جناتی موسیقی

جناتی موسیقی

بہت دن گزرے طفیل نیازی مرحوم کا ایک انٹرویو نظر سے گزرا،جس میں انہوں نے اپنی فنی زندگی کے مختلف پہلوﺅں سے پردہ اٹھایا....ایک بڑا دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انجان شخص ان سے اپنے ہاں محفل موسیقی منعقد کروانے کے لئے درخواست گزار ہوا،جس کو پذیرائی بخشی گئی۔طفیل نیازی بتاتے ہیں کہ بڑی باذوق محفل تھی،جس نے تمام شب پوری دلچسپی اور دلجمعی کے ساتھ انہیں سنا۔آخر شب نیازی صاحب اور ان کے تمام سازندوں کو اچانک نیند نے آ لیا۔صبح دم آنکھ کھلی تو سب نے اپنے آپ کو فرش خاک پر پڑے پایا۔سوائے نیازی صاحب اور ان کے طائفے کے وہاں نہ کوئی آدم تھا نہ آدم زاد۔ رات کی ساری رونقیں اور چہل پہل، ایک پُراسرار قسم کی ویرانی میں بدل گئی تھی۔دور دور تک کوئی عمارت نہیں تھی اور وہ سب ایک درخت کے نیچے پڑے تھے۔نیازی صاحب اور ان کے ہمراہیوں نے یہ گمان کیا کہ رات کے شائقین موسیقی، آتشی مخلوق یعنی گروہ جنات میں سے تھے، جنہیں موسیقی کے شوق نے اتنا مجبور کیا کہ انہیں نیازی صاحب کی منت کرنا پڑی۔

اب صاحب! اہل عقل و فہم، اس بات پر آمادہ بحث و تکرار ہوسکتے ہیں کہ جنوں کا کوئی وجود ہے بھی یا نہیں اور اگر اس مخلوق کا کوئی وجود ہے تو کیا یہ صاحبان غیب موسیقی کا شوق بھی رکھتے ہیں؟اس بات کی موافقت اور مخالفت میں دلائل کے انبار لگ سکتے ہیں اور تنازع کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، مگر بھائیو! ہم اس تنازع کو شروع ہونے سے پہلے ، اس کا گلا گھونٹ دیتے ہیں.... صاحب! کوئی کچھ ،کہے ،ہمیں پورا یقین ہے کہ وہ شائقین موسیقی جنات کے گروہ میں سے ہی تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس شوق نے اتنا مجبور اور لاچار کردیا کہ انہیں اس شوق کی تکمیل کے لئے جنات اور آسیب کی جون سے نکل کر پیکر خاکی اختیار کرنا پڑا۔ اس سلسلے میں ان کی مساعی اور تگ و دو کو دیکھتے ہوئے فطرت نے انہیں پذیرائی بخشی اور آج وہ کچھ گروپوں کی صورت میں پاپ سنگنگ (Pop Singing)کرتے پھرتے ہیں۔

صفحہ ہستی پر سے گزرنے والی مختلف تہذیبوں کی دیو مالائی داستانوں میں روحوں اور ان کے ساتھ ساتھ بدروحوں کا ذکر پایاجاتا ہے۔موسیقی کے بارے میں یہ قبول عام تصور ہے کہ یہ روح کی غذا ہے اور یہ بات بعید از قیاس ہے کہ فطرت روحوں کی غذا کا اہتمام تو کرتی اور بدروحیں بے چاری بھوک سے بلک بلک کر دم توڑ دیتیں،چنانچہ بد روحوں کے طعام کی ذمہ داری، بدروحوں نے خود اپنے ذمے لے لی اور اس طرح پاپ سنگنگ کے کچھ گروپ منظرِ عام پر آئے۔اب چونکہ جمہوریت کا زمانہ ہے، لہٰذا یہ طبقہ بھی اپنی پرفارمنس کے ہمراہ میڈیا پر نظر آتا ہے۔بھوت پریت اور آسیب وغیرہ ہمیشہ کھنڈرات، اجاڑ اور ویران جگہوں کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔انہوں نے بھی اس روایت کا بطور خاص خیال رکھا ہے، چنانچہ یہ Musical Bandsہمیں ویران اور بیابان جگہوں ،کھنڈرات یا سنسان قسم کی چٹانوں پر محو رقص و گائیکی نظر آئیں گے۔اس سلسلے میں کچھ مغربی چینلوں پر نظر آنے والے بینڈز کی پیروی میں ہمارے ہاں بھی مختلف بھوت اور چڑیلیں، بے آباد مکانوں کی منڈیروں سے لٹک کر ،مختلف سازوں کی بے ہنگم، بے آہنگی میں جنتر منتر منمناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

