پشاور کے صحافی کی بپتا اور صحافتی تاریخ کی تصحیح!

پشاور کے صحافی کی بپتا اور صحافتی تاریخ کی تصحیح!
پشاور کے صحافی کی بپتا اور صحافتی تاریخ کی تصحیح!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں ہونا چاہئے۔ یہ دین متین کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے، لیکن دورِ حاضر میں جو معاشرتی ناہمواریاں اور غلط اقدار اور رسومات ہیں ،ان کی وجہ سے یہی رحمت والدین کے لئے زحمت بن جاتی ہے۔ آج کتنی ایسی پھول جیسی بچیاں ہوں گی، جو غیر اسلامی اور غیر مہذب رسومات کی وجہ سے والدین کے گھروں سے رخصت نہیں ہو پاتیں ۔کوئی بھی ایسے صاحب اولاد حضرات نہیں جو اپنی بچیوں کو عزت سے رخصت کرنے کے لئے اپنی بساط بھر کوشش نہیں کرتے۔ بسا اوقات قسمت یاور ہوتی اور کبھی کبھار بدقسمتی بھی دروازے پر دستک دیتی ہے اور بیٹی دلہن نہیں بن پاتی۔ اُن والدین کی حالت کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے، جنہوں نے قطرہ قطرہ کر کے پونجی جمع کی اور بچی کو رخصت کرنے کے لئے اسباب پیدا کئے ہوں اور پھر تقدیر اُن سے وہ سب کچھ ہی چھین لے۔

پیشہ¿ صحافت دُور سے بہت چمک والا دکھائی دیتا ہے اور آج کل جب الیکٹرانک میڈیا کا بھی دور ہے، صحافیوں کے متعلق بہت کہانیاں مشہور ہیں، لیکن حقیقت اس وقت کھلتی ہے جب کسی پیشہ ور صحافی کو کوئی مشکل درپیش ہو، کوئی پریشانی لاحق ہو، اس دم معلوم ہو جاتا ہے کہ صحافی کتنے پانی میں ہے۔ یہ درست ہے کہ آج کل الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں کام کرنے والے صحافی بڑے خوش حال بھی ہیں، لیکن ایسے حضرات انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں،یہ اکثریت میں نہیں ہیں۔ بہت بھاری اکثریت تو ان محنت کشوں کی ہے جو دو وقت کی دال روٹی بھی مشکل سے کما پاتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی کو بیماری آئے یا کوئی آفت گھیر لے تو پھر اس کے لئے مالی امداد کی اپیلیں کرنا پڑتی ہیں۔

آج کے لئے موضوع تو کوئی دوسرا تھا، لیکن پشاور سے ایک صحافی بھائی کے خط نے دل ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہم خود بھی گزر اوقات والوں میں شامل ہیں ،لیکن روز نامہ ”آج“ پشاور کے سینئر سب ایڈیٹر سجاد حسین کے خط نے دہلا دیا ہے۔ پچیس سال سے دشت صحافت کی سیاحت کرنے والا یہ مرد مجاہد آج لاچار اور مجبور ہو کر اپنے لئے تعاون کا خواست گار ہے، وہ بھی اپنی ذات کے لئے نہیں، اپنی بچی کے لئے جسے دلہن بنانے کے لئے جمع کیا جہیز خاکستر ہو گیا ہے۔

سجاد حسین نے اپنی داستان غم میں تحریر کیا ہے کہ وہ چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کا باپ ہے اور وراثتی گھر میں رہتا تھا۔ اس کے مطابق وہ 16 ہزار روپے ماہوارتنخواہ لیتا ہے اور بمشکل گزر اوقات ہوتی ہے، بیٹیوں کی شادی کا وقت آیا تو اُس نے ایک صاحبزادی کے ہاتھ پیلے کر کے اُسے رخصت کر دیا۔ اس کے بعد دوسری کی باری تھی، استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے ذاتی گھر بیچ دیا اور کرائے کے گھر میں مقیم ہو گئے، پائی پائی جمع کی اور بچی کے لئے جہیز بنایا کہ یہ رسم معاشرے میں بچیوں کے والدین کے لئے ناسور بنی ہوئی ہے۔ سجاد حسین کے مطابق بدقسمتی نے اس کا گھر دیکھ لیا۔ ایک روز (ہفتہ اور اتوار) کی درمیانی شب کو اچانک گھر میں آگ لگی، جس نے جلد ہی بھڑک کر پورے گھر کو لپیٹ میں لے لیا، سجاد حسین نے بہت مشکل سے اپنی اور اپنے بچوں کی جانیں بچائیں اور ساتھ والے گھر چھلانگیں لگا کر زندگیاں بچانے میں کامیاب ہو گیا، لیکن گھر کا ایک تنکا بھی نہ بچ پایا، سب کچھ جل کر خاکستر ہو گیا، جس میں بچی کے جہیز کا بھی تمام سامان شامل تھا۔

پشاور کا یہ سینئر صحافی کہتا ہے کہ اس کے والد طلاء محمد انجم خوش نویس اور روزنامہ ” مشرق“ سے منسلک ایک دین دار شخصیت تھے۔ انہی کی پیروی میں سجاد نے پیشہ ¿ صحافت کا رخ کیا اور والد کی ہدایت پر رزق حلال کماتا رہا۔وہ کہتا ہے کہ پچیس سالہ صحافتی زندگی میں اس نے کبھی نئے کپڑے نہیں پہنے۔ لنڈا بازار سے گزارہ کیا، اس پورے عرصہ میں صرف ایک موٹر سائیکل خرید سکا کہ بچوں کی دال روٹی اور تعلیمی اخراجات سے فرصت نہیں ملتی تھی، یہی سجاد حسین آج محتاج ہو گیا ہے۔ اس کے گھر کے جلنے کی خبریں تو شائع ہو گئیں، لیکن کوئی اس کے دل کی کیفیت کو نہ پا سکا اور وہ آج در بدر ہے۔ سجاد حسین نے اپنی داستان غم تحریر کر کے بھیجی کہ اس کی مدد کے لئے آواز بلند کی جائے۔

