں کو نہیں، بلکہ ان دشمنوں کو مارنے کا دین ہے، جو ہم پر بلاوجہ مسلط ہو جانے کا ارادہ باندھیں۔

کون کافر ہو گا جو کسی مسلمان کو نماز پڑھنے، قرآن حفظ کرنے یا داڑھی رکھنے پر اعتراض کرنے کی جرا¿ت کرے گا؟.... لیکن مَیں چاہتا تھا کہ ان تمام اسلامی شعائر سے متصف ہونے کے باوصف بھی اگر کسی قوم کو لگاتار مارشل لاﺅں کا سامنا ہو تو معلوم کرنا چاہئے کہ اس کی کیا وجہ ہے؟.... اگر افواج ِ پاکستان دشمن کے ہاتھوں بار بار ناکامی کا شکار ہوئی ہیں تو اس کا سبب کیا ہے؟.... اگر اس کا سبب صرف مارشل لاءہی رہا ہے تو جو مسلم ریاستیں گزشتہ تین چار سو برسوں سے مارشل لاءکے نہ ہونے کے باوجود بھی دشمن سے شکست کھاتی رہی ہیں، تو اس کی وجہ یا وجوہات کیا تھیں؟.... اگر اپنے برصغیر ہی کو لے لیں تو کیا سترھویں صدی عیسوی سے بیسویں صدی کے وسط تک350برسوں میں ہندوستان میں کبھی مارشل لاءلگا تھا؟ کیا ایک کے بعد ایک جارح ہمارے اوپر چڑھ نہیں آتا رہا اور آخر میں تو سات سمندر پار سے نصرانیوں نے ہندوستان کے مسلم حکمرانوں اور فرزندان ِ توحید کو ایک ایک کر کے ٹھکانے نہیں لگایا۔ .... نواب سراج الدولہ، سلطان ٹیپو، نظام حیدر آباد دکن اور بہار شاہ ظفر کی شکستیں کیا1947ءکے بعد کی کشمیر، مشرقی پاکستان اور سیاچن کی شکستوں سے کہیں زیادہ باعث شرم نہ تھیں؟ اگر تھیں تو پھر ہمیں سوچنا چاہئے کہ ان شکستوں کی پشت پر کون سا مارشل لاءتھا؟....

تو قارئین محترم! یہی وہ سوال تھا جو ایک عرصے تک مجھے پریشان کرتا رہا اور مَیں اس نتیجے پر پہنچا کہ مسلمانوں کی بدحالی اور شکستوں کا سب صرف مارشل لاءہی نہیں، کچھ اور بھی ہے۔ اور ہمارے مقابلے میں جن اقوام نے ہمیں بدحالی اور شکستوں سے دوچار کیا تو اس کا سبب عدم نفاذِ مارشل لاءبھی شائد ہو گا لیکن اس کے علاوہ بھی ”کچھ اور“ تھا۔

یہی ”کچھ اور“ تھا جو میرے تجزیئے کے مطابق مسلم امہ اور پاکستانیوں کی زبوں روزی کا ذمہ دار تھا (اور آج بھی ہے)۔ مَیں نے چاہا تھا کہ وطن عزیز کے ایک عام لکھے پڑھے شہری کو اس کی اپنی زبان میں اُس دفاعی ارتقاءکا سراغ دوں، جو ہمارے دشمنوں کی کامیابیوں کا اصل راز تھیں اور جس سے ہمیں غیر ملکی آقاﺅں نے ڈیڑھ دو صدیوں تک نا آشنا رکھا تھا۔

غزوہ¿ بدر میں مسلمانوں کے پاس تیر، تلوا، ڈھالیں، نیزے، خنجر، گھوڑے اور اونٹ تھے۔ لیکن یہ بھی نگاہ میں رکھیں کہ کفارِ مکہ کے پاس بھی یہی کچھ تھا.... لیکن جب1857ءمیں مغل سلطنت کا خاتمہ ہوا تو مسلم افواج میں تب بھی یہی ہتھیار اور سواری (ٹرانسپورٹیشن) کے یہی ذرائع(اونٹ، ہاتھی اور گھوڑے) تھے جبکہ دشمن کے پاس جدید رائفل ، مشین گن ، توپخانہ اور رسل و رسائل کے جدید مشینی ذرائع تھے۔.... یہی وہ فرق تھا اور یہی وہ اسباب تھے جو افرنگی اقوام کی کامیابی کا سبب بنے۔ اور پھر اس وقت سے لے کر آج تک ان اقوام نے دفاعی پیداوار اور دفاعی اطوارِ جنگ و جدال میں حیرت انگیز ترقی کی، جبکہ ہم مسلمانوں نے صرف شمشیرو سناں اور اونٹ گھوڑے پر ہی تکیہ کئے رکھا.... مَیں چاہتا تھا کہ قارئین کو اس درد ناک عبوری دور سے آگاہ کروں جس میں غیر مسلم اقوام نے عروج حاصل کیا اور ہم پاتال میں گرتے چلے گئے۔....

یہ کام آسان نہیں تھا (اور اب بھی نہیں ہے) لیکن ہر لکھے پڑھے پاکستانی کو جاننا چاہئے کہ دفاع کے اس عبوری اور ارتقائی دور میں ہم نے جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے جلالی پہلوﺅں سے بچھڑ جانے کو نظر انداز کر کے اور اسلام کے صرف جمالی پہلوﺅں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تو ”اچھے مسلمانوں“ اور” اچھے پاکستانیوں“ سے بھی اِن جلالی پہلوﺅں نے پردہ کر لیا۔

اسی پردے کو گرانا میرا مشن تھا!.... مجھے کچھ خبر نہیں کہ مَیں نے گزشتہ14برسوں میں اس مشن کے ساتھ وابستگی کا جو ”ارتکاب“ کئے رکھا، اس کی ”سزا“ کا گراف کیا رہا.... اقبال کے الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتا ہوں:

نوائے صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میرا

خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے، وہ خطا کیا ہے؟

مزید : کالم