 پھران صاحبان نے کلاسیکی موسیقی (اصل والی)کے اساتذہ کو گاتے ہوئے دیکھا کہ گانے کے سرتال اور اتار چڑھاﺅ نے ان کے چہروں پر بہت سی شکنیں اور سلوٹیں ڈال دیں۔اس سے ان مردان دانائی نے یہ قیاس کیا کہ شاید موسیقی اور چہرے پر اظہار اذیت لازم و ملزوم ہیں،چنانچہ انہوں نے بھی گاتے ہوئے اظہارِ اذیت کو صرف چہرے تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے سارے جسم کے حدود اربعہ تک پھیلا دیا۔یہی وجہ ہے کہ کسی نے ہمارے پڑوسی شیخ صاحب سے پوچھا:”سنایئے شیخ صاحب! رات دس بجے ٹی وی پر موسیقی کا پروگرام کیسا لگا“؟ تو شیخ صاحب سٹپٹاکر بولے:”ہائیں! وہ موسیقی کا پروگرام تھا؟” مَیں تو سمجھاکہ مرگی اور تشنج کے مریضوں کی کوئی دستاویزی فلم آ رہی ہے۔مَیں تمام رات اسی دکھ سے سو نہیں سکا کہ کیسے کھاتے پیتے گھرانوں کے چشم و چراغ تھے کہ درد سے لوٹ پوٹ ہورہے تھے“۔

”مگر آپ کو کیسے پتہ چلا کہ وہ امیر گھرانوں کے چشم و چراغ تھے“؟”بھئی ان لوگوں کے وسائل سے۔انہوں نے اپنے بچوں کی چیخوں اور ڈکراہٹ کو دبانے کے لئے مختلف سازوں کو بجایا ہوا تھا، مگر پھر بھی کوئی نہ کوئی چیخ اور کراہ کانوں میں پڑ ہی جاتی تھی“۔

ہم نے شیخ صاحب کی بات پر صاد کیا۔واقعی ان گلوکاروں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ ان کے پیٹ میں مروڑ ہے،جس کی وجہ سے انہیں قرار نہیں یا پھر خدانخواستہ دردزہ میں مبتلا ہیں....لیکن ”قبلہ صاحب“ ہماری یہ بات سن کر بے انداز ناراض ہوئے اور ہمیں سرزنش کرتے ہوئے کہنے لگے کہ آپ بھی سمجھداری کی باتیں کرتے کرتے پٹڑی سے اتر جاتے ہیں۔ہم نے ڈرتے ڈرتے استفسار کیا کہ قبلہ! ہماری کون سی نالائقی حضور کے لئے باعثِ تکدر ہوئی تو یوں گویا ہوئے:”بندئہ خدا! ذرا ہمیں کسی غیر مخلوق کی زبان میں گانا تو ایک طرف، صرف ایک لفظ بول کے دکھاﺅ۔میاں ! یہ مخلوق جو تمہیں اچھلتی کودتی اور ڈکراتی ہوئی نظر آتی ہے تو یہ ان کی مجبوری ہے۔بھوتوں اور چڑیلوں کو انسانی آواز نکالنے کے لئے کوئی کم تردد کرنا پڑتا ہے۔انسانی آواز میں گانے کے لئے انہیں اپنے جسم کو توڑنا، مروڑنا،بل دینا اور خود الٹا سیدھا ہونا پڑتا ہے۔تب جا کر گوہر مراد کی صورت نظر آتی ہے اور ہمیں یہ ٹرٹراتے اورمنمناتے ہوئے نظر آتے ہیں“۔

