پی آئی اے کے لئے پیکیج !

پی آئی اے کے لئے پیکیج !

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی حالت ابتر ہوچکی، اس کے اسباب پر مسلسل لکھا اور کہا جارہا ہے، لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی بلکہ دنیا کی اس بہترین کمپنی کو اس حال تک پہنچا دیا گیا ہے کہ اس پر سفر کرنے والے سارے راستے اللہ اللہ کرتے رہتے ہیں۔ پروازیں وقت پر آتی جاتی نہیں، طویل تاخیر اب پی آئی اے کے لئے مثال بن چکی ہے، بہت سے جہاز ناقابل استعمال ہوکر گراﺅنڈ ہوچکے اور طیاروں کی کمی ہے۔ ایسے میں مراعات کے لئے مطالبات جاری ہیں اور افرادی قوت میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ نئی انتظامیہ غور کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ کمپنی کو سہارا دینے کے لئے سرمائے کی ضرورت ہے تاکہ طیاروں کے بیڑے میں اضافہ کیا جاسکے۔ آج کے جدیددور میں جب ہوائی کمپنیوں نے جدید ترین طیارے حاصل کررکھے ہیں، پی آئی اے پرانے اور کھٹارہ طیارے چلا رہی ہے۔ اکثر یہ شکایت بھی سامنے آتی ہے کہ طیارہ اڑان بھرنے کے بعد فنی خرابی کے باعث اتار لیا گیا۔ یہ وہی پی آئی اے ہے جس پر سفر فخر سے کیا جاتا اور جس کی بکنگ کے لئے انتظار کرنا پڑتا تھا۔

تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پی آئی اے کے لئے ایک سو ارب روپے کا بیل آﺅٹ پیکیج منظور کرلیا ہے۔ یہ پیکیج پانچ سال پر محیط ہوگا جبکہ وزارت خزانہ پی آئی اے کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے اسی سال 49 ارب روپے کی گارنٹی دے گی۔ کمیٹی نے وزارت دفاع سے کہا ہے کہ وہ وزارت خزانہ سے کسی گارنٹی کے بغیر 46 ملین ڈالر کا انتظام کرکے پی آئی اے کو دے تاکہ وہ پانچ طیارے خرید کر فلیٹ میں شامل کرسکے۔

پی آئی اے کی اس منصوبہ بندی اور نئے طیارے حاصل کرنے کی تجاویز اور منصوبوں کے بارے میں بہت عرصے سے بات ہورہی تھی، اب اقتصادی رابطہ کمیٹی کی طرف سے منظوری کے بعد حقیقت ثابت ہوگئی ہے۔ پی آئی اے کو ڈوبنے سے بچانے کے لئے ایسی امداد اور تعاون کوئی غیر ضروری تو نہیں، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ جو بدانتظامی ادارے کو اس حال تک پہنچانے کا سبب بنی ہے، اسے درست کرنے کے لئے کیا کیا گیا ہے، اگر ادارے کے حالات بہتر نہیں ہوتے اور افسر و کارکن دیانت داری کے ساتھ اسے بحران سے نکالنے پر کمربستہ نہیں ہوتے تو یہ بیل آﺅٹ پیکیج بھی کچھ نہیں کرسکے گا، الٹا قوم کا اتنا کثیر سرمایہ ضائع ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ اس لئے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے منظوری دی ہے تو اس بدانتظامی کو ٹھیک کرنے کا بندوبست بھی کرنا چاہئے تھا، ورنہ یہ رقم بھی ضائع ہوسکتی ہے۔     ٭

مزید : اداریہ