ہمارے پیشہ کے ایک فرد کو اس مصیبت نے آ گھیرا اور وہ فریاد پر مجبور ہو گیا ۔یہاں تو قدم قدم پر سجاد حسین ہیں، جو مجبور توہیں اف نہیں کرتے۔ ہم نے ساری زندگی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے پرچم تلے اپنے رہنماﺅں کی قیادت میں صحافیوں کے معاشی استحکام کے لئے جدوجہد کی، بدقسمتی سے منزل نہ پا سکے۔ اگر فیڈریشن کو کامیابی ملتی تو شاید سجاد کو یہ اپیل کرنے کی ضروت نہ ہوتی۔ بہر حال ہم نے سجاد حسین کے خط کی بنا پر اس کی پریشانی اور مصیبت کا ذکر کر دیا ہے، حالانکہ ہمارے نزدیک یہ فرض خیبر یونین آف جرنلسٹس یعنی پشاور کے رہنما دوستوں کا تھا اور ہے کہ وہ سجاد حسین کے لئے تگ و دو کرتے تاکہ کوئی ایسا انتظام ہو جاتا جس کی بناءپر وہ اپنی بچی کے ہاتھ پیلے کر کے اسے دلہن بنا کر رخصت کر پاتا۔ اب بھی یہ صحافی بھائیوں کا فرض ہے کہ وہ کوشش کریں۔ ہم تو اس تحریر کے ذریعے اس کی پریشانی کو اُجاگر ہی کر سکتے تھے اور کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا اور وفاقی وزارت اطلاعات ونشریات اس طرف فوری توجہ دیں گی اور ایک باپ کو بیٹی رخصت کرنے میں معاونت کریں گی، کیا کوئی بھائی یہ کالم فرزانہ راجہ صاحبہ کو پڑھا کر ان کی توجہ بھی مبذول کرا سکتا ہے۔ سجاد حسین کا موبائل 0300-5861088 ہے۔

ذکر مقصود تھا برادرمحترم ملک محمد حسین کے کالم کا جو ہمارے ہی اخبار کے ادارتی صفحہ پر شائع ہوا اور انہوں نے ایک تقریب کے حوالے سے وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کی توجہ مبذول کرائی اور اس کے لئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی ایک تاریخ ساز جدوجہد کا بھی ذکر کیا ہے، تاہم انہوں نے اس تحریک اور پیپلزپارٹی کے ہمدرد صحافیوں کو ایک صف میں لا کھڑا کیا،جبکہ یہ دو الگ الگ موضوع ہیں۔ ہم خود اس تحریک کا حصہ اور ان برطرف ہونے والے200سے زائد صحافیوں میں شامل تھے، اس لئے عینی شاہد ہیں۔ یہ تحریک جس کی بنا پر 17روزہ ہڑتال کی گئی، دراصل عبوری امداد کے لئے تھی۔ ویج بورڈ کا اعلان کرنے کے بعد جو عبوری امداد دی گئی وہ صرف صحافیوں کے لئے تھی۔ پی ایف یو جے نے فیصلہ کیا کہ نہ صرف ویج بورڈ پوری صنعت کے ملازمین کے لئے ہونا چاہئے، بلکہ عبوری امداد بھی اخباری صنعت کے تمام کارکنوں کو ملنا چاہئے۔ اس فیصلے کے بعد باقاعدہ نوٹس دیا گیا اور پھر پورے ملک (ملک متحد تھا) میں ریفرنڈم کرایا گیا، فیصلہ ہڑتال کے حق میں ہوا اور ہڑتال ہوئی۔ ان دنوں جنرل (ر) شیر علی خان وزیر اطلاعات تھے ۔اُن کی نوازشات کی وجہ سے ہڑتالیوں کو پیپلزپارٹی کا حمائتی قرار دے دیا گیا اور پروپیگنڈہ بھی ہوا۔

 بہرحال یہ جدوجہد عبوری امداد کے مطالبے کی حد تک کامیاب تھی اور اسی کے نتیجے میں بعدازاں 1973ءمیں باقاعدہ قانون منظور ہوا اور ویج بورڈ کو قانونی شکل ملی۔ جہاں تک دوسرے حصے کا تعلق ہے، جس کے مطابق ملک صاحب نے پیپلزپارٹی سے ہمدردی رکھنے والوں کو نظر انداز کرنے کی بات کی ہے تو یہ اپنی جگہ الگ داستان ہے اور پیپلزپارٹی جب بھی حزب اختلاف میں ہو، اسے ترقی پسندی کے نام پر ان دوستوں کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اقتدار آ جائے تو سب کچھ بھول کر سرکاری مشینری اور موقع پرستوں پر بھروسہ کیا جاتا ہے، جو مراعات لے کر بُرا وقت آنے پر ساتھ بھی چھوڑ دیتے ہیں ۔پھر آج کل تو نظریہ وغیرہ کوئی شے نہیں رہا۔ وضاحت کے لئے معذرت اس پر بہت تفصیل سے لکھا جا سکتا ہے، لیکن یہ کالم متحمل نہیں ہوتا۔ یہ تو اتفاق ہے کہ سجاد حسین کی حالت زار کا ذکر تھا ،تو یہ بات بھی کر لی، ورنہ شاید کالم پڑھ کر داد دینے یا پھر دل میں تصحیح کر کے چپ ہو جاتے۔     ٭

مزید : کالم