قبلہ صاحب لمحہ بھر کور کے ، گلا کھنکارا اور پھر کہنے لگے:”یونان کی دیومالا کے مطابق"Zeus"کی سات یا نو بیٹیاں تھیں، جن کو "The Muses"کہا جاتا ہے اور فنون لطیفہ، یعنی شاعری، موسیقی، مصوری، تاریخ نویسی وغیرہ کو یہی"Muses"کنٹرول کر رہی ہیں، مگر لگتا ہے کہ ان کی پاپ موسیقی کو انہی "Muses"کی کوئی ناخلف اولاد کنٹرول کر رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ موسیقی ایک باشعور آدمی کے لئے "All Greek"ہے۔اتنے میں بقراطی صاحب نے، جواب تک نیم خوابیدگی کی اوٹ میں اس قضیے سے صرف نظر کئے ہوئے تھے، عالم ہوش میں آ کے بحث کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں تھام لی....”یار تم لوگ تو مخالفت میں بہت دور نکل گئے ہو۔سارا مسئلہ طبقاتی تفاوت کا ہے۔ بالائی طبقے کا مزاج ہی یہ ہے ۔انہوں نے ہماری زندگی کے کس پہلو کو داغدار نہیں کیا،بلکہ ہماری ساری اقدار کو پامال کرنے والے بھی یہی لوگ ہیں۔اب ثقافتی ترقی کی آڑ میں انہوں نے موسیقی کی ایسی تیسی پھیر کر رکھ دی ہے۔لاکھوں کے انسٹرومنٹس کی لاکھ سنگت ہو، ان کی پھٹی جینز سے جھانکتے گھٹنوں کی ؟

”یاربقراطی“ شیخ صاحب نے دخل درنا معقولات کیا: ”انہوں نے شاید اسی بات سے بچنے کے لئے خود بھی زنانہ قسم کا روپ دھار رکھا ہے۔یار ذرا اس Samsonکی اولاد کے بال دیکھو۔ انہوں نے ہم جیسے سادہ لوحوں کو بہت دق کیا ہوا ہے۔گانے میں ساتھ لڑکی کا تڑکا لگا دیتے ہیں اور ان کے بالوں کی وجہ سے ، ہم ان کو بھی غور سے دیکھتے چلے جاتے ہیں۔میری تو آنکھیں دکھنے کو آئی ہیں“....شیخ صاحب اصل رونا آلودگی کا ہے.... بقراطی صاحب نے اپنی آنکھوں کو سہلاتے ہوئے کہا:”اس آلودگی کا خدا بُرا کرے، انسان کی ترقی کے ساتھ ساتھ یہ بلا بھی جان کو آ گئی ہے ۔ہوا کی آلودگی، پانی کی آلودگی، زمین کی آلودگی،کس کس آلودگی کا نام لوں۔ ہماری تو اقدار آلودہ، اخلاق آلودہ، قانون آلودہ، غرض سارا سماج ہی آلودہ ہوگیا ہے۔یار! اس پولوشن نے سارا معاشرہ ہی لتھیڑ کے رکھ دیا ہے۔لے دے کے ایک موسیقی بچی تھی، اس کا بھی ستیاناس کرکے رکھ دیا۔گاڑیوں ،فیکٹریوں کا دھواں تو جسم و جان کو زہر زہر کر ہی رہا تھا،ان کی موسیقی نے تو روح پر بھی کالک پھیر دی۔یارکوئی چارہ ہے کہ شہرِ موسیقی کے ان رکشاﺅں سے ہماری جان چھوٹ سکے۔”ہاں ہے“ قبلہ صاحب نے بڑی سنجیدگی سے کہا....کیا:”پاور بریک ڈاﺅن“ نہ ٹی وی چلیں گے نہ انسٹرومنٹس بجیں گے اور نہ سٹیج کی بتیاں جلیں گی تو گائیں گے کہاں سے “؟    ٭

مزید : کالم